وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے حال ہی میں ایک جرات مندانہ اعلان کیا کہ پاکستان کا ہدف و مقصد 2047ء تک 3 کھرب ڈالر کی معیشت بننا ہے، جس کا ہدف 9 فیصد شرح نمو ہے۔ بنیادی مسئلہ سرمایہ کاری کے لئے بچت کا ہے۔ فزیکل انفراسٹرکچر اور صنعتی صلاحیت دونوں ہی پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے ضروری عناصر ہیں اور دونوں ہی کے کافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اعلیٰ ترقی والی معیشتیں ہمیشہ سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کے تناسب کو برقرار رکھتی ہیں۔ چین اور بھارت پر غور کریں، جنہیں اکثر معاشی کامیابی کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2022ء میں چین کی مجموعی سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب 43فیصد رہا۔ بھارت نے 33فیصد کو برقرار رکھا۔ یہ اعداد و شمار کم از کم ایک دہائی پر محیط مستقل سرمایہ کاری کے نمونوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان کی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہم کھپت پر مبنی معیشت ہیں، جس کا بہت زیادہ انحصار درآمدات پر ہے۔ ہمارا مستقل تجارتی عدم توازن کھپت کی ضروریات کے مطابق گھریلو پیداواری صلاحیت کو فروغ دینے کے لئے ناکافی بچت اور سرمایہ کاری کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پاکستان کی مجموعی سرمایہ کاری کبھی بھی جی ڈی پی کے بیس فیصد سے زیادہ نہیں ہوئی۔ یہ توقع کرنا کہ یہ اچانک 35 فیصد سے تجاوز کر جائے گی شاید عملاً ممکن نہ ہو۔ مزید برآں‘ زرمبادلہ کے ذخائر کم از کم 12ماہ کی درآمدات کے مساوی ہونے چاہیئں تاکہ شرح مبادلہ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔آبادی کا چیلنج فی کس آمدنی حاصل کرنے کی راہ میں معاشی رکاوٹوں کو بڑھادیتا ہے اگرچہ پاکستان کی مجموعی شرح پیدائش (ایک عورت کی زندگی میں پیدا ہونے والے بچوں کی اوسط تعداد) 1990ء کی دہائی میں چھ سے کم ہو کر آج 3.6 ہو گئی ہے لیکن آبادی بڑھنے کی شرح 2.1 سے زیادہ ہے۔ موجودہ سالانہ آبادی میں اضافے کی شرح تقریباً 2 فیصد ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ دباؤ بڑے پیمانے پر مسائل پیدا کر رہا ہے۔ ماحولیاتی انحطاط میں شدت زیادہ فضلہ اور آلودگی پیدا کر رہی ہے۔ بڑے شہر پہلے ہی زہریلے ہوا کے معیار سے دوچار ہیں، جس کی وجہ سے پھیپھڑوں کے کینسر، دمہ کی شرح میں اضافہ اور متوقع عمر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ہمارا ہیلتھ کیئر سسٹم‘ پہلے ہی آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ زرعی اراضی پر تجاوزات سے فوڈ سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے۔ پانی کی قلت کی وجہ سے ممکنہ طور پر دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی میں اضافہ ہو رہا ہے اور خوراک کی پیداوار میں مزید مشکلات کا سامنا ہے۔ مالی صورتحال بھی یکساں تشویش ناک ہے۔ مالی سال 2024ء میں ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 7.1 کھرب روپے خرچ ہوئے جو کل ٹیکس محصولات کا سترفیصد سے زیادہ رہے۔ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کی کمی بھی کم پیداواری لیبر فورس اور غربت میں تبدیل ہو رہی ہے۔ جدت اور نئے خیالات کا اطلاق تعلیم یافتہ اور پیداواری افرادی قوت کے ساتھ آتا ہے لہٰذا تکنیکی تبدیلی جو معاشی ترقی کو چلاتی ہے سست ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ٹیکس نظام ڈیجیٹلائزیشن کے لئے جب قابل مقامی سافٹ وئر ہاؤسز موجود ہیں تو غیر ملکی کرنسی میں لاکھوں روپے کیوں خرچ کرتے ہیں؟ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کے حوالے سے حکومت پاکستان نے 2023ء میں ’نیشنل ایڈاپٹیشن پلان‘ بنایا جس کے مطابق 1992ء سے 2021ء کے درمیان پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق 29.3 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا چونکہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان جیسے ممالک پر واضح طور پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے لہٰذا توقع کی جا سکتی ہے کہ طویل خشک سالی‘ شدید ہیٹ ویو ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔ چار فیصد کی شرح نمو کو استعمال کرتے ہوئے 2047ء میں پاکستان کی مجموعی جی ڈی پی 924 ارب ڈالر اور فی کس جی ڈی پی 2581 ڈالر ہونی چاہئے جو 2024ء میں فی کس آمدنی سے 63فیصد زیادہ ہے۔ حقیقی تبدیلی کو نافذ کرنے کی جرأت پاکستان کے معاشی مستقبل کے لئے بہتر راہ ہموار کر سکتی ہے۔ (بشکریہ دی نیوز۔ تحریر آئی حسین۔ ترجمہ اَبواَلحسن اِمام)
اشتہار
مقبول خبریں
مصنوعی ذہانت: کارہائے نمایاں
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
عالمی طاقتیں اور ایشیا
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
کھیل کود کی اہمیت
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
ٹرمپ، مسک اور نظام کی خرابی
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
امریکی امداد کی بندش
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
بھارت امریکہ گٹھ جوڑ
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
بلاول بھٹو کی پیشکش
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
مصنوعی ذہانت کی طاقت
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
موسمیاتی تبدیلی اسباب
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
پانی کی معدودی
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام