سیاست پانی اور سیاست

عالمی سطح پر رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان بھی یکساں متاثر ہو رہا ہے۔ کرہئ ارض کے درجہئ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ہمارے ہاں بھی برفانی تودے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق علوم کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اِس سلسلے میں اہل زمین نے فوری اور مشترکہ و متحدہ لائحہ عمل تشکیل نہ دیا تو کرہئ ارض پر انسانوں کا وجود جو پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے معدومی جیسے خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔ توجہ طلب ہے کہ رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کی شرح زیادہ ہے تو دوسری طرف یہ ہمیں مطلع اُور خبردار کرنے کا بھی ذریعہ ہیں کہ انسان اپنے گردوپیش سے بے غرض ہو کر دانشمندانہ اقدام نہیں کر رہا۔ ماحولیاتی تنوع اور ماحولیات کے کرہئ ارض پر اثرات کا دوسرا پہلو ”پانی کا بحران“ ہے۔ اگر حکومت تعمیری سوچ کے ساتھ ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی مرتب کرے تو بارش کا وہ پانی جو سیلاب کی صورت بھٹکتے ہوئے دیہات اور شہروں میں ہر سال تباہی پھیلانے کا باعث بنتا ہے اُسے ذخیرہ کرکے مختلف مقاصد بشمول آبپاشی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پانی کی کمی کے باعث ملک کے چاروں صوبوں میں کھیتی باڑی متاثر ہو رہی ہے اور اِس سلسلے میں ایک قومی حکمت عملی تشکیل دی جائے تو اُس کے خاطرخواہ بہتر اور کثیرالجہتی نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ درحقیقت پاکستان کی ضرورت ایک ایسی قومیآبی پالیسی کی ہے جس میں مسئلے کا وقتی نہیں بلکہ طویل المدتی حل اور نتیجہ حاصل ہو سکے۔ماحولیاتی تنوع میں عدم توازن پاکستان کے آبی بحران میں اضافہ کررہا ہے‘ جس کا پاکستان کی صحت عامہ اور معیشت پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں فراہم کیا جانے والا 80فیصد سے زیادہ پانی پینے کے لائق نہیں اور اِس میں خطرناک مادوں کی آمیزش اِس قدر زیادہ ہے کہ یہ انسان تو کیا جانوروں کے استعمال کے لئے بھی غیر محفوظ قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے جاری کردہ حقائق نامے کے مطابق ”پانی کی قلت اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے نتیجے میں پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی (جی ڈی پی) کا 1.44 فیصد حصہ ضائع ہو جاتا ہے یعنی پاکستان کی آمدنی کے ہر 100 روپے میں سے اگر قریب 2 روپے ضائع ہو رہے ہیں تو یہ قطعی طور پر غیرمعمولی بات ہے اور اِس مستقل و مسلسل نقصان کو روکنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ علاؤہ ازیں ورلڈ بینک کے واٹر اینڈ سیینیٹیشن پروگرام (ڈبلیو ایس پی) نے کہا ہے کہ صفائی کی ناکافی وجہ سے ہر سال پاکستان کو تین اعشاریہ تین ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔ جو ملک کی مجموعی خام آمدنی (جی ڈی پی) کے قریب 4 فیصد کے برابر ہے۔ یقینا یہ اعدادوشمار حقیقت کا پورا بیان نہیں اُور نقصان اِس سے کئی گنا زیادہ ہو رہا ہے‘ جسے مزید برداشت کرنا اُور جسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ مون سون سیزن ہو یا اِس کے علاؤہ ہونے والی بارشیں پاکستان کے لئے دونوں ہی خاطرخواہ مفید نہیں۔ حالیہ مون سون سیزن کے بارے میں محکمہ موسمیات نے کہاکہ کراچی میں صرف بارہ گھنٹوں کے دوران 223.5ملی میٹر بارش ہوئی۔ شہر میں ایک ہی دن میں اب تک بارش کی یہ سب سے زیادہ مقدار ہے اور اِسی وجہ سے شہر سے نکاسیئ آب کا نظام مفلوج ہو گیا کیونکہ بارش غیرمعمولی مقدار میں برستی رہی۔ چونکہ ’گلوبل وارمنگ‘ کے تباہ کن اثرات تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں اُور بارشوں کے اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں‘ اِس لئے قومی فیصلہ سازوں کو آئندہ برسوں کے لئے سوچنا چاہئے کیونکہ جس تناسب سے بارشیں ہوئی ہیں اندیشہ یہی ہے کہ آئندہ مون سون سیزن بھی زیادہ مختلف ثابت نہیں ہوگا اُور آئندہ برسوں کے دوران بارش کا یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ جائے گا۔ اِس صورتحال سے نمٹنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اُور اسے ضائع ہونے سے بچانے کے علاؤہ کارآمد رکھا جائے۔ اگر پاکستان میں آبی ذخائر کے حوالے سے سیاست نہ ہو اور پانی کو قیمتی سمجھتے ہوئے اِس کی قدر کا خاطرخواہ احساس کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ جو بارش کا پانی نقصان کا باعث بنتا ہے وہی مؤثر انداز میں ذخیرہ ہونے کی وجہ سے فائدے کا باعث بنے۔ پانی کا آبی بحران درحقیقت پاکستان کی داخلی سلامتی کے نکتہئ نظر سے بھی اہم چیلنج ہے۔ اقوام متحدہ پہلے ہی پیش گوئی کرچکی ہے کہ پاکستان نے اپنے آبی ذخائر کی استعداد و تعداد میں اضافہ نہ کیا اُور بروقت آبی حکمت عملی کے حوالے سے عملی اقدامات نہ کئے تو (اندیشہ ہے کہ) پاکستان 2025ء تک خشک سالی کی شدید گرفت میں ہوگا اُور پاکستان میں ہونے والی زرعی پیداوار میں اِس حد تک کمی ہوگی کہ اُسے دور کرنا حکومت کے لئے ممکن نہیں رہے گا۔ اِس لئے بروقت اقدامات اُور بروقت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ پانی قدرت کی جانب سے نعمت ہے جسے باعث زحمت بننے کی وجہ ہماری ناقص منصوبہ بندی ہے اور اگر اِس سلسلے میں سوچ بچار سے کام لیا جائے تو نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ پانی کے موجودہ بحران کے اثرات معاشی تناؤ اور تنازعات کی صورت پہلے ہی اُبھرنا شروع ہو چکے ہیں اور اِس سلسلے میں خاطرخواہ کاروائی نہیں کی جاتی تو یہ بحران بڑھے گا۔ یہ وقت آبی سیاست کا نہیں بلکہ آبی ذخائر اُور قومی آبی حکمت عملی (پالیسی) وضع کرتے ہوئے قومی اتحاد و اتفاق کی گھڑی ہے کہ سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی ضرورت کا احساس کیا جائے۔ (مضمون نگار پیپلزپارٹی کی رہنما اور سندھ اسمبلی کی رکن ہیں۔ بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: شرمیلا فاروقی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)