سابق کپتان سرفراز احمد کی ناقص کارکردگی پر انہیں میلبرن ٹیسٹ کھلانے سے متعلق ٹیم منیجمنٹ تذبذب کا شکار ہے۔
دوسرے ٹیسٹ کے لیے وکٹ کیپر کا انتخاب منیجمنٹ کے لیے چیلنج بن گیا۔ سرفراز کی پریکٹس میچ اور پرتھ ٹیسٹ میں مسلسل ناکامی نے ٹیم کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔
26دسمبر سے شروع ہونے والے ٹیسٹ کے لیے منیجمنٹ فی الحال وکٹ کیپر سے متعلق فیصلہ نہیں کرپائی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بولرز کی انجریز اور بلے بازوں کے آؤٹ آف فام سے پریشان گرین کیپس کے کیمبی نیشن میں ایک بار پھر تبدیلیاں متوقع ہیں۔
نسیم شاہ اور حارث روف کی غیرموجودگی میں ڈیبیو کرنے والے خرم شہزاد انجرڈ ہو کر سیریز سے باہر ہوچکے ہیں۔ ان کی جگہ فاسٹ بولنگ شعبے کی ذمہ داری شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ ساتھ حسن علی یا میر حمزہ کے کندھوں پر ہو گی۔
پرتھ ٹیسٹ میں خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھانے والے وکٹ کیپر سرفراز احمد پر کڑی تنقید کی جارہی ہے اور ان کی جگہ محمد رضوان کو شامل کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ امکان یہی ہے کہ محمد رضوان کو میلبرن ٹیسٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔
آل راؤنڈر فہیم اشرف بھی پہلے ٹیسٹ میں متاثرکن پرفارمنس نہیں دے سکے جب کہ مستند اسپنر کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ساجد خان کو آزمایا جاسکتا ہے جنہیں ابرار احمد کی جگہ اسکواڈ میں طلب کیا گیا ہے۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا دوسرا میچ ’باکسنگ ڈے ٹیسٹ‘ 26 دسمبر سے میلبرن کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ اس اسٹیڈیم پر باہمی میچز میں میزبان کینگروز کو واضح سبقت حاصل ہے۔