جنوب ایشیا قلت اور جغرافیائی سیاست

پاکستان، جسے کبھی وافر آبی وسائل رکھنے والے ملک کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا لیکن اِسے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے زراعت‘ معیشت اور سماجی استحکام کو چیلنجز درپیش ہیں۔ پانی کی فی کس دستیابی 1950ءکی دہائی میں 5600 مکعب میٹر سے کم ہو کر آج 1000 مکعب میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے جس سے تخمینہ ہے کہ دوہزارپچیس کے اختتام تک ملک میں پانی کی شدید قلت ہوگی۔ اس صورتحال کے کئی محرکات اور عوامل ہیں‘ جن میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے آبی وسائل پر بوجھ‘ آبی وسائل کا غیر مو¿ثر انتظام اور آب و ہوا کی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات شامل ہیں۔ یہ صورتحال علاقائی آبی تنازعات، داخلی نااہلیوں اور جغرافیائی سیاسی پیچیدگیوں کی وجہ سے مزید گھمبیر ہو گئی ہے۔ ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کو درپیش دیگر بڑے تنازعات میں پانی کی قلت کو بھی شمار کیا جائے گا۔ دریائے سندھ، جو تبت سے نکلتا ہے اور بحیرہ¿ عرب میں ختم ہونے سے پہلے بھارت اور پاکستان سے گزرتا ہے۔ یہ دریا پاکستان کے لئے اہم وسائل فراہم کرتا ہے۔ قوم کا پورا زرعی ڈھانچہ اس دریا اور اس کے معاون دریا¶ں جہلم، چناب، راوی، ستلج اور بیاس پر منحصر ہے۔ انڈس بیسن آبپاشی کا نظام، دنیا کے بڑے آبی نظاموں میں سے ایک کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، ابتدائی طور پر وسیع پیمانے پر آبپاشی نیٹ ورک کو فروغ دینے کے لئے قائم کیا گیا تھا جو لاکھوں افراد کو بھی معاش فراہم کرتا ہے تاہم، کئی دہائیوں پہلے تیار کیا گیا یہ نظام بڑھتی ہوئی طلب اور پانی کے بہا¶ میں کمی کی وجہ سے تیزی سے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ تربیلا اُور منگلا جیسے اہم آبی ذخائر میں گندگی کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہوئی ہے۔ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ غیر مو¿ثر نہری نظام، فرسودہ انفراسٹرکچر اور وسیع پیمانے پر پانی کی چوری، یہ سب جاری بحران کو مزید بڑھا رہے ہیں۔پاکستان کے زیر زمین پانی کے وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، خاص طور پر آبپاشی کے مقاصد کے لئے دستیاب پانی ناکافی ہے۔ آب و ہوا کی (موسمیاتی) تبدیلی اِن مسائل میں مزید پیچیدگیوں کو جنم دے رہی ہے، جس میں مون سون کے بے ترتیب پیٹرن، گلیشیئرز پگھلنے میں اتار چڑھا¶ اور طویل عرصے تک خشک سالی جیسے محرکات پانی کی دستیابی اور فراہمی کے نظام پر ’براہ¿ راست‘ اثر انداز ہو رہے ہیں۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ پانی جنوب ایشیائی خطے میں تیزی سے تغیرپذیر ’جغرافیائی سیاسی آلہ‘ بن گیا ہے۔ پاکستان کی افغانستان اور ایران کے ساتھ مغربی سرحدوں پر پانی سے متعلق تنازعات کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ افغانستان کی جانب سے دریائے ہلمند پر کمال خان ڈیم کی تعمیر کے نتیجے میں ایران کی جانب پانی کا بہا¶ کم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دریائے کابل کے حوالے سے بھی تنازعات موجود ہیں، جہاں افغانستان کے ڈیموں کی تعمیر کے ارادے سے خیبر پختونخوا کے کسانوں کے لئے پانی کی رسائی کے لئے خطرہ ہیں۔ 1960ءکا سندھ طاس معاہدہ (آئی ڈبلیو ٹی)، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے‘ کو تنازعات کے حل میں قابل ذکر کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ عالمی بینک کی مدد سے یہ معاہدہ مشرقی دریا¶ں راوی، ستلج اور بیاس کو بھارت کے حوالے کرتا ہے جبکہ مغربی دریا¶ں سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان کو اختیار دیتا ہے۔ اس کے باوجود حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے مغربی دریا¶ں پر پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیروترقی کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جسے پاکستان معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ سفارتی مذاکرات اور بین الاقوامی تنظیموں کی مداخلت کے ذریعے اس تنازعہ کو حل کرنے کی کوششیں اب تک ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔ عالمی سطح پر‘ پانی کے حقوق کا مسئلہ اہم تنازعہ کا سبب بنا ہوا ہے۔ پاکستان کے لئے آبی وسائل سے متعلق تنازعات کا خطرہ خاص طور پر بھارت کے حوالے سے واضح ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے حالیہ سفارتی تنا¶ بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی عکاسی کر رہا ہے جو ممکنہ طور پر مزید تنازعات کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر علاقائی اور عالمی اسٹیک ہولڈرز مو¿ثر انداز میں مداخلت نہیں کرتے تو آبی حقوق پر تنازعات کے امکانات بڑھ جائیں گے جس سے خطے میں استحکام اور امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ (بشکریہ دی نیوز۔ تحریر حنا آریا۔ ترجمہ اَبواَلحسن اِمام)

پاکستان میں پانی کا بحران محض ماحولیاتی خدشات سے بالاتر ہے اور قومی سلامتی، معاشی استحکام اور علاقائی امن کے لئے اہم چیلنج ہے۔ دریائے سندھ کا موجودہ نظام اگرچہ تاریخی طور پر اہم ہے لیکن عصر حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر ناکافی ہوتا جا رہا ہے۔ پانی کے انتظام کی نئی حکمت عملی تیار کرنا، جدید بنیادی ڈھانچے کے حل کو نافذ کرنا اور آنے والے بحران سے بچنے کے لئے علاقائی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔ جنوبی ایشیا میں پانی کے مسائل سے متعلق جاری پراکسی تنا¶ صورتحال کی نزاکت کو مزید بڑھا رہا ہے۔ اگر پاکستان نے فوری اور فیصلہ کن کاروائی نہ کی تو وہ خود کو دنیا کے پہلے بڑے آبی تنازعے میں کھڑا پا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔