1921ءمیں بائیں بازو کی سوچ رکھنے والے کچھ لوگوں نے شنگھائی میں چینی کمیونسٹ پارٹی قائم کی اور 1949ءمیں چینی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما ماو¿ زے تنگ نے بیجنگ میں ’پیپلز ریپبلک آف چائنا‘ کی بنیاد رکھی۔ کمیونسٹ پارٹی کو کسانوں کی حمایت حاصل تھی اور چیانگ کائی شیک کی قیادت میں قوم پرست کامنتانگ پارٹی کو ہرا دیا تھا۔ اس سیاسی لڑائی میں امریکہ نے کامنتانگ پارٹی کی حمایت کی تھی‘ جس کی وجہ سے ماو¿ زے تنگ کے اقتدار میں آنے کے بعد کئی دہائیوں تک چین امریکہ تعلقات محدود ہی رہے۔ جون 1950ءمیں سوویت یونین کی حمایت یافتہ شمالی کوریا کی فوج نے جنوبی کوریا پر حملہ کر دیا۔ اس جنگ میں جہاں ایک طرف اقوام متحدہ اور امریکہ نے جنوبی کوریا کا ساتھ دیا وہیں چین نے شمالی کوریا کی حمایت کی۔ ابتدا میں کمیونسٹ چین اور امریکہ کے تعلقات کافی منفی رہے۔ اُس دور میں کوریا کی جنگ بھی ہوئی جس میں کمیونسٹ نظریہ رکھنے والے چین اور شمالی کوریا ایک ساتھ تھے لیکن مذکورہ جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکل پایا بلکہ 1953ءمیں اقوام متحدہ‘ چین اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت جنگ بندی ہوئی۔ اس جنگ میں قریب چالیس ہزار امریکی فوجی مارے گئے جبکہ چینی فوجیوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ تھی‘ جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہوئے۔ 1954ءمیں امریکہ اور چین ایک بار پھر تائیوان کے معاملے پر آمنے سامنے ہوئے اور امریکہ نے چین پر جوہری حملہ کرنے کی دھمکی دی‘ جس کے بعد چین کو سمجھوتا کرنے پر مجبور ہونا پڑا تاہم چین نے اس دھمکی کو ایک چیلینج سمجھا اور 1964ءمیں اس نے اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا۔
اس پر بھی امریکہ اور چین کے درمیان اختلافات کھڑے ہوئے تاہم ان دونوں ملکوں کے رشتوں میں ایک نیا موڑ تب آیا جب چین اور سوویت یونین کے درمیان ’چین کی مبینہ سخت گیر صنعتی پالیسیوں‘ کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہونے لگی جس کے بعد ان دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ جلد ہی چین کے لئے سب سے بڑا خطرہ امریکہ نہیں بلکہ روس بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی چین امریکہ تعلقات معمول پر آنے لگے۔ 1972ءمیں امریکہ کے صدر رچرڈ نکسن نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی طرف قدم بڑھایا۔ وہ چین پہنچے اور وہاں آٹھ دن گزارے۔ اس دوران انہوں نے کمیونسٹ رہنما ماو¿ زے تنگ کے ساتھ ملاقاتیں کی اور اِس دوران ’شنگھائی کمیونیک‘ پر دستخط بھی کئے‘ جسے چین اور امریکہ کے بہتر ہوتے تعلقات کی علامت کہا گیا۔ ’امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہینری کسینجراور رچرڈ نکسن نے چین کو عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو بدلنے کا ذریعہ سمجھا اور یہ سوچا کہ اگر امریکہ کمیونسٹ بلاک میں کچھ اختلافات پیدا کر سکے اور چین کو سوویت یونین سے الگ کر سکے تو اچھا رہے گا۔ اور امریکہ نے بالکل یہی کیا۔ اس وقت تک چین اور سوویت یونین میں بھی نظریاتی اختلافات سامنے آنے لگے تھے۔
ادھر ماو¿ بھی سوچ رہے تھے کہ امریکہ کے ساتھ شروعات کی جائے۔ ایسے میں نکسن کی طرف سے پہل ہوتے دیکھ کر چین نے سوویت یونین سے ہٹ کر امریکہ کے ساتھ جانے میں دیر نہیں کی اور امریکہ سے اسے جو فائدہ مل سکتا تھا‘ چین نے اسی پر اپنی تمام توجہ مرکوز کی۔ چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لئے امریکہ نے 1980ءکی دہائی میں کچھ بڑے اقدامات کئے۔ تب تک ماو¿ زے تنگ کی موت کے بعد ڈینگ ژیاو¿ پنگ چین کے رہنما بن چکے تھے۔ ڈینگ ژیاو¿ پنگ نے چین کی معطل معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے کچھ اقتصادی اصلاحات متعارف کرائیں اور چین کو جدید دور میں لانے کی بات کی۔ جس کے تحت انھوں نے بین الاقوامی بازار کے لئے چین کے دروازے کھول دیئے اُور اس وجہ سے 1985ءکے آتے کئی بڑی جاپانی اور امریکی کمپنیوں نے چین میں دلچسپی لینا شروع کی‘امریکہ کو لگا کہ آہستہ آہستہ چین ہماری طرح بن جائے گا کیونکہ اقتصادی سطح پر چین امریکہ جیسا ہی لگنے لگا تھا تاہم 1989ءمیں جب چینی حکومت نے بیجنگ کے تیانیمن سکوائر میں ’جمہوری اصلاحات کی حمایت اور بدعنوانی کے خلاف‘ مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف فوجی کاروائی کی تو امریکہ نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانے کی کوشش پر عارضی روک لگا دی اور چین کو اسلحہ اور جنگی سامان کی سپلائی بھی بند کر دی۔
1990ءکی دہائی میں چین نے بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لئے کئی ایسے قدم کئے جن سے وہ انسانی حقوق کے حامیوں کے طور پر نظر آیا۔ چینی حکومت نے نان پرولیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی) پر دستخط کئے اور ایپیک کی رکنیت کے لئے چین نے تائیوان اور ہانگ کانگ کو الگ الگ معیشتوں کے طور پر قبول کر لیا۔ 2000ءمیں امریکی صدر بل کلنٹن جو 1998ءمیں چین کا دورہ کر چکے تھے‘ چین کے ساتھ امریکہ کے تاریخی تعلقات ہیں لیکن پچھلے چالیس برس کچھ خاص رہے ہیں اس دور میں بہت آوازیں اٹھیں جنہوں نے کہا کہ ہمیں چین کے ساتھ وہی کرنا چاہئے جو ہم نے سوویت یونین کے ساتھ کیا لیکن امریکہ نے اس کے برعکس چین کے ساتھ مل کر کام کیا‘ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پچھلے چالیس برسوں میں دونوں ممالک نے کافی ترقی کی ہے لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ جھنجھلایا ہوا ہے کیونکہ چین کی اکڑ واشنگٹن میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو پسند نہیں جس وجہ سے امریکہ میں خاص طور پر تاجر برادری کی چین کے بارے میں رائے تبدیل ہوئی ہے۔ کچھ سال پہلے جو امریکی چین کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے وہ اب ایسا نہیں سوچتے۔ بہت سے امریکیوں کو لگتا ہے کہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینے میں امریکہ نے بہت دیر کر دی ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر امجد باسط۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)