امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محصولات کو اپنی اقتصادی پالیسی کے ایک آلہ کے طور پر استعمال کرنے کے وعدے پر عمل درآمد کرنا شروع کر دیا ہے۔ یکم فروری کو نئی امریکی انتظامیہ نے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر پچیس فیصد اور چین سے دس فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جو غیر قانونی امیگریشن اور منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے اگرچہ بعد میں پالیسی ایڈجسٹمنٹ نے میکسیکو اور کینیڈا سے درآمدات پر محصولات کو عارضی طور پر تیس دن کے لئے معطل کردیا لیکن چین پر اضافی محصولات نافذ کر دیئے گئے ہیں۔ توقع کے مطابق بیجنگ نے امریکی ایل این جی اور کوئلے پر پندرہ فیصد‘ زرعی آلات پر دس فیصد لیوی عائد کرتے ہوئے برآمدات پر پابندی عائد کی ہے۔ مزید برآں، صدر ٹرمپ نے یورپی یونین پر محصولات اور کئی ممالک پر باہمی محصولات عائد کرنے کے امکان کا بھی اشارہ دیا ہے۔ ان بدلتی ہوئی تجارتی حرکیات کو دیکھتے ہوئے، خدشات موجود ہیں کہ پاکستان، خاص طور پر اس کے تجارتی شعبے کو منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اقتصادیات اس کا تصور تجارتی تبدیلی کے طور پر کرتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تنازعہ رہا جیسا کہ چند دیگر ممالک کے علاؤہ بھارت اور بنگلہ دیش نے امریکی مارکیٹ میں موجود خلأ کو پر کرنے کے لئے اقدامات کئے جس سے بعد میں ان کی برآمدات میں بالترتیب 39 فیصد اور 50 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کی امریکا کو برآمدات میں 3 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل سے لے کر پٹرولیم مصنوعات اور الیکٹرانکس تک مختلف اشیا پر پھیلی مصنوعات کی برآمدات نسبتاً متنوع برآمدی پروفائل رکھتی ہیں، جس سے اسے مارکیٹ کے نئے مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے اگرچہ بنگلہ دیش میں برآمدی بنیاد کا فقدان ہے لیکن اس کے پاس نسبتاً اچھی طرح سے قائم ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی صنعت ہے اور عالمی ملبوسات کی مارکیٹ میں مضبوط قدم ہے، جو اسے درآمد شدہ ملبوسات کے حصول کے لئے ترجیحی متبادل بناتا ہے۔ بنگلہ دیش کی طرح پاکستان کی ایکسپورٹ پروفائل میں بھی تنوع کا فقدان ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ٹیکسٹائل اور ٹیکسٹائل کی اشیاء مجموعی برآمدات کا پچاس فیصد سے زائد ہیں۔ سبزی اور اِن سے بنی ہوئی مصنوعات کا حصہ کل برآمدات کا تقریباً پندرہ فیصد ہے تاہم، ٹیکسٹائل کے شعبے کے ساختی مسائل، بشمول توانائی کی لاگت اور بنیادی ڈھانچے کی نااہلیت، پیداواری لاگت میں اضافہ اور اس شعبے کے اعتماد کو کم کرکے پاکستان کی عالمی مسابقت کو محدود کر دیا گیا ہے۔ حال ہی میں ایکسپورٹ مینوفیکچرنگ کے لئے مقامی سپلائی پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے سے ٹیکسٹائل سیکٹر کے لئے چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاؤہ، پاکستان کی برآمدات بھی مارکیٹ کے چند مقامات پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں تین معیشتوں بشمول امریکہ، چین اور برطانیہ نے پاکستان کی مجموعی اشیا کی برآمدات میں 30 فیصد سے زائد حصہ ڈالا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تجارتی تنازعے کے بعد امریکی یا چینی معیشتوں میں ممکنہ سست روی کی وجہ سے طلب میں کمی پاکستان کی مجموعی برآمدات کو کم کر سکتی ہے۔ حکومت کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ برآمد کنندگان کی مستقل حمایت کرے اور کاروباری اداروں کو تیزی سے توسیع کرنے اور ایسی مصنوعات تیار کرنے میں سہولت فراہم کی جائے جن کی عالمی خریداروں کو ضرورت ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ میں جبکہ قومی اور بین الاقوامی معیارات کو بھی نافذ کیا جائے۔ آخر میں، پالیسی استحکام، امن و امان اور منظم ریگولیٹری پر عمل یقینی بنا کر سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ (بشکریہ دی نیوز۔ تحریر زہرا نیازی۔ ترجمہ اَبواَلحسن اِمام)