انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کا شعبہ صرف معمولات زندگی ہی کو نہیں بلکہ کاروباری لین دین اور حکمت عملیوں کو بھی تبدیل کر رہاہے۔ اِس کی بدولت روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور نئی جنس کے ساتھ اجناس کی نئی منڈیاں بھی پیدا ہوئی ہیں جبکہ اِس شعبے میں توسیع کی بے پناہ صلاحیت الگ سے خصوصیت ہے۔ واضح رہے کہ آئی ٹی کی اصطلاح سافٹ ویئر کی ترقی، ہارڈ وئرز مینوفیکچرنگ، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی)، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سمیت متعدد شعبوں کا احاطہ کرتی ہے بلاشبہ مستقبل آئی ٹی کا ہے تاہم، یہ تشویشناک ہے کہ پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات، آئی ٹی انفراسٹرکچر، پالیسی سازی اور قواعد و ضوابط سے لے کر تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی اور فری لانسرز کو سہولت فراہم کرنے میں رکاوٹیں شامل ہیں۔ ان چیلنجوں سے نمٹنا حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ آئی ٹی انفراسٹرکچر برآمدات اور ای کامرس کی بنیاد ہے۔ چند سال قبل پاکستان عالمی سطح پر چوتھی بڑی فری لانسرز مارکیٹ کے طور پر موجود تھا جس میں نمبر ون بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ ہزاروں آئی ٹی پروفیشنلز اور نوجوان انٹرپرینیورز بین الاقوامی کلائنٹس کے لئے فری لانسرز کے طور پر کام کرتے ہیں اور ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ کماتے ہیں۔ ان افراد کو ہر سطح پر حوصلہ افزائی اور سہولیات کی ضرورت ہے۔ تیز رفتار انٹرنیٹ مؤثر آئی ٹی آپریشنز اور فری لانسرز کی مکمل صلاحیت کے لئے انتہائی اہم ہے۔ مناسب حکومتی سرپرستی کے ساتھ، پاکستان کے فری لانسرز پانچ سے دس برس میں ایک سو ارب ڈالر تک کی آمدنی حاصل کرسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے، انٹرنیٹ کی رفتار اکثر سائبر کرائم کنٹرول میکانزم کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے، جسے عام طور پر سکیورٹی پیراڈائم میں ”فائر وال“ کہا جاتا ہے۔
پاکستان اب بھی اس شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنے کے لئے مضبوط آئی ٹی انفراسٹرکچر تیار کر رہا ہے۔ آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کو فروغ دینے کے لئے سافٹ ویئر ٹیکنالوجی زون
(ایس ٹی زیڈ) اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس (ایس ٹی پیز) کا قیام ضروری ہے۔ حکومت کو آئی ٹی خدمات کے شعبے کی سہولت کے لئے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے) اور پاکستان سافٹ وئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) جیسے اداروں کو متحرک اور فعال کرنا چاہئے۔نیشنل انکیوبیشن سینٹر (این آئی سی) برآمدات کو بڑھانے اور معاشی ترقی کے مرکز کے طور پر جدت کو فروغ دینے میں بھی فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پالیسی سازوں کا شمالی کیرولائنا (امریکہ) میں ریسرچ ٹرائی اینگل پارک، بیجنگ (چین) میں ژونگ گوانکون اور اسٹاک ہوم (سویڈن) میں کسٹا سائنس سٹی جیسے کامیاب ماڈلز کو اپنانا چاہئے۔ مذکورہ مراکز نے اسکائپ اور اسپاٹائف جیسے ٹیک جائنٹس تیار کئے ہیں۔ پاکستان کو خود کو آئی ٹی مرکز کے طور پر قائم کرنے کے لئے اس طرح کے اقدامات کی تقلید کرنی چاہئے۔ آئی ٹی سیکٹر کی ترقی سست رفتار انٹرنیٹ کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے، جس سے آئی ٹی خدمات اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات پر منفی اثر پڑتا ہے۔ سستی اور قابل اعتماد تیز رفتار انٹرنیٹ، جدید ترین ڈیٹا سینٹرز اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی اس شعبے کے فروغ کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ آئی ٹی کو آگے بڑھانے کے لئے فائیو جی کوریج کو بڑھانا بھی ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت صنعتی بنیادی ڈھانچے کو نئی شکل دے رہی ہے اور اس کی کارکردگی تیز رفتار انٹرنیٹ پر منحصر ہے۔حکومت کو براڈ بینڈ کی سہولیات کی بحالی کو ترجیح دینی چاہئے تاکہ اس شعبے کو پھلنے پھولنے میں مدد مل سکے اور برآمدی آمدنی میں نمایاں کردار ادا کیا جا سکے۔ برآمدات کو بڑھانے کے لئے ڈیٹا تجزیات اور بلاک چین میں جدت ضروری ہے لیکن فی الحال ان کی کمی ہے، جس سے شعبے کی مجموعی کارکردگی پر منفی
اثر پڑتا ہے۔ پاکستان فری لانسرز کی مارکیٹ میں اپنا حصہ کئی عوامل، خاص طور پر سست انٹرنیٹ کی رفتار کی وجہ سے کھو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے لئے ایک مضبوط پالیسی فریم ورک اور قواعد و ضوابط کی فوری ضرورت ہے لیکن پاکستان میں فی الحال اس طرح کے اقدامات کا فقدان ہے۔ آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں ڈیٹا پرائیویسی ایک بنیادی تشویش ہے اور پالیسی سازوں کو اس کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہئے۔ پاکستان ابھی تک آئی ٹی اور آئی ٹی خدمات کے میدان میں اپنے سب سے اہم وسائل یعنی اپنے نوجوانوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ مناسب تربیت اور رہنمائی کے ساتھ، نوجوان گریجویٹس معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت کو اس غیر استعمال شدہ صلاحیت کو فروغ دینے کے لئے نجی کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ پاکستان کو عالمی آئی ٹی مرکز کے طور پر قائم کرنے کے لئے ایک قابل افرادی قوت ضروری ہے۔ آئی ٹی اور ڈیجیٹل مارکیٹوں کو وسعت دینے میں مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے نجی شعبے کی شمولیت انتہائی اہم ہے۔ نوجوان فری لانسرز کی ایک بڑی تعداد کو تربیت دے کر پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت پر غلبہ حاصل کرنے کے اپنے خواب کو پورا کرسکتا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کا مستقبل آئی ٹی ماہرین کی اگلی نسل کو بااختیار بنانے میں مضمر ہے۔ بنیادی طور پر، پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر صلاحیت سے بھرا ہوا ہے لیکن اسے متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے جو اس کی ترقی اور معیشت میں شراکت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ تیز رفتار انٹرنیٹ، ریگولیٹری اصلاحات، ڈیٹا پروٹیکشن، اور کاروبار کرنے میں آسانی اس صلاحیت سے کماحقہ استفادے کے لئے ضروری ہیں۔ حکومت کو ان مسائل سے نمٹنے کے لئے فوری اور جامع اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ملک عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں پاکستان اپنی مسابقتی برتری کھو نہ دے۔ پاکستان کی معیشت کے مستقبل کا دارومدار آئی ٹی کی طاقت کو بروئے کار لانے کی صلاحیت پر ہے۔ (بشکریہ دی نیوز۔ تحریر حسن بیگ۔ ترجمہ اَبواَلحسن اِمام)