کورونا وبا کی دوسری لہر پاکستان جیسے ملک کے لئے خطرہ ہو سکتی ہے جہاں پہلی لہر کی وجہ سے کورونا کے خلاف جسمانی قوت مدافعت کام کر گئی لیکن دوسری لہر میں متاثرہ افراد کی بڑی تعداد نہیں بچ پائے گی کیونکہ قوت مدافعت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک وہ کہ جس کے ذریعے پہلے حملے سے بچاو¿ اور دوسرے حملے کی تیاری ہوتی ہے جبکہ دوسری قسم میں صرف پہلے حملے سے بچاو¿ ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ وہ سبھی لوگ جن کی عمریں پچاس سال سے زیادہ اور جن میں موروثی بیماریوں کے اثرات جنیاتی طور پر پائے جاتے ہیں اُن میں کورونا وبا کی دوسری لہر زیادہ تیزی سے اثر انداز ہوتی ہے۔ دانشمندی اِسی میں ہے کہ کورونا وبا کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اِس سلسلے میں حکومت و طبی ماہرین کی جانب سے بار بار کی تلقین و نصیحت کو خاطرخواہ توجہ دی جائے۔ درحقیقت یہ وقت اُن تمام معمولات کو ترک کرنے یا اُن پر نظرثانی کا ہے جو کورونا وبا سے بچنے کے لئے سماجی فاصلوں کا تقاضا کرتی ہے۔کورونا نے صرف دفتری اور کاروباری معمولات ہی نہیں بلکہ گھر سے کام کرنے والوں کے اوقات اور طریقہ¿ کار کی نوعیت بھی بدل کر رکھ دی ہے۔ اگر کسی کو یہ خطرہ ہے کہ کورونا کی وجہ سے سماجی دوری کے باعث دوستیاں برقرار نہیں رہیں گی تو یہ غلط فہمی ہے بلکہ کورونا کے دور میں دیگر ذرائع سے دوستیاں قائم کی جا سکتی ہیں اور یہ بات حیرت انگیز نہیں ہونی چاہئے کہ نئی دوستیاں بھی بنائی جا سکتی ہیں اور سماجی زندگی کو زندہ رکھنے کے لئے وہ سب کچھ ممکن ہے‘ جو کورونا سے قبل معمول تھا۔ بہت سارے لوگوں کے لئے کام کاج کے مقامات وہ اولین جگہ ہوتی ہے جہاں دوست بنائے جاتے ہیں لیکن دفتر صرف دوست بنانے ہی کے لئے بلکہ دوستیاں ختم کرنے کی جگہیں بھی ہوتی ہیں کیونکہ بہت سارے لوگ اپنی ملازمتیں تبدیل کرتے ہیں‘ جن کے ساتھ اُن کی دوستیاں بھی تعطل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ دفتر سے باہر شروع ہونے والی دوستیاں زیادہ پائیدار اور مضبوط ہوتی ہیں کیونکہ ان کی بنیاد کئی مشترکہ دلچسپیوں اور ایک دوسرے کے بارے میں گہری ذاتی معلومات پر قائم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس کام کاج کی جگہوں پر ہونے والی دوستیاں اکثر کمزور ہوتی ہیں کیونکہ ان کی بنیاد زیادہ تر معاملات میں صرف مشترکہ حالات اور ہلکی پھلکی ملاقاتوں پر ہوتی ہے۔ دفتری ساتھیوں کے ساتھ دوستیاں ’آسانی کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں کیونکہ انہیں اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ وہ دوست ہوتے ہیں جن سے آپ چائے یا کھانے کے وقفے کے دوران بات کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو ہمیشہ آپ کے لئے دستیاب ہوتے ہیں کیونکہ ان کی اور آپ کی ملازمت کے اوقات اور مقامات ایک جیسے ہیں۔ موجودہ حالات میں چونکہ گھر سے کام کرنے کی وجہ سے سماجی میل جول ختم ہو چکا ہے‘ اس لئے کام کاج کی جگہوں پر بنائی گئی دوستیاں ختم ہو رہی ہیں اور حالیہ مہینوں کے دوران انہیں مصنوعی (ورچوئل) بنیادوں پر قائم رکھنا لوگوں کی اوّلین ترجیح نہیں رہی ہے۔ کام کاج کے مقامات پر دوستیاں قائم رکھنے کی ضرورت اپنی جگہ ہے تاہم سماجی فاصلوں کی صورت میں یہ سلسلہ معطل ہونے کے بعد متبادل طریقوں پر غور ہونا چاہئے۔ امریکہ کے ایک تحقیقی ادارے نے امریکہ‘ جرمنی اور بھارت میں 12ہزار سے زائد ملازمین سے متعلق ایک جائزہ مکمل کیا جس میں کورونا وبا کے دوران گھر سے کام کرنے والے نصف سے زائد جواب دہندگان نے کہا کہ گھروں سے کام کاج کرنے کی وجہ سے اُن کی کارکردگی خراب ہوئی ہے اور مل جل کر کام کرنے (ٹیم ورک) سے اُن کی کارکردگی زیادہ بہتر ہوا کرتی تھی۔ اس تجزیے کی وجہ سے کارکردگی اور سماجی تعلقات کے درمیان براہِ راست تعلق پایا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ کام کاج کی جگہوں پر بننے والے تعلقات مثبت جذبات پیدا کرتے ہیں۔ امریکی ملازمین کے ایک گیلپ سروے میں حصہ لینے والے نصف سے زیادہ لوگوں نے بتایا کہ اُن کے بہترین دوستوں کا تعلق اُن کے کام کاج کی جگہوں پر پائے جانے والے دوست ہیں۔ اِس سلسلے میں انہوں نے اپنے کام کاج سے جذباتی تعلق ہونے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اُنہیں اپنی کمپنی سے مضبوط تعلق محسوس ہوتا ہے۔ کام کی جگہ پر قریبی دوست نہ رکھنے والے صرف دس فیصد لوگوں نے ہی ایسا کہا۔ سال 2016ءمیں امریکی جریدے پرسنل سائیکولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں محققین کے ایک گروہ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ کام کاج کی جگہوں پر قائم ہونے والے تعلق اگرچہ زیادہ پائیدار نہیں ہوتے لیکن اُن کے انسانی شخصیت پر اثرات دیرپا اور پائیدار رہتے ہیں۔ محققین نے اس کی کئی ممکنہ توجیہات پیش کیں۔ اس بات کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ لوگ دوست سمجھے جانے والے ساتھیوں سے مدد اور مشورہ لیتے ہیں اور غیر رسمی طریقوں سے معلومات کا تبادلہ زیادہ مو¿ثر اور مجموعی حوصلہ بلند رہتا ہے۔ مختصراً کہیں تو اپنے کام کاج کے ساتھیوں سے اپنائیت کا احساس ملازمین کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون رہتا ہے اور کورونا وبا کے دوران سماجی فاصلے اگرچہ زیادہ ہیں لیکن تعلقات ختم نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ اگر ایسا ہوا کہ اِس سے انفرادی اور اجتماعی طور پر کسی بھی شعبے کی کارکردگی بُری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ حلقہ احباب وسیع رہنا چاہئے چاہے سماجی دوری اختیار کرنے کی وجہ سے رابطوں میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ درپیش ہوں۔ جدید مواصلاتی رابطوں (موبائل فونز‘ انٹرنیٹ اور کمپیوٹرز) کا استعمال کرتے ہوئے فاصلے قربت سے بھی تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر ظل ہما۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)