چینی کمپنی ڈیپ سیک کے خوف سے امریکی قانون سازوں کا اینویڈیا چپس پر کڑی پابندی لگانے پر زور

حالیہ دنوں میں امریکہ میں چین کی مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اسی پس منظر میں، دو امریکی قانون سازوں نے این وڈیا کے AI چپس پر سخت برآمدی کنٹرول لگانے پر زور دیا ہے۔

یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ ایک چینی AI فرم ’ڈیپ سیک‘ نے این وڈیا کی H20 چپ کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے۔ یہ چپ فی الحال امریکی برآمدی کنٹرول کے دائرہ کار سے باہر ہے، جس سے خدشہ پیدا ہوا ہے کہ چین AI ٹیکنالوجی کو فوجی مقاصد یا سائبر حملوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

قومی سلامتی کا مسئلہ

امریکی ایوانِ نمائندگان کی چین پر بنائی گئی کمیٹی کے اراکین، جان مولینار اور راجہ کرشنامورتی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’این وڈیا‘ (Nvidia) کے H20 جیسے چپس پر پابندیاں سخت کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین پابندیوں کو نظرانداز کر کے کم لاگت والے چپس سے ترقی یافتہ AI ماڈلز بنا رہا ہے، جو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔

چینی AI ماڈلز اور سنسر شپ

ایک اور اہم مسئلہ چین میں بننے والے AI ماڈلز پر حکومتی سنسر شپ کا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ’ ڈیپ سیک’ کا AI ماڈل حساس موضوعات، جیسے تیانانمین اسکوائر قتل عام، پر بات کرنے سے گریز کرتا ہے، جو چین میں آزادی اظہار پر عائد پابندیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

این ویڈیا (Nvidia) کا ردِعمل

این ویڈیا نے اس معاملے پر وضاحت دی ہے کہ اس کی تمام مصنوعات امریکی حکومت کے موجودہ قوانین کی مکمل تعمیل کرتی ہیں۔ کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر برآمدی قوانین میں مزید سختی کی گئی تو وہ اس پر حکومت کے ساتھ تعاون کرے گی۔

یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی دوڑ شدت اختیار کر رہی ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید سخت پالیسیاں نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔