جسے اللہ چاہے۔۔۔۔

اللہ تعالیٰ جب کسی سے کوئی کام لینا چاہتا ہے تو ان افراد یا اقوام کے ہاتھوں ایسی حرکات سرانجام دیتا ہے کہ وہ ان کے خیال و خواب میں بھی نہیں ہوتیں۔
سلطان صلاح الدین ایوبی کے والد نجم الدین ایوب جو گورنر کے عہدے پر فائز تھے مگر کافی عمر تک پہنچنے کے باوجود شادی نہیں کر رہے تھے۔ ان کے بڑے بھائی اسدالدین شیر کوہ نے انہیں شادی کرنے کا مشورہ دیا اور اس وقت کے امراء اور وزراء کے ہاں شادی کرانے کی پیشکش کی۔ مگر وہ ساری پیشکشیں ٹھکرا گئے اور کہا کہ میں اس خاتون سے شادی کروں گا جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت لیجائے اور اس سے اللہ تعالیٰ مجھے ایسا بیٹا عطا کرے جو بیت المقدس کو آزاد کرائے۔ 
ایک دفعہ بغداد کے شیخ اور مفتی کیساتھ بیٹھے تھے کہ ایک باپردہ خاتون حاضر ہوئی۔ پردے کے پیچھے شیخ نے اسے کہا کہ میں نے انکے پاس لڑکا بھیجا تھا، اس رشتے کو کیوں ٹھکرا دیا۔ آگے سے خاتون نے جواب دیا کہ میں ایسے شخص سے شادی کرونگی جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت لیجائے اور جس سے میرا ایسا بیٹا پیدا ہو جو بیت المقدس کو آزاد کرائے۔ ان دونوں کی باتیں نجم الدین ایوب بھی سن رہے تھے۔ اس پر انہوں نے شیخ سے کہا کہ اس لڑکی سے میری شادی کرا دو۔ شیخ نے اسے بتایا کہ یہ لڑکی شہر کے ایک بہت ہی غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ جواب میں نجم الدین ایوب نے کہا کہ مجھے ایسی بیوی کی ضرورت ہے۔ چنانچہ دونوں کی شادی کرا دی گئی جنکے ہاں صلاح الدین ایوبی پیدا ہوئے جس نے بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے آزاد کرایا۔ تاریخ اس قسم کے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے مگر مسلمانوں سے ایسے واقعات نہ  جانے کیوں چھپائے جا رہے ہیں؟۔واشنگٹن میڈیکل کالج ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر لارنس براؤن کیساتھ 1991ء میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب اسکی پہلی بیٹی پیدا ہونے کے بعد اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسوقت تو اسے حادثاتی واقعہ قرار دیا گیا مگر لارنس براؤن جو کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے تھے انکے ہاں جب دوسری بیٹی پیدا ہوئی تو وہ بالکل پیلی تھی۔ ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ اگر 24 گھنٹے کے اندر اسکے دل کا آپریشن نہیں کرایا گیا تو یہ مر جائیگی کیونکہ اسکا دل خون پمپ نہیں کر رہا تھا۔ ڈاکٹر لارنس براؤن نے نیویارک میں اپنے ایک مشہور کارڈیالوجسٹ دوست کو فون کرکے بلایا۔ آپریشن تھیٹر میں سرجری کی تیاری ہوگئی اور بچی کو اندر لیجایا گیا۔ ڈاکٹر لارنس براؤن پریشانی کے عالم میں باہر برآمدے میں ٹہل رہے تھے۔ جس کے ایک سرے پر ایک ہال تھا جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرتے تھے۔ ڈاکٹر براؤن اس کے اندر جاکر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا کہ اے اللہ اگر تو واقعی سچا ہے تو میری بیٹی کو ٹھیک کردے۔ جو بھی مذہب آپ کو پسند ہو میں وہ اختیار کر لونگا۔ 25-20 منٹ بعد جب اس نے وہاں سے نکل کر آپریشن تھیٹر میں جھانکا تو سارے ڈاکٹر ایک کونے میں حیران کھڑے تھے۔ براؤن نے ان سے پوچھا کہ کیا آپریشن ہو گیا۔ انہوں نے بچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھو۔ بچی سرخ سفید نیلی آنکھیں اِدھر اْدھر گھماتے ہوئے لیٹی تھی۔ براؤن نے وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ بچی تو خودبخود اچانک ٹھیک ہو گئی۔ڈاکٹر لارنس براؤن نے اپنی یادداشت میں لکھا ہے کہ میں نے تمام مذاہب کو پڑھنے کا ارادہ کیا اور اس مقصد کیلئے عیسائیت، یہودیت، بدھ مت، ہندو مت اور کئی دوسرے مذاہب کا مطالعہ کیا مگر دل کو سکون نہیں ملا۔ بھارت کے دورے پر تھا، شہر کے ایک چھوٹی سی مسجد میں داخل ہوا۔ وہ لکھتا ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے ہی میری ذہنی کیفیت یک دم بدل گئی اور دماغ نور سے منور ہو گیا۔ دل کو سکون اور آرام ملنے لگا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اوہ۔۔۔ یہی وہ مذہب ہے جسے اللہ پاک نے میرے لئے پسند فرمایا ہے۔
مالدیپ بحرہند کا ایک سیاحتی ملک ہے اور 1192 چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے۔ مگر صرف 200 جزیروں میں انسان آباد ہیں۔ یہاں کی تمام آبادی بدھ مت کی پیروکار تھی۔ مگر صرف دو ماہ کے قلیل عرصے میں ملک کا بادشاہ، عوام اور خواص اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے۔ یہ واقعہ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے مالدیپ کی سیاحت کے بعد اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ وہ ایک عرصے تک مالدیپ میں بطور قاضی(جج) کام کرتے رہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مالدیپ کے لوگ حد درجہ توہم پرست تھے۔ اس بدعقیدگی کے باعث ان پر ایک عفریت(جِن) مسلط تھا۔ وہ جِن مہینے کی آخری تاریخ کو روشنیوں اور شمعوں کے جلو میں سمندر کی طرف سے نمودار ہوتا تھا اور لوگ سمندر کے کنارے بنے بت خانے میں ایک دوشیزہ کو بناؤ سنگھار کرکے چھوڑ دیتے۔ وہ عفریت رات اس بت خانے میں گزارتا۔ صبح وہ لڑکی مردہ پائی جاتی اور لوگ پھر اسکی لاش کو جلا دیتے۔ دوشیزہ کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی ہوتا تھا۔ اس بار قرعہ اندازی میں ایک بیوہ بڑھیا کی بیٹی کا نام نکل آیا۔ اس پر بڑھیا رو رو کر نڈھال ہو چکی تھی۔ تمام گاؤں کے لوگ اور ایک مسافر بڑھیا کے گھر جمع ہو گئے۔ مسافر نے بڑھیا کو دلاسہ دیا اور ایک عجیب خواہش کا اظہار کیا کہ آج رات آپکی بیٹی کی جگہ مجھے بٹھایا جائے۔ پہلے تو لوگ خوف کی وجہ سے نہیں مان رہے تھے مگر مسافر بضد تھا کہ میں ہر حال میں آج رات بت خانے میں ٹھہرونگا۔ لوگ راضی ہو گئے۔ مسافر نے وضو کیا اور بت خانے میں داخل ہو کر قرآن مجید کی تلاوت شروع کی۔ عفریت آیا مگر دوبارہ کبھی واپس نہ آنے کے لئے چلا گیا۔ لوگ صبح سویرے نہار منہ بت خانے کے باہر جمع ہوئے تاکہ لاش کو بت خانے سے نکال کر جلایا جائے مگر مسافر کو زندہ دیکھ کر وہ سکتے میں پڑ گئے۔
یہ مسافر مشہور مسلمان داعی، مبلغ اور سیاح ابوالبرکات ہریری تھے۔ ابوالبرکات کی آمد اور عفریت سے دو دو ہاتھ ہونیکی خبر جنگل کی آگ کی طرح تمام جزائر میں پھیل گئی۔ بادشاہ نے انہیں شاہی اعزاز کیساتھ اپنے دربار میں بلایا۔ ابوالبرکات نے بادشاہ کو اسلام قبول کرنیکی دعوت دی۔ بادشاہ نے اسلام قبول کیا اور صرف دو ماہ کے اندر مالدیپ کے سارے لوگ بدھ مت سے تائب ہوکر مسلمان ہو گئے۔ یہ سال 1314ء کی بات ہے۔ اس مبلغ اور داعی نے مالدیپ کو اپنا مسکن بنایا اور لوگوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دی۔ ہزاروں مساجد تعمیر کیں اور وہیں دفن ہوئے۔ ایک شخص تنہا امت کا کام کرگئے۔