امریکہ کی تاریخ جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ پندرھویں صدی عیسوی کے آخر میں (1492ء) میں ایک اطالوی مہم جو کولمبس سپین کے بادشاہ کی مدد سے انڈیا کو معلوم کرنے کی غرض سے نکلا لیکن امریکہ دریافت کیا۔ ا±س دور میں انڈیا کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا اسلئے تاجر، سیاح اور مہم جو انڈین سونے و جواہرات اور مصالحہ جات کے حصول کی خاطر یہاں پر پہنچنے کیلئے نکلتے تھے۔کولمبس پہنچا تو امریکہ لیکن سمجھا کہ وہ انڈیا پہنچ گیا ہے اسلئے وہاں کے رہائشی جو رنگ کے سرخ تھے کو”ریڈ انڈینز“کہا۔ جب وہ 1493ءکو واپس سپین پہنچا تو چونکہ وہ امریکہ کو انڈیا سمجھتا تھا اسلئے بادشاہ وقت کو کہا کہ انڈیا کو فتح کرنا بہت آسان ہے کیونکہ وہ صرف پرانے طرز کے تیروکمان سے آراستہ ہیں اور ملک کافی زرخیز اور میدانی علاقوں پر مشتمل ہے۔ کولمبس کی اس کامیاب مہم جوئی کی خبر پورے یورپ کو پہنچی اور یہیں سے مغربی ممالک کی کمزور ممالک کو ہڑپ کرنے کی مہم جوئی شروع ہوئی۔ اسے ”ویسٹرن کالونائیزیشن پیریڈ“ یا”ماڈرن انسلیومنٹ پیریڈ (جدید غلامی کا دور)“ بھی کہتے ہیں۔ اس دور کا آغاز سولہویں صدی عیسوی سے شروع ہوا۔ انگلینڈ، فرانس، سپین اور دوسرے یورپی ممالک نے امریکہ پر حملے شروع کر دئیے۔ یہ جنگیں وہاں پر اینگلوسیکسن گوروں کی آبادکاری اور ریڈ انڈینز کے خاتمے اور غلامی پر منتج ہوئےں۔ آج وہی امریکہ جو گوروں کی طاقت و ثروت کی علامت بنا ہوا ہے، اندرونی طور پر زبوں حالی اور شکست و ریخت کا شکار ہے۔امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہارنے کے بعد جو ماحول بنا ہے وہ مستقبل میں وہاں پر حالات مزید خراب ہونے کا پیش خیمہ ہے۔ ان کے حامیوں نے ٹرمپ کے ہارنے پر کیپیٹل ہل کو کچھ وقت کیلئے محاصرے اور قبضے میں رکھا اور پھر فوج نے ان سے جگہ خالی کروائی لیکن اگلی بار ٹرمپ کے سفید فام حامی بہتر تیاری سے لوٹ آسکتے ہیں۔ اکیسویں صدی عیسوی میں ٹرمپ ہی وہ شخص تھا جو سی آئی اے کا حمایت یافتہ نہیں تھا جبکہ سی آئی اے جو بائیڈن کےلئے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ہمیں سابقہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہزار اختلاف سہی لیکن وہ ہی ایک شخص تھا جس نے امریکہ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کےخلاف عملی اقدامات اٹھائے اور بل گیٹس جسکے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن میں اکثریتی شیئرز ہیں، کے خلاف بھی تھا، کیونکہ بل گیٹس لاک ڈاو¿ن کا حامی تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مسلسل لاک ڈاو¿ن ملک کی معیشت کو ڈبو دے گا اور امریکہ خانہ جنگی کی طرف چلا جائے گا۔ اس کی بات میں کافی وزن لگتا ہے کیونکہ امریکی اینگلوسیکسن معاشرہ خالص مادہ پرستی پر مبنی اور رینڈ انڈینز کو لوٹ مار کے بنایا گیا ہے۔ تبھی تو امریکی گوروں کو کاو¿ بوائزکہتے ہیں، جو لوٹ کھسوٹ کے لوگ تھے اور ہیں۔ کیپٹل ہل پر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست پر غم و غصّے کے اظہار کےلئے اس کے حامیوں کی یلغار اس بات کی نشاندہی ہے کہ یہ معاشرہ اب زوال کی جانب گامزن ہو گیا ہے۔ وہ امریکہ جس کے افغانستان جیسے خطرناک علاقے میں چند ہزار فوجی موجود ہیں لیکن صدر جو بائیڈن کی بطور صدر تقریب حلف برداری کےلئے افغانستان میں تعینات فوجیوں سے کئی گنا زیادہ کی تعداد میں فوجی تعینات کر دئیے۔ امریکی تاریخ میں شاید یہ پہلا تاریخی واقعہ تھا کہ نو منتخب صدر کو ہارے ہوئے صدر کے حامیوں سے جان کا خطرہ درپیش ہوا ہو۔امریکہ اکیسویں صدی کی ایک سپر پاور ہے جس نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور معاشی و عسکری قوت کی انتہا کو چھو لیا ہے۔ شاید ہی ایسا طاقتور ملک اس صدی میں وجود میں آسکے جو امریکہ سے عظیم تر ہو۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ سال 2020ءکےلئے امریکہ کا دفاعی بجٹ 721.5 ارب ڈالرز تھا اور وہ ہر سال اسے بڑھا دیتے ہیں۔ امریکہ کا دفاعی بجٹ پوری دنیا کے مجموعی دفاعی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے۔امریکہ کے پوری دنیا میں فوجی اڈے موجود ہیں اس لیے دفاعی بجٹ کو وقتاً فوقتاً بڑھانا ضروری بھی ہے، تبھی تو اس کی پوری دنیا پر اجارہ داری اور تھانیداری مستحکم رہے گی۔ اس لیے فی الحال ایسی کوئی بیرونی زمینی طاقت موجود نہیں جو اس کو ہرا سکے یا نیچا کر دکھائے۔ اسلئے اس ملک کا زوال اندر سے ہی ہو گا۔ کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں مسلسل لاک ڈاو¿ن نے وہاں کے عوام میں بےروزگاری، معاشی تنگی اور بے چینی بڑھا دی ہے۔حال ہی میں امریکہ کی سرکاری ادارے سینٹر فار ڈیزیز اینڈ کنٹرول نے ایک اور وارننگ جاری کر دی ہے جسمیں کہا گیا ہے کہ امریکی قوم کو کورونا ویکسینیشن کے سائیڈ ایفیکٹ کے نتیجے میں زومبیز انسان پیدا ہونے کے پیشِ نظر اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہئے اورحفاظتی بیگ تیار رکھنے چاہئیں۔ اس سے پہلے ایک وارننگ 2010ءمیں جاری ہوئی تھی جس میں مستقبل کے بارے میں اس طرح کی ہدایات دی گئی تھی۔ ٹرمپ جنگوں کے خلاف تھا اور اس کے خاتمے کے لئے اس نے کافی اقدامات کیے۔ یہ بات جنگی جنون میں مبتلا امریکی اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں تھی۔ اس کے برعکس سی آئی اے حمایت یافتہ جو بائیڈن جنگوں کے خلاف نہیں ہے۔جس طرح 08-2007ءمیں امریکی معاشی زوال نے پورے یورپ کو بھی ہلا کے رکھ دیا تھا اورجس کے اثرات ابھی تک وہ محسوس کر رہے ہیں۔ اسی طرح ریاست ہائے متحدہ امریکہ خالصتاً مادہ پرست مغربی لوگوں کی پہچان ہے اس لئے امریکی ایمپائر کے زوال پر یورپ کا کیا حشر ہوگا اسکا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں اور اسکے ردعمل کے طور پر یورپ والے ایک بار پھر کمزور اقوام کے مال و دولت کے حصول کے لئے ان پر جنگیں مسلط کرنے اور خون خرابے کا بھی سوچ سکتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال نے مغربی تہذیب رکھنے والوں کے بارے میں کیا خوب کہا ہے۔۔۔ تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کریگی کیونکہ جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا۔