نواز لیگ: نیا امتحان

ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی درجہ حرارت کے تناظر میں دیکھا جائے تو جو کچھ مولانا فضل الرحمٰن نے کیا ہے وہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا۔ یہ اس ظرافت کا عکاس ہے جس کے بارے میں وہ مشہور ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک تصویر میں مولانا فضل الرحمٰن کو آنکھوں پر دھوپ سے بچنے کی عینک اور چہرے پر مسکراہٹ سجائے شمالی علاقہ جات میں وقت گزارتے دیکھا گیا۔ ان کے پس منظر میں سرسبز پہاڑ اور بہتا دریا بھی دکھائی دے رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ تصویر اصل نہیں بلکہ فوٹو شاپ کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ تصویر میں نظر آنے والی جگہ کشمیر کی وادی نیلم ہے۔ حقیقت کچھ بھی ہو اگر اس تصویر میں کوئی سیاسی پیغام تھا تو وہ دلچسپ اور پرلطف تھا۔ جن مخالفین پر مولانا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تشکیل کے بعد سے تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں کیا اپنے اس عمل سے انہیں پیغام دیا گیا ہے کہ وہ ایسے کسی حربے سے خوفزدہ نہیں ہیں ۔ اگر معاملے کے سنجیدہ پہلو پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات اب صاف نظر آرہی ہے کہ نواز شریف نے سخت مو¿قف اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے وہطویل عرصے تک خاموش رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی کو بھی اس بات کی اجازت دینے کے لئے راضی نہیں ہیں کہ وہ انہیں خاموش کرانے کے لئے مریم نواز کی پاکستان میں موجودگی اور ان کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کو استعمال کرسکے۔ ظاہری طور پر یہ فیصلہ مریم نواز کو اعتماد میں لے کر کیا گیا ہے۔ خود مریم نواز بھی خاموش رہ کر پارٹی قیادت کی جانب سے کسی موقع کا انتظار کرنے کے بجائے ایک ایسے راستے کا انتخاب کر رہی ہیں جس کی جانب وہ فطری طور پر مائل نظر آتی ہیں۔ اگر پی ڈی ایم کے اجلاس میں کی گئی نواز شریف کی تقریر ان کی تبدیل شدہ حکمتِ عملی کا پہلا اشارہ تھی تو پارٹی کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب اس بات کی تصدیق تھی کہ اب ایک جارحانہ پالیسی اپنا لی گئی ہے۔ سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں موجود کچھ رہنماو¿ں کے مطابق نواز شریف نے اپنی تقریر سے ماحول گرما دیا تھا۔۔ کمیٹی کے ایک رکن‘ جن کا بلاشبہ تعلق مریم نواز کے کیمپ سے تھا‘ انہوں نے بتایا کہ ’میاں صاحب کے خطاب کے بعد دیگر پارٹی قائدین نے بھی خطاب کیا اور پارٹی پالیسی اور اپنے قائد کی حمایت کا یقین دلایا۔ آخر میں سینیٹر پرویز رشید نے احسن اقبال سے درخواست کی کہ وہ مریم نواز کو خطاب کا موقع دیں۔‘ اگرچہ مریم نواز نے بمشکل پندرہ منٹ بات کی مگر خود کو ایک حقیقی لیڈر ثابت کیا۔ حاضرین کو اب کوئی شبہ نہیں رہا تھا کہ پارٹی کا مستقبل کون ہے۔ ان کی تقریر بہت واضح تھی اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں ان کے ذہن میں کوئی الجھن نہیں تھی۔ گزشتہ کچھ دنوں میں مسلم لیگ (نواز) کے قائدین سے جب پارٹی کے مقاصد اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے بارے میں سوال کیا گیا تو زیادہ تر قائدین نے یا تو اپنے سوچ ظاہر نہیں کی یا پھر خاطر خواہ معلومات نہ ہونے کے سبب عمومی جوابات ہی دے سکے۔ بہرحال اس صورتحال میں ایک بات تو واضح ہے کہ متعدد طے شدہ ریلیوں اور دیگر عوامی سرگرمیوں کی وجہ سے رواں ماہ مسلم لیگ (نواز) کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ اِن سرگرمیوں کا مقصد عوامی حمایت کو جانچنا ہے۔ اس بارے میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ منصوبہ بندی کے مطابق پنجاب حزبِ اختلاف کی تحریک میں ہراوّل دستے کا کام کرے گا اور جیسا کہ مسلم لیگ (نواز) کا خیال ہے اگر پنجاب کا بڑا حصہ واقعی اہل اقتدار کے رویئے سے ناخوش ہے تو لوگ ضرور پی ڈی ایم کی کال کا جواب دیں گے پھر پنجاب میں مسلم لیگ (نواز) کی انتخابی قوت پر تو کسی نے کبھی بھی کوئی شک نہیں کیا۔کیا عوام حکومتکے ردعمل کی پرواہ کئے بغیر سڑکوں پر نکل آئیں گے یہ اہم سوال ہے ۔۔ حتیٰ کے مثبت ترین سوچ کے حامل سیاسی ماہرین کا بھی خیال ہے کہ اس وقت حکومت کی طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کی امید رکھنا کہ عوام سڑکوں پر نکلیں گے سیاست کے اجنبی راستے پر قدم رکھنے کے مترادف ہوگا۔ مسلم لیگ (نواز) کے ایک سینئر رہنما کا خیال ہے کہ اِس وقت پارٹی کے قائدین اور خاص طور پر مریم نواز کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ گرفتاریوں سے بچے رہیں۔ ان کی گرفتاری پارٹی کے لئے دھچکا ہوگی کیونکہ دیگر قائدین کی نسبت وہ پارٹی کے حمایتیوں کی حوصلہ افزائی بہت بہتر انداز میں کرسکتی ہیں۔ گوکہ مسلم لیگ (نواز) عوامی سیاست کا ایک ایسا کھیل کھیلنے جارہی ہے جس کے انجام سے کوئی واقف نہیں اور اس کی حکمتِ عملی کے بارے میں بھی کئی سوالات سر اٹھائے ہوئے ہیں لیکن ان تمام چیزوں کے بعد بھی اس کی سرگرمیوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرے پر سنجیدگی سے نظر رکھی جارہی ہے اور اس کے اشارے بھی نظر آرہے ہیں جن کو دیکھنے کے لئے زیادہ کوشش کی ضرورت نہیں ہے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: عباس ناصر۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)