غیر واضح کل کا اندیشہ

ملک کی قدیم اور صوبے کی سب سے بڑی درسگاہ سے جڑی ان خبروں سے ملازمین بالخصوص کلا س تھری اور کلاس فور کے اوسان خطا ہوگئے تھے کہ یونیورسٹی کے پاس جولائی کی تنخواہ نہیں ہے مگر جب جلد ہی یہ خبر سنی گئی کہ گریڈ16 تک کے ملازمین کو تنخواہیں ملیں گی تو یار لوگ قدرے سنبھل گئے البتہ ٹیچنگ سٹاف کی چہ میگوئیوں اور نکتہ چینیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ساتھ ہی یہ اطلاع بھی آ گئی کہ حکومتی گرانٹ مل گئی لہٰذا تنخواہوں کا مسئلہ حل ہو گا لیکن انتظامی ذرائع سے معلوم ہوا کہ حسب سابق اس بار بھی حکومتی گرانٹ یونیورسٹی کی ضرورت سے کہیں کم ہے ایک پروفیشنل یونیورسٹی کے مالیاتی شعبے کے ذرائع سے تو یہ بھی معلوم ہوا کہ انہیں جولائی کے اخراجات کے لئے16 کروڑ روپے چاہئے تھے لیکن حکومت نے تین مہینے کے لئے 13کروڑ گرانٹ بھجوا دی اب وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ جولائی کی تنخواہیں مل گئیں یا نہیں البتہ یہ امراثبات کی علامت معلوم ہوتا ہے کہ جب درجہ چہارم اور درجہ سوم ملازمین کا شورو شرابہ واقع نہیں ہو رہا تو ممکن ہے کہ یار لوگوں کی جیب بھر گئی ہو اور اگلے ہی روز بازار جا کر خالی بھی ہو چکی ہو ‘ اسمیں بلوں اور فیسوں کا تذکرہ رہنے دیجئے البتہ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ تنخواہیں مراعات سمیت دی گئیں یا الاﺅنسز ابھی واجب الادا ہیں بہر کیف یہ تو ہوا جولائی کا قصہ مگر آئندہ کیا ہو گا؟ فی الحال کچھ کہناقبل از وقت ہو گامگر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ گزشتہ تقریباً چھ سال سے ہماری تعلیم جس ابتر حالت اور نت نئے تجربات سے گزر رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے کسی بہتر مستقبل کی توقع شاید اپنے آپ کو ورغلانے کے مترادف ہو ‘ جامعہ پشاور کے نئے قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر جہان بخت تو ویسے نامساعد حالات اور ملازمین کے شور شرابے جیسے واقعات کا سامنا کرنے کے عادی ہو چکے ہیں کیونکہ دوسری مرتبہ جامعہ زرعیہ کی وائس چانسلر شپ سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور سوات یونیورسٹی کے قائمقام وائس چانسلر بھی رہ چکے ہیں البتہ پشاور یونیورسٹی کے عارضی سربراہ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے میں ایک مثبت پہلو یہ ضرور سامنے آیا ہے کہ جامعہ کے سب سے بڑے اور طاقتور سٹیک ہولڈر حلقے یعنی پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) نے اس تقرری کا خیر مقدم کرتے ہوئے خوش آئند قرار دیا ہے‘ اس کی وجوہات شاید ڈھکی چھپی نہ ہوں لیکن بعض لوگ بالخصوص تعلیمی حلقے اس تقرری کو جامعہ پشاور کی فیکلٹی اور انتظامیہ پر حکومتی عدم اعتماد قرار دے رہے ہیں ویسے یونیورسٹیوں بالخصوص جامعہ پشاور کے حالات و واقعات اور معاملات میں حکومتی دلچسپی کا تو یہ عالم ہے کہ چھ میں سے تین فیکلٹیز عرصہ سے خالی پڑی ہیں جبکہ ایک سب سے بڑی اور بیسک فیکلٹی یعنی لائف اینڈ انواٹرمنٹل سائنسز تو عرصہ سولہ مہینے سے ڈین کی راہ تک رہی ہے مگر نہ جانے کہ تقرری کا نہایت آسان کام حکومت کے لئے کیونکر اتنا مشکل ہو گیا ہے حالانکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے تینوں ڈینز اور پرو وائس چانسلر کی خالی نشستوں پر تقرری کے لئے سینئر پروفیسروں کے نام عرصہ ہوا کہ بھجوائے گئے ہیں بہر کیف بہتر ہو گاکہ پروفیسر جہان بخت پیوٹا کی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہوں البتہ فی الوقت تو حالت یہ ہے کہ ہر نئی حکومت کی طرح قائمقام وائس چانسلر کو بھی خالی خزانے کا سامنا کرناپڑا اب یہ الگ بات ہے کہ پیوٹا بلکہ جائنٹ ایکشن کمیٹی یعنی جیک انتظامیہ کی خالی خزانے والی بات ماننے کو تیار نہیں بلکہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مکرر طور پر دعویٰ کر رہے ہیں کہ یونیورسٹی کے کئی اکاﺅنٹس بھرے پڑے ہیں؟ اس کے جواب میں جامعہ کے شعبہ مالیات کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں محض دو اکاﺅنٹس میں پیسہ پڑا ہے ‘ ایک جی پی فنڈ ہے اور دوسرا طلباءکا سکالرشپ فنڈ اور انتظامیہ ان دونوں کو تنخواہ پنشن اور الاﺅنسز کی ادائیگی پر خرچ نہیں کر سکتی ‘ قصہ کوتاہ یہ کہ موجودہ برائے نام تعلیمی بجٹ اور برق رفتار مہنگائی کے ہوتے ہوئے یہ توقع رکھنا یقیناً لا حاصل ہو گا کہ ہماری تعلیم اور ہماری جامعات کا کل روشن ہو گا۔