یورپ: غیریقینی کی صورتحال

یورپ میں غیر یقینی کی ہوائیں چل رہی ہیں کیونکہ یہ براعظم اپنی سلامتی کے حوالے سے تلخ حقیقت سے نبرد آزما ہے جو امریکی عزم میں کمی سے پیدا ہوئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یوکرین بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار میں تبدیلی نے یورپی دارالحکومتوں کو پریشان کر رکھا ہے اور ایسی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے جس سے پالیسی ساز طویل عرصے سے خوفزدہ تھے لیکن اکثر اس سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔ امریکہ اب یورپی استحکام کا قابل اعتماد ضامن نہیں ہے۔ اس پیش رفت نے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن کو جامع پانچ نکاتی حکمت عملی تجویز کرنے پر مجبور کیا ہے جس کا مقصد براعظم کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے جو اسٹرٹیجک خودمختاری کی طرف پہلا قدم ہے۔ اس کے باوجود، فوجی غور و خوض سے ہٹ کر، یورپ کے سامنے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ تیزی سے بڑھتے ہوئے لین دین والے عالمی نظام میں اس کے کردار کی از سر نو وضاحت کیسے کی جائے۔ امن کو ترجیح دینے کی آڑ میں یوکرین کی فوجی امداد روکنے کے جواز کو بڑے پیمانے پر شکوک و شبہات کا سامنا ہے۔ بہت سے یورپی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اس اقدام سے روس کی حوصلہ افزائی ہوگی اور یوکرین پر ناقابل قبول تصفیے کے لئے دباؤ پڑے گا۔ فرانسیسی صدر میکخواں خاص طور پر اپنی تنقید میں کھل کر بات کرتے رہے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کیف کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنا براہ راست ماسکو کے مفاد میں ہے۔ دریں اثنا، پولینڈ نے بھی واشنگٹن کی جانب سے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے فقدان پر مایوسی کا اظہار کیا ہے، جس سے بحراوقیانوس میں بڑھتی ہوئی خلیج اجاگر ہوئی ہے۔ اسی طرح برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر بھی بار بار یوکرین سے وابستگی کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ ہنگری کے وکٹر اوربان یوکرین امن عمل کے بارے میں ٹرمپ کی حکمت عملی کی حمایت کر رہے ہیں، جس سے یورپی اتحادیوں کے درمیان مختلف رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔ وان ڈیر لیئن کا ردعمل یورپی سوچ میں وسیع تر تبدیلی کی علامت ہے۔ دفاعی اخراجات میں اضافے، قرضوں کے ضوابط میں نرمی اور فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لئے تقریباً 800 ارب یورو جمع کرنے کی تجویز واشنگٹن پر انحصار کم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ اس کے باوجود، چیلنجز ابھی بھی مشکل ہیں۔ فوجی ہتھیاروں کی بحالی، چاہے غیر متزلزل عزم کے ساتھ ہی کیوں نہ کی جائے، ایک سست اور مہنگا عمل ہے۔ یورپی خودمختاری کے بیانیئے نے اس صورتحال میں نئی توجہ حاصل کی ہے لیکن مختصر مدت میں اس کی افادیت مشکوک ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ اگر تمام ضروری سیاسی، قانونی اور مالیاتی فریم ورک نافذ کر بھی دیئے جائیں تو یورپی یونین کے عالمی فوجی کردار کے طور پر ابھرنے میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی جو موجودہ بڑی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اس طرح کی کوششوں کے اخراجات حیران کن ہوں گے، خاص طور پر ان معیشتوں کے لئے جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس کے باوجود اسٹرٹیجک خودمختاری کے بارے میں بات چیت فوجی جہتوں تک محدود نہیں 
ہونی چاہئے۔ یورپ کے لئے اپنی آزادی کا دعویٰ کرنے کا ایک زیادہ عملی اور فوری راستہ معاشی لچک میں مضمر ہے۔ یورپی یونین کا امریکی اقتصادی پالیسیوں اور سپلائی چین پر بہت زیادہ انحصار اسے واشنگٹن کی بدلتی ہوئی ترجیحات کی من مانیوں کے لئے غیر محفوظ بنا دیتا ہے۔ اگر یورپ کو اکیسویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنا ہے تو اِسے تکنیکی ترقی اور متنوع سپلائی چین کے ذریعے معاشی خودمختاری میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر اور سبز معیشت اہم شعبے ہیں جہاں یورپی یونین اضافی اخراجات کے بغیر زیادہ خود مختاری حاصل کرسکتا ہے۔ یورپ کی بدحالی ایک ایسی سلطنت کی یاد دلاتی ہے جو تبدیلی کی طرف گامزن ہے۔ کئی دہائیوں سے امریکہ نے یورپ پر تسلط برقرار رکھا ہوا ہے اور فوجی، اقتصادی اور سیاسی ڈومینز پر کنٹرول رکھتا ہے۔ یورپ، طویل عرصے سے امریکہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سکیورٹی کا عادی ہے اور اب اس حقیقت کا سامنا کر رہا ہے کہ آرام کے دن گنے جا چکے ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے معروف اسکالر جیفری ساکس نے روس اور یوکرین کے تنازع کو پراکسی وار قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے خطے میں اپنے قدم جمانے کے لئے پہلے ممالک کو اکسایا اور اب منہ موڑ رہا ہے۔ اگرچہ اس طرح کے جائزے اور تبصرے متنازعہ ہوسکتے ہیں لیکن وہ وسیع تر حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن کی بنیادی طور پر دلچسپی یورپی استحکام میں نہیں بلکہ عالمی طاقت کے طور پر اپنی پروجیکشن میں ہے۔ یورپ کو یہ بات مدنظر رکھتے ہوئے اس کے مطابق محتاط ردعمل کا اظہار کرنا چاہئے۔ (بشکریہ دی نیوز۔ تحریر ڈاکٹر عمران خالد۔ ترجمہ ابوالحسن اِمام)