سیاسی میدان میں ہمیشہ کچھ لو اور کچھ دو کا نسخہ استعمال ہوتا آیا ہے اور یہ نسخہ تیر بہدف ہے بھلے دو افراد میں مکالمہ ہو رہا ہو یا دو ممالک میں، زور زبردستی سے کسی بھی مسئلہ کا دیرپا حل اور نتیجہ کبھی نہیں نکلا امریکہ کی سابقہ ایڈمنسٹریشن،طالبان اور افغان گورنمنٹ کے درمیان ایک عرصے سے ڈائیلاگ چل رہا تھا جو بدقسمتی سے ٹرمپ کے دور اقتدار میں پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے اس ڈائیلاگ کا دھاگا اسی جگہ سے اٹھایا ہے کہ جہاں پر ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ اسے چھوڑ گئے تھے جو معاہدہ سابقہ امریکی ایڈمنسٹریشن اور طالبان میں ہوا تھا اور جس قسم کی مفاہمت ان دونوں فریقین کے درمیان ہوئی تھی اس میں کچھ ترمیم اور ردوبدل کی بات سننے میں آ رہی ہے بادی النظر میں صدر ٹرمپ اور طالبان کے درمیان جو مفاہمت ہوئی تھی اس کے بارے میں افغان گورنمنٹ کے کافی تحفظات تھے یہ بات تو طے ہے کہ موجودہ افغان گورنمنٹ بھارت کیلئے اپنے دل میں نہایت ہی نرم گوشہ رکھتی ہے بھارت کو سو فیصد اس بات کا یقین ہے کہ اگر امریکہ اور طالبان کے درمیان کوئی ایسی انڈرسٹینڈنگ ہو جاتی ہے کہ جس کے تحت افغانستان کے بیشتر صوبوں میں ثانی الذکر برسر اقتدار آ جاتے ہیں تو اس صورت میں پھر اس کیلئے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ کھل کر بغیر کسی رکاوٹ اور خوف خطر کے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے اندر تخریبی کاروائیوں کیلئے استعمال کرے کہ جس طرح 1947 سے وہ کرتا آیا ہے افغان گورنمنٹ کا یہ گلہ ہے کہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن اور طالبان کے درمیان بات چیت کے سلسلے کے بعد جو معاہدہ عمل میں آیا تھا اس کے بعد بھی افغانستان میں تخریبی کاروائیاں تواتر سے ہو رہی ہیں جن کیلئے وہ طالبان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں طالبان البتہ افغان گورنمنٹ کے اس الزام کو درست قرار نہیں دیتے اور ان کی دانست میں کوئی تیسرا فریق ان تخریبی کاروائیوں میں اس لیے ملوث ہے کہ اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کیلئے طالبان کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے اور افغانستان میں ایسی فضا پیدا کردی جائے کہ جس سے امریکی افواج کو وہاں مزید رہنے کا موقع مل سکے ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ بھارت کی بھی یہی مرضی ہے کہ افغانستان میں طالبان یا ان کے ہم فکر لوگ کبھی بھی برسر اقتدار نہ آئیں اور وہاں صرف وہی افراد ایوان اقتدار پر قابض رہیں کہ جو بھارت کیلئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہوں امریکہ چین کے خلاف اپنی دشمنی میں بھارت کو بطور فرنٹ سٹیٹ استعمال کر رہا ہے اور اس ضمن میں بھارت اس کے ساتھ جو مہربانی کر رہا ہے اس کے بدلے میں وہ افغانستان کے معاملات میں بھارت کے نکتہ نظر کو نظر انداز نہیں کر سکتا لگ یہ رہا ہے کہ مستقبل قریب میں افغانستان کی سختی معاف نہیں ہونیوالی اور جب تک اس کی سختی معاف نہیں ہوگی وہاں پر انتشار رہے گا افغانستان اور پاکستان آپس میں جغرافیائی طور پر اتنے نزدیک ہیں کہ اگر افغانستان کو زکام لگ جائے تو پاکستان کو کھانسی کی شکایت خامخواہ پیدا ہوتی ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو بھی بھلے وہ حزب اختلاف میں ہوں یا حزب اقتدار میں کچھ لو اور کچھ دو کے کلیے کو اپنی سیاست میں ضرور استعمال کرنا چاہئے۔