جنوبی ایشیا بنا بھارت

جنوبی ایشیا کے 2 ارب لوگ علاقائی تعاون کے منتظر ہیں‘بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم (سارک)کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے اِس کی مذمت کی ہے‘ اب وقت آگیا ہے کہ سارک کو مضبوط کیا جائے اور اس کی جگہ جنوبی ایشیا امن و خوشحالی انیشی ایٹو (ایس اے پی پی آئی)تشکیل دیا جائے تاکہ علاقائی رابطوں کے ذریعے امن اور مشترکہ خوشحالی کے لئے جدوجہد کی جاسکے۔ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت کے بغیر جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کو آگے بڑھایا جائے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ ایک بھارتی تجزیہ کار نے فارن افیئرز جرنل میں جنوبی ایشیا کا خاتمہ کے اعلان سے مضمون لکھا ہے۔ ہیپی مون جیکب لکھتے ہیں کہ جنوبی ایشیا بنیادی طور پر بھارت کے ہمسائیوں کے درمیان اور ان کے ساتھ روابط کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مرکزیت کا  مطلب یہ ہے کہ نئی دہلی ہمیشہ علاقائی ڈھانچے کی تعمیر کو ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ اس طرح کے ڈھانچے خطے میں بھارت کی بالادستی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ مودی ایک مغرور ہندوتوا کا نظریہ رکھتا ہے اور اِس متعصب نظریئے میں چھوٹے ہمسایہ ممالک کی ترقی کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یقینی طور پر بھارت جنوبی ایشیا پر غلبہ چاہتا ہے۔ یہ کواڈ، برکس اور ایس سی او کی بیک وقت رکنیت رکھتا ہے۔ جی ٹوئنٹی سربراہ اجلاس کی میزبانی بھی بھارت کر چکا ہے۔ امریکہ کے ساتھ گہرے اسٹریٹجک دفاعی تعاون رکھتا ہے، جس نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ پر اسے استثنیٰ دینے کے لئے دباؤ ڈالا تھا۔ بھارت کی ترجیح روس ہے اور وہ روس کے لئے امریکہ کو نظر انداز کرتا ہے۔ بھارت کے عرب ریاستوں اور ایران کے ساتھ بیک وقت اچھے تعلقات ہیں اور کینیڈا و امریکہ کو اس کے بیرون ملک قتل پروگرام پر اعتراض ہے۔ جہاں تک جنوبی ایشیا کی ضرورت کا تعلق ہے تو مغرب کے چین کے خلاف سخت موقف کی وجہ سے بھارت کو معاشی اور فوجی طور پر مضبوط کیا جا رہا ہے۔بنیادی سوال یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کی ضرورت کس کو ہے؟ برطانیہ کے حالیہ وزیر اعظم امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار امریکہ کے نومنتخب نائب صدر کی اہلیہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر امریکی قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے لئے نامزد اور امریکہ کے نئے سرکاری کارکردگی کے محکمے میں دوسرے نمبر کے لئے نامزد افراد سبھی بھارتی نژاد ہیں؟ اور ڈونالڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر نامزد امریکی کانگریشنل کاکس کے سربراہ بھی بھارتی نژاد ہیں؟ ایک ہندوتوا لابی نے امریکہ میں پاں جمائے ہوئے ہیں جیسا کہ حال ہی میں ہارپر میگزین میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔ یہ خاص طور پر ایک ہندو قوم پرست لابی ہے، نہ کہ بھارتی گروپ۔ تارکین وطن کے جذبات کے باوجود، ہمارا مشرقی ہمسایہ ملک واضح معاشی عدم مساوات، چین کے مقابلے میں نسبتا کمزور، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بڑے پیمانے پر غربت اور بیق چین کسانوں سے بھرا ہوا ہے جیسا کہ راہل بھاٹیا، الپا شاہ اور کرسٹوفر جیفرلوٹ کی تین حالیہ تحریروں میں فیصلہ کن طور پر کہا گیا ہے، اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو منظم طریقے سے دبانے اور مودی کی طرف سے اختلاف رائے کو بے رحمی سے کچلنے نے شائننگ انڈیا کی چمک دمک کو ختم کر دیا ہے۔چین کے برعکس بھارت اپنی آبادی کی اکثریت کو غربت سے نکالنے میں ناکام رہا ہے۔ کورونا وباء کے دوران بھارت میں انفیکشن کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ تھی، جس کی وجہ سے 45 لاکھ اضافی اموات ہوئیں۔ وبائی امراض کے دوران غربت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ بھارتی علاقے کا ایک بڑا حصہ اب بھی الگ تھلگ اور مذہبی، نسلی اور ذات پات کی خرابیوں کے ساتھ ساتھ علیحدگی کی تحریکوں سے بھرا ہوا ہے۔مغربی کمپنیاں اپنی مینوفیکچرنگ کو چین سے دور بھارت کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام، تجارتی تحفظ پسندی، وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان خراب ہم آہنگی اور اقتصادی اعداد و شمار کے معیار اور سالمیت کے بارے میں شکوک و شبہات کی وجہ سے مینوفیکچرنگ میں یہ تیزی ابھی تک پوری نہیں ہو سکی ہے۔ سارک کے بارے میں ہمیشہ شکوک و شبہات کا شکار رہنے والے بھارت نے جنوبی ایشیا کی قیادت چھوڑ دی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ پاکستان جنوب ایشیا کی قیادت کرے۔ (بشکریہ دی نیوز۔ تحریر انجینئر خرم دستگیر خان۔ ترجمہ ابوالحسن اِمام)