سوشل میڈیا، فائدے اور نقصانات

 انٹرنیٹ بیسویں صدی کے آخری عشرے کی ایجاد ہے مگر اسے بام عروج پر پہنچانے کا سہرا اکیسویں صدی کو حاصل ہے۔ اس ایجاد کو اکیسویں صدی کا شاہکار بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس کی بدولت کمیونی کیشن نظام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اپنے عروج کو پہنچ گئی ہے، دنیا میں ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں کے فاصلے سمٹ گئے ہیں اور پوری دنیا ایک گلوبل ویلج بن گئی ہے،یہ کہنا بجا ہو گا کہ ہم تیز تر اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکے ہیں‘ پہلے پہل کسی کتاب یا معلومات کےلئے بہت کھوج لگانا پڑتا تھا لیکن اب انٹرنیٹ اور گوگل پیج پر صرف ایک کلک کی دیر ہوتی ہے اور ساری معلومات سیکنڈوں میں ہمارے سامنے حاضر ہو جاتی ہیں۔ ہر طبقہ فکر اور علم کے متلاشی لوگوں کے لئے ہر طرح کی کتابیں، معلومات اور لیکچرز آن لائن مفت پڑے ہوتے ہیں۔ آپ چاہے ان کتابوں کو مفت میں آن لائن پڑھیں یا پھر ڈاو¿ن لوڈ کر لیں۔ اگر کوئی شخص آن لائن نہیں پڑھنا چاہتا تو اس کےلئے اس کی پسند کے سکالرز اور ٹیچرز کے لیکچرز یوٹیوب چینل پر پڑے ہوتے ہیں۔ وہ جب چاہے وہاں جاکر دیکھ سکتا ہے۔اس انٹرنیٹ کی وجہ سے ہی اب تک بہت سارے کمیونی کیشن اور سوشل میڈیا ایپس وجود میں آچکی ہیں، جیسا کہ فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ، میسنجر، وائبر، وی چیٹ اور ٹک ٹاک وغیرہ وغیرہ۔ ان سوشل میڈیا ایپس نے جیسے انسانوں کی زندگیوں میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے اور ہماری زندگیوں کو بہت سہل بنا دیا ہے۔ ان ایپس کی بدولت دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے آپ اپنے کسی بھی دوست، عزیز یا رشتہ دار کو معلوم کرکے ان سے رابطہ یا بات کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ بھی ان ایپس کا استعمال کرتا ہو۔ ان سارے ایپس میں فیس ب±ک سرفہرست ہے جس کی بدولت آپ اپنے برسوں سے بچھڑے ہوئے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ دوبارہ اسی ایپ کے ذریعے جڑ سکتے ہیں۔ وہ معلومات جو آپ کو دوسرے بڑے بڑے میڈیا ہاو¿سز بروقت نہیں دے سکتے یا ان کی پہنچ سے باہر ہیں، انہی ایپس کے ذریعے سیکنڈوں اور منٹوں میں ہمیں مل جاتی ہیں۔ مگر ان ایپس کے صحیح استعمال کےلئے کسی بھی فرد کا باشعور اور پڑھا لکھا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ سوشل میڈیا پر کسی بھی جھوٹی خبر کو بغیر تحقیق کئے آگے نہ پہنچایا جائے۔جس طرح ہر چیز کو اگر مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس کے فائدے ہوتے ہیں‘ اسی طرح غلط استعمال کرنے پر اس کے نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ چونکہ سوشل میڈیا پر ہر کسی کو ہر طرح کی آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہے اور صحیح و غلط خبر کو جانچنے اور پرکھنے کا کوئی ٹھوس نظام ابھی تک وضع نہیں کیا گیا، اس لئے گھناو¿نے عزائم رکھنے والے کچھ مخصوص گروپس اور نادیدہ قوتیں اپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کےلئے اپنے مخالفین کے خلاف غلط خبریں بطور پراپیگنڈہ پھیلاتی رہتی ہیں۔ کچھ ناپختہ اور سادہ لوح اذہان اسے غلط طریقہ سے استعمال کرتے ہوئے غلط اور جرائم پیشہ عناصر کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ کچھ تو اپنی عزت گنوا بیٹھتے ہیں جبکہ کچھ اپنی جان و مال ‘اور پھر پچھتاوے کے علاوہ انہیں کچھ ہاتھ نہیں آتا۔آج کل سوشل میڈیا پر بہت سی غلط معلومات پراپیگنڈہ کے طور پر مخالفین کے متعلق پھیلائی جاتی ہیں تاکہ ان کا امیج خراب کرکے انہیں عوام کی نظروں میں گرایا جا سکے۔بالکل یہی حال مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے ساتھ ہوا تھا جب کچھ لوگ بیروزگاری اور مہنگائی سے تنگ آکر احتجاج کےلئے سڑکوں پر نکل آئے تو مخالفین خاص کر غیر ملکی دشمن قوتوں (ایجنسیوں) نے اسے حسنی مبارک سے چھٹکارا پانے کا ایک سنہری موقع جانا اورہر قسم کی حکومتی پابندیوں سے آزاد سوشل میڈیا ایپس خاص کر ٹویٹر اور فیس بک کا آزادانہ مگر غلط استعمال کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ حکومت کے خلاف احتجاج کےلئے مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے تحریر سکوائر میں جمع ہو سکےںاور اسی طرح عوام اور حکومتی اداروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد فیس ب±ک اور ٹویٹر انتظامیہ مصری صدر کو صدارت سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئی۔عرب ممالک میں عوام کو مہنگائی اور دوسرے مسائل کے بارے میں اپنی حکومتوں کے بارے میں بھڑکانے میں بھی فیس ب±ک، ٹویٹر اور دوسرے ایپس کا ہاتھ رہا ہے جسے سی آئی اے، ایم آئی 6 اور دوسرے یورپی ممالک کی ایجنسیوں نے ”عرب سپرنگ“ کا نام دیکر لیبیا کے کرنل قذافی اور مصر کے صدر حسنی مبارک کا تختہ الٹ دیا اور شام کو بھی بشار الاسد سے چھڑانے اور جمہوری تبدیلی لانے کے نام پر تباہ و برباد کر ڈالا۔کچھ ایپس جیسا کہ ٹک ٹاک مخصوص ایجنڈے کے تحت ہمارے ملک میں فحاشی اور عریانی پھیلانا چاہتی ہیں۔ اسی طرح آن لائن گیم ”پب جی“ جو ہماری نئی جوان نسل میں بہت مقبول ہو رہی ہے، جوانوں کو ذہنی اور نفسیاتی مریض بنا رہی ہے۔ کیونکہ اس گیم میں اپنے مخالفین کو مار دھاڑ کر کے مارنے اور ان کا مال لوٹنے کے مناظر ہوتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال ؒ کا یہ شعر مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی پر کیا صحیح بیھٹتا ہے۔
 ہے دِل کےلئے موت مشینوں کی حکومت
 احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
دوسرے ملکوں میں تو سائبر کرائمز اور سائبر کریمینلز (مجرموں) کےلئے کئی سخت قوانین موجود ہیں مگر پاکستان میں حکومت دیر آید درست آید کے مصداق اب اسکے متعلق متحرک ہو رہی ہے اور ایف آئی اے اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے ذریعے سائبر کریمینلز پر نظر رکھے ہوئی ہے اور انکا پیچھا بھی بروقت کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کر رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کے شرپسند عناصر کا مکمل قلع قمع کیا جائے۔