یک نہ شد دو شد


یہ خدشہ ان سطور میں قبل از وقت پیشگی طور پر ظاہر کیا گیا تھا کہ اگر سرکار نے گزشتہ سال کی طرح امسال 2024-25ء کے بجٹ میں بھی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں یعنی جامعات کا چلنا محال ہو جائے گا‘ وہ اس لئے کہ محض بجٹ اعلانات سے تو کام نہیں چلتا بلکہ اضافے کی ادائیگی بھی کرنا پڑتی ہے اور اس کے لئے مالی وسائل یعنی گرانٹ کی فراہمی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ گزشتہ سال گریڈ 16 تک کے لئے 35 اور اس سے اوپر والوں کے لئے 30 فیصد اضافے جبکہ پنشن میں 17.50 فیصد اضافے کا جو اعلان کیا گیا تھا وہ ایک سال گزرنے کے باوجود محض اعلان ہی رہا کیونکہ حکومتی کتاب میں غالباً یونیورسٹیوں کے ملازمین سرکاری ملازمین کے زمرے میں نہیں آتے لہٰذا سارے ملک نے اضافہ لے لیا مگر جامعات محروم رہیں اور وہ اس لئے کہ اضافے کی ادائیگی کے لئے کوئی اضافی گرانٹ نہیں ملی۔ اب حالت یہ ہے کہ جامعات انتظامیہ نے کچھ ناگزیر کٹوتیاں کر کے اور بعض غیر متعلقہ اکاؤنٹس سے پیسے نکال کر کلاس تھری اور کلاس فور کو تو 35 فیصد اضافہ دیا گیا لیکن گریڈ 17اور اس سے اوپر کے تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کے چار مہینوں اور پنشن کے پورے 9 مہینوں کے بقایاجات تاحال واجب الادا ہیں‘ اب یہ جو نیا اضافہ سامنے آیا ہے اس کے لئے تو یہ بات پہلے سے عیاں ہے کہ جامعات کے ہاں اس کی ادائیگی کے لئے 
کوئی مالی وسائل نہیں جبکہ حکومت گزشتہ سال کی طرح امسال بھی محض اعلان پر اکتفا کرے گی لہٰذا جواب طلب پہلو یہ ہے کہ پھر ہو گا کیا؟ یعنی ملازمین نہایت صبر و استقامت کے ساتھ اچھے دن کا انتظار کریں گے؟ یا دو تین مہینے بعد ایک بار پھر ہڑتالوں‘ تالہ بندیوں اور دھرنوں کا ایک 
نیا سلسلہ شروع ہو گا اور یونیورسٹیاں ناکام حکومت‘ نااہل انتظامیہ اور گو وی سی گو کے نعروں سے گونج اٹھیں گی جہاں تک گو وی سی گو کے نعرے کا تعلق ہے تو میرے خیال میں اب اس میں بھی کوئی وزن کوئی زور نہیں رہا کیونکہ وائس چانسلر ہیں کہاں؟ 25 یونیورسٹیاں خالی ہیں جبکہ مزید بھی آئندہ دو تین مہینوں میں خالی ہو جائیں گی جبکہ سرکار کی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ کام کو ایڈہاک ازم کے تحت چلانے پر اکتفا کیا جا رہا ہے‘ دوسرے مالی سال کے بجٹ اعلان سے ملازمین کی تنخواہ میں ہونے والا اضافہ 50 فیصد 
سے بھی آگے بڑھ گیا ہے جبکہ پنشن بھی اس کے قریب تر نظر آ رہی ہے اور جو صورتحال سامنے ہے وہ یہ کہ ریٹائرڈ ملازمین نہ صرف گزشتہ سال کے 17.50 فیصد کے 9 مہینوں کے بقایاجات کے حصول میں نالاں نظر آ رہے ہیں بلکہ ہر یونیورسٹی ان کی گریجویٹی کے کروڑوں روپے کی بھی مقروض ہے‘ دوسری جانب اخراجات کا یہ عالم ہے کہ بے تحاشا مہنگائی نے اس میں 100سے لے کر 500 فیصد اضافہ کر دیا ہے بلکہ المیہ یہ ہے کہ کفایت شعاری کے ذریعے اس میں کمی لانے کی کوئی کوشش دور دور تک بھی نظر نہیں آ رہی‘ وہی شاہانہ کلچر یعنی گاڑیوں‘ ایئر کنڈیشنڈ اور بجلی و گیس کا بے دریغ استعمال‘ سولرائزیشن کی جانب جانے سے پہلوتہی اور ہفتے میں خواہ مخواہ دو چھٹیوں کے نظام کو دوام دیا جا رہا ہے لہٰذا یہ بات طے ہے کہ تنخواہوں اور پنشن کے بجٹ اضافہ جات کے لئے جامعات اساتذہ کی فیڈریشن کے مطالبے کے مطابق اضافہ نہیں کیا گیا اور اضافے کی ادائیگی کے لئے جامعات کی گرانٹ دوگنی نہیں کی گئی تو جامعات میں ایک بار پھر احتجاج ہو گا‘ ہیجان خیزی‘ افراتفری اور بدنظمی پھیلے گی اور یوں جامعات کے نظام اور تعلیم و تدریس کا جو حشر ہو گا وہ سب کے سامنے ہو گا کیونکہ محض اس سے تو کام نہیں چلے گا کہ حکومتی پارٹی کے چہیتے یہ کہتے پھریں کہ عوام دوست بجٹ پیش کیا گیا ہے اور اپوزیشن کے نعرہ بازوں کی طرف سے اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ اور عوام دشمن قرار دیا جائے۔