پاک افغان طورخم تجارتی گزرگاہ 25 روز بعد کھول دی گئی

خیبر: پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم ترین تجارتی گزرگاہ طورخم بارڈر کو 25 دن کی بندش کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بحال ہوگئیں۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق، بارڈر کے قریب افغان کسٹم ہاؤس میں دونوں ممالک کے سیکیورٹی حکام کی ایک اہم فلیگ میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں دو روز قبل ہونے والے مشترکہ جرگے کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔

میٹنگ کے فیصلے کے مطابق:

  • طورخم کراسنگ تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھول دی گئی اور پاکستانی کارگو گاڑیاں افغانستان میں داخل ہو گئیں، جبکہ افغان تجارتی گاڑیاں پاکستان پہنچ گئیں۔
  • افغان مریضوں کو ہنگامی بنیادوں پر پاکستان آمدورفت کی اجازت دی گئی۔
  • پیدل آمدورفت کے لیے طورخم سرحد دو روز بعد کھولی جائے گی۔

پاکستانی جرگے کے سربراہ جواد حسین کاظمی کے مطابق، افغان حکام متنازعہ تعمیرات کو ختم کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں اور جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس تک فائربندی برقرار رہے گی۔

یاد رہے کہ افغان فورسز کی طرف سے تعمیرات کے تنازعے کے باعث تین ہفتے قبل طورخم سرحد کو بند کردیا گیا تھا، جس سے یومیہ 30 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہورہا تھا۔