پاکستانی طلباء کا کارنامہ، چاول کا معیار جانچنے والا جدید سافٹ وئیر تیار کرلیا

کراچی: این ای ڈی یونیورسٹی میں قائم قومی مرکز برائے مصنوعی ذہانت کے اساتذہ اور طلباء نے پاکستان کا پہلا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپیوٹر سافٹ ویئر تیار کرلیا ہے جو چاول کے دانوں کا سیکنڈوں میں مشین لرننگ کے ذریعے تجزیہ کرکے اس کے معیار کا تعین کرتا ہے۔

سافٹ ویئر کو رائس کوالٹی اینالائرز کا نام دیا گیا ہے جو ایک منٹ میں چاول کے دانوں کا تجزیہ کرکے چاول کی لمبائی، موٹائی، ٹوٹے ہوئے دانوں کا تناسب، اوسط وزن اور دیگر اہم خصوصیات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

اس سافٹ ویئر نے اب تک کی آزمائش میں 99فیصد نتائج دیے ہیں۔پاکستانی سافٹ ویئر کا موازنہ جاپان کے جدید سافٹ ویئر سے بھی کیا گیا اور پاکستان میں تیار کیے گئے سافٹ ویئر کے نتائج کو جاپانی سافٹ ویئر کے ہم پلہ پایا گیا۔

سافٹ ویئر تیار کرنے والی ٹیم کے رکن اورنیشنل سنٹر فار آرٹیفشل انٹیلی جنس کے ریسرچ ایسوسی ایٹ حافظ احسن الرحمان کے مطابق چاول کے معیار کا تعین اور درجہ بندی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال پاکستان کی رائس انڈسٹری کی ترقی میں ایک سنگ میل ہے۔

چاول کے معیار کے تعین کے روایتی دستی طریقے میں 2.5ٹن چاول کی لاٹ میں سے 8کلو گرام چاول کے نمونے جمع کیے جاتے ہیں جن میں سے مزید نمونے منتخب کرکے انسانی آنکھ،تجربہ اور مینوئل آلات کی مدد سے چاول کے نمونوں کا جائزہ لیا جاتا ہے ایک نمونے کی جانچ میں کم سے کم ایک گھنٹہ لگتا ہے اور ہر نمونے کی جانچ پر ہزاروں روپے کے چارجز لگتے ہیں۔


حافظ احسن الرحمان کے مطابق اس وقت یہ سافٹ ویئر چاول کی 7اہم خصوصیات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اگلے مرحلے میں چاو ل کی رنگت، پیلاہٹ، سرخ نشانات وغیرہ کا بھی تجزیہ اور نشاندہی کی صلاحیت شامل کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ چاول کے  معیار کا تجزیہ کرنیو الے امریکی کمپنی کے تیار کردہ خودکار اسکینر اور سافٹ ویئر کی قیمت پاکستانی 6لاکھ روپے ہے جس کی مدت ایک سال ہے۔


سافٹ ویئر تیار کرنے والی ٹیم اس سافٹ ویئر کی سہولت دو طرح سے فراہم کرنے پر غور کررہی ہے پہلے طریقے میں ٹریڈرز، ایکسپورٹرز یا ملرز کی ارسال کردہ چاول کے دانوں کی تصاویر کی بنیاد پر تجزیہ کرکے نتائج مہیا کیے جائیں گے۔ دوسری صورت میں سافٹ ویئر کے استعمال کے حقوق کسی مخصوص مدت کے لیے فروخت کیے جائیں گے۔

پاکستانی سافٹ ویئر کی سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیر شروع کردی گئی ہے جس میں پاکستانی رائس کمپنیوں کے علاوہ، انڈونیشیا، انڈیا، سری لنکا اور دیگر ممالک کی رائس انڈسٹری سے بھی بھرپور رسپانس موصول ہورہا ہے۔

اس کے علاوہ اس نظام کی مدد سے چاول کے معیارکی بنیاد پر چاول کی پیداوار والے اچھے علاقوں کی نشاندہی ہوسکتی ہے اور مقامی و بین الاقوامی مارکیٹ میں چاول کے کاشتکاروں کی محنت کا  بہترین معاوضہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔