بنوں‘ اکوڑہ خٹک اور جعفر ایکسپریس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں نے مظلوم قوم اور پاکستانی ریاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے‘ دو سال قبل پشاور کی پولیس لائن پر ہونے والی خونریزی اور گزشتہ اگست میں بلوچستان میں ہونے والے چار حملے انتہائی افسوسناک تھے۔ دہشت گردی پورے پاکستان میں پھیل رہی ہے اور اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو اندیشہ ہے کہ یہ ملک کے باقی ماندہ حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے مہلک ترین طوفان کا سامنا کیا ہے۔ براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2001ء سے 2024ء کے دوران 67 ہزار پاکستانی دہشت گرد واقعات میں جاں بحقہوئے جن میں سے زیادہ تر 2007ء سے 2017ء کے دوران جاں بحقہوئے ہیں‘ ان خون میں لت پت عرصے اور واقعات سے سیکھنے کے کچھ اسباق ہیں جنہیں فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے واقعہ کے ذمہ داراور سے نہیں بلکہ ہمارے اپنے ہی ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بھی ہمارے بھائی ہیں لیکن ان کے غم و غصے اور نکتہئ نظر کو سمجھا نہیں گیا۔ پشاور آرمی پبلک سکول سانحے کے بعد قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہو گئی۔ حکومت اور اپوزیشن نے نواز شریف کی قیادت میں نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کی منظوری دی۔ آپریشن ضرب عضب نے مغربی سرحد پر پاکستان کی خودمختاری بحال کی، اس کے بعد انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن ردالفساد نے ملک بھر سے دہشت گردوں کا صفایا کیا۔ اِن کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2017ء کے آغاز تک پاکستان پرامن ہو گیا تاہم، اس قومی فتح کو مستحکم کرنے کے بجائے، ریاست نے سول ملٹری تناؤ دیکھا اور ملک کی سلامتی اور عوام کا اعتماد رکھنے والی حکومت کے خلاف سیاسی سازشیں ہوئیں اور اِس سے پورا نظام گویا دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ عمران خان کی زیر قیادت وفاقی حکومت نے 2018ء کے موسم خزاں میں افغان طالبان رہنماؤں کو رہا کرکے امریکہ طالبان معاہدے میں سہولت فراہم کی تھی۔ مجموعی طور پر 444دہشت گرد حملوں میں سکیورٹی فورسز کے کم از کم 685اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، 2024ء پاکستان کی سول اور ملٹری سکیورٹی فورسز کے لئے مہلک ترین سال ثابت ہوا۔ شہید ہونے والے زیادہ تر پاکستانیوں کا تعلق کے پی اور بلوچستان سے تھا تاہم پنجاب میں بھی گزشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان میں 2021ء کا سال مہلک رہا۔ سوال یہ ہونا چاہئے کہ آخر یہ سب کون اور کیوں کر رہا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک جیسے عزائم رکھنے والی دہشت گرد تنظیموں کا مجموعہ بن چکا ہے اور کیا عسکریت پسندوں کے سیاسی عزائم بھی ہیں جن کا وہ بارہا اعلان کر چکے ہیں۔ اِن میں بنیادی مطالبہ سابقہ قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے خیبرپختونخوا میں انضمام کو واپس لینا ہے، جس کا مقصد یہ تھا کہ فاٹا عسکریت پسندوں کی حکمرانی والے خود مختار علاقوں میں تبدیل نہ ہو۔ اِسی طرح بلوچ باغیوں نے اپنے ارکان کی رہائی کا مطالبہ کر رکھا ہے لیکن بنیادی طور پر بلوچستان کو غیر مستحکم رکھنے اور اس طرح چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے عنوان سے ترقی روکنے کے لئے بھارت اور دیگر چین مخالف قوتوں کے آلہ کار کے طور پر یہ عسکریت پسند کام کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں چین کے شہریوں کے قتل میں اضافہ بھی دہشت گردی کی نئی لہر کے خطرناک پہلوؤں کی نشاندہی کر رہا ہے۔ آپریشن ضرب عضب مکمل ہونے کے آٹھ سال سے بھی کم عرصے کے بعد، یہ ضرورت ایک بار پھر ہمارے سامنے آ موجود ہوئی ہے۔ پاکستان کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے میں تجربے کی کوئی کمی نہیں۔ بہادر مسلح افواج اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے میں دنیا کی کسی بھی طاقت سے زیادہ تجربہ رکھتی ہیں۔ پاکستانی فوجیوں کی ایک نسل دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے بڑی ہوئی ہے۔ اور ایک نئی نسل روزانہ اپنے آپ کو قربان کر رہی ہے۔
سیاسی عزم کا واضح اظہار ضروری ہے۔ سیاسی اتفاق رائے ہونا چاہئے۔ ہمارے پاس وہی سیاسی ٹیم ہے جس نے گزشتہ انسداد دہشت گردی کی کاروائیوں کے دوران ملک کی قیادت کی تھی۔ امریکہ کی دوسری افغان جنگ (2001-2021ء) ناکامی کی داستان ہے اور اِس نے پاکستان کے لئے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ ہم ایک بار پھر حالت جنگ میں ہیں۔ اس بار نیا محاذ کھلا ہوا ہے۔ دہشت گردوں کے پاس نہ تو مذہب کا لبادہ ہے اور نہ ہی امریکہ مخالف نعرہ جن کے پیچھے وہ اپنے حقیقی عزائم چھپا سکیں۔ باقی رہ جانے والا واحد لبادہ ”حقوق سے محرومی“ ہے، جس پر قابو پانا ریاست کو درپیش اہم چیلنج ہے۔ وقت ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں نیشنل ایکشن پلان کے نامکمل کام کو مکمل کریں۔ قومی انٹیلی جنس مربوط کرنا اور بالترتیب نفرت انگیز تقاریر، تشدد پھیلانے والی تقریروں اور لٹریچر کے خلاف قانونی چارہ جوئی‘ حسب قانون سزا دینا اور انسداد دہشت گردی کے محکموں (سی ٹی ڈی) کے ذریعے انسداد دہشت گردی کی مسلسل پولیسنگ ضروری ہے۔ منتخب اداروں اور مسلح افواج کو بیک وقت متحرک کاروائیاں کرنے، سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے اور تمام میڈیا پلیٹ فارمز اور پارلیمنٹ کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہم نے پہلے ایسا نہیں کیا۔ ہمیں یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ امریکہ افغانستان میں کیا نہیں کر سکا۔ یہ ظاہر کریں کہ ہم نے حالیہ ماضی سے سبق سیکھا ہے اور اپنی سرزمین سے دہشت گردی کو دفن یا ختم کر دیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پاکستان ایک جمہوریہ کی صورت برقرار و شاد رہے گا۔ (مضمون نگار پاکستان کے وزیرخارجہ‘ وزیر دفاع اُور کامرس و توانائی کے وزیر رہے ہیں۔ بشکریہ دی نیوز۔ تحریر انجنیئر خرم دستگر خان۔ ترجمہ اَبواَلحسن اِمام)