جگر کے کینسر میں تیزی سے اضافہ: بڑی وجہ دریافت

برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں جگر اور لبلبے کے کینسر سمیت مختلف مہلک اقسام کے سرطان کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، ذیابیطس سے متاثرہ خواتین میں لبلبے کے کینسر کا امکان تقریباً دوگنا جبکہ جگر کے کینسر کا خطرہ پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح، ذیابیطس کے شکار مردوں میں اگلے پانچ سالوں کے دوران لبلبے کے کینسر کے امکانات 74 فیصد جبکہ جگر کے کینسر کا خطرہ تقریباً چار گنا بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق، ذیابیطس سے متاثرہ مردوں اور خواتین میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ بھی بالترتیب 27 اور 34 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کو ایک عام بیماری سمجھنے کی بجائے ایک سنگین طبی مسئلہ تسلیم کرنا چاہیے کیونکہ یہ مہلک کینسر سمیت دیگر کئی پیچیدہ بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو اپنی طرز زندگی میں فوری تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے تاکہ اس سنگین خطرے کو کم کیا جا سکے۔