اسرائیلی بربریت اور مظلوم فلسطینی 

 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جس جرات مندانہ انداز میں سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کی فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و بربریت کو پوری دنیا پر آشکارا کیا، وہ ہر انسانیت دوست اور مسلم دنیا کے عوام کے کلیجے کو کچھ حد تک ٹھنڈا کرنے کیلئے کافی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے نیوز چینل کو کہا کہ گرچہ اسرائیل اور یہودی پوری دنیا میں بہت زیادہ اثرورسوخ رکھتے ہیں اور دنیا کے تقریباً 90 فیصد میڈیا پر بلواسطہ یا بلا واسطہ کنٹرول حاصل کیا ہے مگر اسکے باوجود فلسطین کے اندر سے فلسطینیوں پر اسرائیلی ائر فورس کی جانب سے بمباری کی رپورٹنگ باہر کی دنیا کو دکھائی گئی۔ گرچہ اسرائیل سے ہمدردی رکھنے والے سی این این چینل کی میزبان خاتون نے شاہ محمود قریشی کو اینٹی سیمیٹک یعنی ”یہودی مخالف“ کہہ ڈالا اور خود یہود نواز ہونے کا ثبوت دیا‘ وزیر خارجہ کا بیان بالکل بھی یہود مخالف نہیں تھا اور انہوں نے صحیح معنوں میں ظالم و جابر اسرائیل کی اصل تصویر دنیا کے سامنے اُجاگر کی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے بھی اس معاملے میں صحیح معنوں میں مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کی ہے اور اپنے بیان میں واضح کیا کہ ”میں وزیراعظم پاکستان ہوں اور ہم غزہ اور فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں“۔اپنے ایک بیان میں  ٹویٹر پر مشہور امریکی دانشور نوم چومسکی کا قول شیئر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ”آپ میرا پانی لے لیں، میرے زیتون کے درخت تباہ کرلیں، میرا گھر جلا دیں، مجھے نوکری سے نکال دیں، میری زمین چوری کرلیں، میرے والد کو قید میں ڈال دیں، میری والدہ کو قتل کر دیں، میرے وطن پر گولہ باری کریں، ہمیں تباہ و برباد کردیں لیکن میں (فلسطینی) ہی دہشت گرد ہوں کیونکہ میں اپنے دفاع  میں  اسرائیل پر راکٹ پھینکتا ہوں۔ فلسطین کو آزاد کرو۔“حکومت پاکستان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کوششوں کی بدولت اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مظالم کیخلاف پیش کردہ قرارداد منظور ہو گئی ہے۔ اس قرارداد کے تحت اقوام متحدہ کا کمیشن اسرائیل اور حماس کی آپس کی گیارہ (11) روزہ  جنگ میں تباہ شدہ غزہ کے مکینوں کے جانی و مالی نقصان کا جائزہ لیگا اور اقوام متحدہ کو جلد از جلد رپورٹ پیش کریگا۔ اس قرارداد کو پاکستان نے او آئی سی کے توسط سے یونائیٹڈ نیشن میں پیش کیا‘ ووٹنگ میں کل33 ممالک نے حصہ لیا جن میں 24 نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا،9  ووٹ مخالفت میں پڑے جبکہ بھارت سمیت چودہ14 ممالک نے ووٹ نہیں ڈالا۔ امریکہ نے حسب روایت اسرائیل کے حق میں ووٹ ڈالا اور اس قرارداد کے پاس ہونیکی شدید مذمت کی۔ جرمنی نے بھی اسرائیل نواز ہونے کا ثبوت دیکر اسرائیل کے حق میں ووٹ ڈالا۔ اسرائیل نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کمیشن کیساتھ تعاون کرنے سے مکمل انکار کر دیا ہے جبکہ فلسطینیوں نے اس کمیشن کو خوش آمدید کہا ہے تاکہ اسرائیل کے مظالم کو دنیا کے سامنے عیاں کرسکے۔تاریخی طور پر1917میں اسرائیلیوں کی فلسطین میں آبادکاری اور 1948ء میں اسرائیل کا قیام بھی بہت عجیب قسم کے حالات میں واقع ہوا ہے۔ یہودی صدیوں  سے یورپ  میں زیر عتاب رہے لیکن ہٹلر نے انتہا کر دی تھی اور لاکھوں یہودیوں کو دوسری جنگ عظیم کے دوران مار ڈالا تھا۔جس کے نتیجے میں پوری دنیا بالخصوص یورپ میں یہودیوں کیلئے شدید ہمدردی پیدا ہو گئی تاہم اب اسرائیل کے فلسطینیوں پر ظلم و ستم  سے ہٹلر کے سلوک سے پیدا شدہ ہمدردیاں واپس ختم ہو رہی ہیں کیونکہ اسرائیل بھی ہٹلر ہی کے راستے پر چل نکلا ہے۔ سوشل میڈیا پر دوسری جنگ عظیم کے بعد کی ایسی تصاویر بھی وائرل ہوئی ہیں جس میں یورپ سے تباہ حال  یہودی بحری جہازوں کے ذریعے فلسطین پہنچ رہے تھے اور آویزاں بینروں پر لکھا ہوا ہے کہ ہم فلسطینیوں سے اچھے اور بھائی چارے کے سلوک کی توقع رکھتے ہیں اور ہم سے ہٹلر جیسا سلوک نہیں کرو گے۔ مگر آج جب وہ خود طاقت میں آگئے ہیں تو اپنے ماضی کو بھلاکر خود ہٹلر کی طرح فلسطینیوں کے ساتھ ظلم و بربریت کا برتاؤ کر رہے ہیں۔اس موقع پر مجھے خان عبدالغفار خان کی وسیع النظری اور ذہانت یاد آگئی۔ خان عبد الغفار خان المعروف باچا خان بابا اپنی اہلیہ ہی کے ہمراہ 1926ء میں حج کرنے کے بعد اپنی اہلیہ کے ہمراہ بیت المقدس (مسجد اقصیٰ) یعنی قبلہ اول کی زیارت کیلئے فلسطین تشریف لے گئے تھے۔ زیارت کے بعد انکی اہلیہ وہیں پر فوت ہوئیں اور وہاں انہیں دفن کیا گیا۔ فلسطین کے دورے کے دوران باچا خان بابا نے وہاں کے مقامی لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور وہاں کے حالات پر گفت و شنید کی۔ باچا خان نے دیکھا کہ ایک طرف یہودیوں کی نئی آباد کاری شروع ہوئی تھی اور ان کیلئے بڑے بڑے بنگلے بن رہے  تھے  اور زمینیں آباد ہو رہی تھیں تو دوسری طرف بالکل اسکے سامنے فلسطینیوں کی بنجر اور ویران زمینیں پڑی تھیں۔ باچا خان کے استفسار پر مقامی فلسطینیوں نے کہا کہ یہودیوں کی یہ زمینیں بھی ہمارے باپ دادا کی چھوڑی ہوئی میراث ہیں مگر ہم بہت مہنگے داموں یہ یہودیوں کو فروخت کر رہے ہیں‘ باچا خان نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسا نا کرو ورنہ ایک دن یہ یہودی لوگ آپ لوگوں (فلسطینیوں) کے گلے پڑ جائینگے۔کاش فلسطینیوں نے صاحبِ بصیرت باچا خان بابا کی نصیحت پر عمل کیا ہوتا تو انہیں آج یہ  دن نہ دیکھنے پڑتے۔