آٹھویں نگران وزیر اعظم

سابق سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے 76یوم آزادی کے دن ملک کے آٹھویں نگران وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ان کی حلف برداری کی تقریب گزشتہ روز ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہوئی جہاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان سے حلف لیا جس میں سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے علاوہ سابق وفاقی وزراءاوراعلیٰ سول وفوجی حکام نے شرکت کی۔یہ بات خوش آئند ہے کہ نئے نامزد شدہ وزیر اعظم نے حلف اٹھانے سے پہلے سینیٹ اور اپنی پارٹی بلوچستان عوامی پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے جس کا مقصد بطور نگران وزیر اعظم عام انتخابات میں غیر جانبداررہنا ہے ۔سیاسی حلقوں نے ان کے اس اقدام کو سراہاہے کیونکہ مبصرین کاکہنا ہے کہ اپنی پارٹی اور سینیٹ سے مستعفی ہونے کے حوالے سے ان پر کوئی قانونی یا آئینی پابندی نہیں تھی لیکن انہوں نے بطور خود اخلاقی زمہ داری سمجھ کر خود کو حقیقی معنوں میں غیرجانبدار ی ثابت کرنے کی غرض سے ان دونوں فورمز سے استعفیٰ دیا ہے۔واضح رہے کہ انوار الحق کاکڑ پاکستان کے بلوچستان سے نامزد ہونے والے بحیثیت مجموعی دوسرے ، جبکہ بلوچستان سے پہلے پختون نگران وزیر اعظم ہیں‘یہ بات بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگی کہ انوارالحق کاکڑ پاکستان کے اب تک کے کم عمر ترین نگران وزیراعظم ہیں سیاسی اعتبار سے انوار الحق کاکڑ کا شمار بلوچستان عوامی پارٹی کے بانیوں میں ہوتا ہے ۔یاد رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی 2018انتخابات کے موقع پروجود میں آئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں بلوچستان کے صف اول کے سیاستدان شامل ہوگئے تھے۔ اس نوزائیدہ پارٹی نے بلوچستان میں دہائیوں سے سیاست کرنے والی نامی گرامی جماعتوں کو شکست دے کر 2018میں بلوچستان میں مخلوط حکومت قائم کی اور مرکز میں یہ جماعت پی ٹی آئی کی ہمرکاب بنی۔ساتھ ہی سینیٹ اور بلوچستان میں اپنی کارکردگی سے یہ جماعت کافی حد تک اپنی اہمیت ثابت کرنے میں کامیاب رہی بلکہ اب اس کا شمار بلوچستان کی مقبول جماعتوں میں ہوتا ہے جس کا واضح ثبوت اس پارٹی سے وابستہ انوار الحق کاکڑ کا ملک کا آٹھواں نگران وزیر اعظم بننا ہے جو اگر ایک طرف بلوچستان کیلئے خوش آئند ہے تو دوسری جانب یہ اس سیاسی جماعت کیلئے بھی خوش کن امر ہے۔ کہاجاتاہے کہ بلوچستان میں جس صورتحال نے جنم لیا اس میں انوارالحق کاکڑ ریاستی بیانیے کی بھرپور وکالت کرتے رہے اوروہ ریاستی بیانیے کے حوالے سے تمام تر دباﺅ کے باوجود توانا آواز ثابت ہوئے۔ا نوارالحق کاکڑ 2018ءمیں بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے تھے ۔ ملک کے علمی، ادبی طبقات اور سماجی تعلقات کے حلقوں کیلئے انوار لحق کا کڑمعروف شناخت کیساتھ صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ان کے دھیمے مزاج اور بلوچستان کے سماجی و سیاسی مسائل کو اُجاگر کرنے اور انکے حل کیلئے مدلل اورقا بل عمل تجاویز کو ہمیشہ قومی حلقوں میں سراہا گیا۔ انوار الحق کاکڑ بلوچستان کی سیاست میں پہلی بار 2008 میں اس وقت منظر عام پر آئے تھے جب انہوں نے ق لیگ کے ٹکٹ پر کوئٹہ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تھاجس میں انہیں کامیابی نہیں مل سکی تھی‘ 2015 سے 2017 تک وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری کیساتھ بلوچستان حکومت کے ترجمان رہے‘ آپ ایک پڑھے لکھے، اچھی سوجھ بوجھ اور سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک ہیں،وہ سینیٹ کی خارجہ تعلقات اور دفاعی امور کمیٹی میں بھی بہترین تجاویز کیساتھ قومی مسائل پر گفتگو میں شامل رہے ہیں۔ وہ فلا سفی،انگلش لٹریچر، فارسی‘ اردو‘ پشتو ادب پر عبور رکھتے ہیں۔ وہ سی پیک کے ایک بڑے سپورٹرمانے جاتے ہیں جب کہ وہ مسنگ پرسنز، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں شدت پسندی اور دہشتگردی کے معاملات کوبھی بخوبی سمجھتے ہیں لہٰذا توقع ہے کہ ان مسائل کے حل میں انکا تجربہ کارگر اورمعاون ثابت ہو گا۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے نگران وزیراعظم اپنے مقصد میں کامیاب ہونگے۔