انصاف کا دوہرا معیار 


 دوسری جنگ عظیم کے دوران اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے کابینہ کا اجلاس بلا کر اپنے وزراء کے سامنے یہ سوال رکھا کہ کیا ہمارے ملک میں انصاف ہے تو کسی نے نفی میں جواب نہیں دیا بلکہ سب یک زبان ہو کر کہنے لگے کہ ملک میں مکمل انصاف کا دور دورہ ہے اور ہر کسی کو اسکا حق ملتا رہتا ہے۔ یہ سن کر چرچل بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ ہم جنگ نہیں ہارینگے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر عوام کو انصاف بروقت ملتا رہے تو انہیں اپنی حکومت اور ریاست پر اعتماد ہوتا ہے اور اسطرح پوری قوم ملکر ایک مضبوط قوت بن کر دشمن کا مقابلہ کرتی ہے اسلامی تاریخ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ وہ ایک مدبر ہونے کیساتھ ساتھ انتہائی بہادر‘ دبدبہ اور رعب رکھنے والے انسان تھے۔ جن کے نام سے اسوقت کے بڑے بڑے حاکم اور بادشاہ لرزتے تھے۔ ایک دفعہ خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ جمعے کی نماز ادا کرنے کیلئے چند لمحے لیٹ آئے تو مسجد کے دروازے پر کھڑے حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ نے ناراضگی کے انداز میں کہا کہ ہم آپکے نوکر نہیں ہیں کہ نماز کیلئے دیر تک آپکا انتظار کرینگے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کچھ کہے بغیر سیدھے منبر پر جاکر خطبے کیلئے کھڑے ہو گئے  انہوں نے خطبے کی ابتداء ان الفاظ سے کی کہ اگر کسی ملک میں زید بن حارثؓ جیسے لوگ موجود ہوں تو حاکم وقت سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہو گی۔ اور اپنے دیر سے آنے کی وجہ بتاتے ہوئے وضاحت کی کہ چونکہ میرا ایک ہی کرتہ ہے جسے ہفتے میں ایک بار دھوتا ہوں۔ آج اسکے دھونے کا دن تھا اور اسکے سوکھنے میں کچھ دیر لگ گئی اور کرتے کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ اب بھی اس میں کچھ نمی باقی ہے۔ کئی ہفتے قبل اسلام آباد میں ایک دیو ہیکل گاڑی کی زد میں آکر ایک چھوٹی سی موٹر کار میں سوار پانچ نوجوانوں میں سے چار موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا جسے مقامی سرکاری ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا یہ پانچوں نوجوان روزگار کی تلاش میں انٹرویو کیلئے مانسہرہ سے اسلام آباد آئے تھے۔ عینی شاہدین سے پتہ چلا ہے کہ کشمالہ طارق اور اسکے خاندان کی دوسری گاڑی ٹریفک سگنل توڑ کر سیدھی سوزکی کار پر چڑھ دوڑی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے کشمالہ طارق کا بیٹا اذلان خان چلا رہا تھا۔ کشمالہ طارق اسوقت محتسب برائے ہراسیت کے سب سے اعلیٰ منصب پر فائز ہیں۔ انکے شوہر بھی انکے ساتھ گاڑی میں موجود تھے۔ جبکہ انکی سرکاری گاڑی بھی پیچھے آرہی تھی، جسے اسکا ڈرائیور چلا رہا تھا۔ کشمالہ طارق نامی گرامی وکیل ہیں اور ان کا منصب ایک جج کے برابر ہے۔حادثے کے فوراً بعد کشمالہ طارق صاحبہ نے بیان دیا کہ بڑی گاڑی ڈرائیور چلا رہا تھا جبکہ عینی شاہد زخمی نوجوان نے بیان دیا ہے کہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سے اذلان خان اترا تھا۔ اسکے علاوہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے  سے بھی کہا جا رہا ہے کہ گاڑی اذلان خان چلا رہا تھا جو وقوعہ کے بعد پیچھے آنے والی گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہو گیا۔وزیراعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزراء سے فوری طور پر اضافی سیکورٹی واپس لینے ہدایت کی، جسکے ممکنہ نتائج اچھے ثابت ہو سکتے ہیں۔ مرنے والے نوجوانوں میں ایک نوجوان انیس اپنے چار بھائیوں میں سب سے بڑا تھا جبکہ باقی تینوں بھائی معذور ہیں۔ آج اسکے گھر والوں کی کیا حالت ہو گی۔ ان تینوں معذوروں کی رکھوالی کیسے ہو گی، کوئی نہیں جانتا۔ دوسرا بائیس(22)سالہ نوجوان جسکی دو ماہ بعد شادی ہونے والی تھی اسکی ماں کو جب اسکی موت کی خبر پہنچی تو وہ بے ہوش ہو گئیں جو کافی دنوں تک اسی حالت میں رہی۔ اس گھر کے آنگن میں اسوقت خوشی کی بجائے ماتم اور دکھ ہے۔ ان چار بدقسمت نوجوانوں کو اسلام آباد سے مانسہرہ لے جانے کی بات سن کر دکھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ایمبولینس والوں نے پچاس اور ساٹھ ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا جو ظلم کے اوپر ظلم تھا۔ انکے دل خوف خدا سے عاری ہو گئے تھے۔دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ اذلان خان کے دفاع کیلئے سارے وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ایک ذمہ دار سرکاری شخص نے تو یہاں تک کہا کہ اسطرح کے حادثات تو روزانہ ہوتے رہتے ہیں۔ کسی نے خوب کہا کہ اگر اس شخص کا اپنا بیٹا اس حادثے کا شکار ہوتا تو شاید وہ یہ درد محسوس کر لیتا اور اسطرح کا بیان نہ دیتا۔کشمالہ طارق صاحبہ نے حادثے کے فوراً بعد اپنے بیٹے اذلان خان کی گرفتاری سے پہلے ضمانت (بی بی اے) کرائی۔کشمالہ طارق صاحبہ کو اللہ تعالیٰ نے بڑی عزت دی ہے اور ایک بہت ذمہ دار منصب پر فائز ہیں۔ یہ ان کے امتحان کی گھڑی ہے اگر وہ اس آزمائش پر پورا اتری تو نہ صرف اس دنیا میں ان کی عزت و وقار میں اضافہ ہوگا بلکہ آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں سرخرو ہو گی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی تشریح کچھ یوں کی ہے کہ اسکی مثال ایک درخت کی ہے، جسکی جڑیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اسکے نبی کو آخری نبی ماننا، نماز روزہ زکوٰۃ اور حج وغیرہ جبکہ اسکا پھل جہاد فی سبیل اللہ ہے جس میں مظلوموں کیلئے آواز بلند کرنا ہے۔ آج کتنے لوگ ان مظلوموں کیلئے آواز بلند کر رہے ہیں۔ گاڑی 200 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جا رہی تھی اور سرخ بتی کی پرواہ بھی نہیں کی گئی کسی بھی ڈرائیور کی اتنی ہمت نہیں ہو سکتی کہ مالکان ساتھ گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہوں اور وہ اتنی تیز رفتار سے گاڑی چلائے یہ ناممکن ہے۔ یہ واقعہ حکومت کیلئے بھی ایک ٹیسٹ کیس ہے اگرچہ کچھ لوگ ٹی وی چینلز پر آکر واقعے کی مذمت اور مظلوموں کو انصاف دلانے کی بات کرتے ہیں مگر جس طرح اس واقعے کی تشریح کی ضرورت ہے وہ نہیں ہو رہی۔