سماجی تبدیلی اور اخلاقیات

پاکستان میں تبدیلی کا عمل جاری ہے لیکن یہ تبدیلی اُس وقت تک اَدھوری رہے گی جب تک جرائم میں کمی کی صورت سماجی تبدیلی عملاً ظاہر نہیں ہوجاتی۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ تجزیے میں ملک میں بڑھتی ہوئی مغربیت کا حوالہ دیا ہے جس کا اثر و رسوخ پریشان کن ہے۔ وزیرِاعظم نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے ذریعے پھیلنے والی اِسی مغربی ثقافت کی وجہ سے بھارت دنیا میںریپ کیپیٹل بنا ہوا ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ جنسی زیادتی کے واقعات بھارت میں پیش آتے ہیں۔ وزیرِاعظم اور ملک کے دیگر حلقوں کی جانب سے اختیار کئے جانے والے عالمی منظرنامے میں اس مغربیت کا مظہر روایتی خاندانی نظام کا خاتمہ ہے۔قابلِ غور ہے کہ روایتی خاندانی نظام کو اکثر ایک مثالی نظام سمجھا جاتا ہے تاہم اس کی مناسب تعریف شاید ہی کی گئی ہو۔ یہ بات واضح نہیں کہ اس نظام میں صرف ایک خاندان آتا ہے یا پھر مشترکہ خاندان یا پھر قبائل اور برادری کی بنیاد پر قائم خاندان بھی اس میں شامل ہیں۔ اس مبہم اصطلاح کا مطلب جو بھی ہو اس کا موازنہ اکثر دوسروں سے منقطع افراد‘ خاندانی رشتوں سے بے بہرہ اور اخلاقی زوال کے سمندر میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے مبالغہ انگیز خیال سے کیا جاتا ہے۔ وزیرِاعظم نے جن نکات کا ذکر کیا وہ پاکستان اور دنیا کے کسی دوسرے ملک کےلئے نئے نہیں ہیں۔ ۔ اس خیال میں دنیا کا ایک خاص تصور بھی پوشیدہ ہے۔ یہ بات کلی طور پر غلط بھی نہیں ہے۔ نظریات‘ ثقافت اور معاشرتی اقدار یقینا جارحانہ روئیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن اسے صرف کسی ایک نظریے یا ایک قسم کی ثقافت تک محدود کرنا درست نہیں ہے۔ خواتین پر تشدد اور اس قسم کی دیگر حرکات جو اخلاقی پستی کے زمرے میں آتی ہیں‘ جو صدیوں سے چلی آرہی ہیں۔ یہ اس وقت بھی ہوا کرتی تھیں جب نہ ہی گلوبلائزیشن کا وجود تھا اور نہ ہی بولی وڈ کا۔ اس قسم کے معاشرتی تشدد کا ارتکاب اس وقت بھی ہوا کرتا تھا جب معاشرے پوری طرح روایتی خاندانی نظام کی بنیاد پر قائم تھے۔ اس وجہ سے یہ موازنہ شاید سو فیصد درست نہیں ہے تاہم دلیل میں اس واضح خامی کے باوجود اگر آگے دیکھا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہو اگر نظریات اور ثقافت میں آنے والی تبدیلی جو پاکستان میں ثقافتی اقدار لئے خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی ہے کسی اور چیز سے متعلق ہو۔ کیا ہو اگر اس کا تعلق معاشرے کی مادی بنیاد میں ہونے والی تبدیلی سے ہو۔ اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی میں پہلی اور دوسری عظیم بیداری کے دوران یہ خاندانی نظام اور اقدار ایک بار پھر توجہ کے مرکز بنے جب معاشرے کے اخلاقی زوال کے خلاف متوسط طبقے کے افراد کو متحرک کرنے کی کوشش کی گئی۔اس وقت اخلاقی زوال کے اسباب کیا تھے ۔اس کا آسان جواب یہ ہے کہ لوگوں کو خوف کا شکار کرنے والی یہ ثقافتی تبدیلیاں اس لئے پیدا ہوئیں کیونکہ معاشرے کے ظاہری خدوخال بدلنے لگے۔ اُنیسویں صدی میں بڑے پیمانے پر صنعت کاری‘ شہر کاری اور نقل مکانی ہوئی۔ لوگوں کو غربت اور نسلی معاشی تعصب سے بچنے کے لئے مغرب یا شمال کی جانب ہجرت کرنا پڑی۔ انہیں سماجی و معاشی بہتری کے لئے بڑے خاندانی نظام سے الگ ہونا پڑا اور پھر جیسا کہ متوقع تھا کہ اس طرح کی تبدیلیوں کے نتیجے میں پہلے اخلاق اور اقدار پر شبہات پیدا ہوئے اور پھر ان میں تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ ۔ جیسے جیسے نئے معاشی مواقع اور رکاوٹیں سامنے آئیں گی مشترکہ خاندان انفرادی خاندانوں میں تقسیم ہوں گے جس کے نتیجے میں خواتین کے لئے زیادہ نقل و حرکت ممکن ہوگی اور جب تک معاشی تبدیلی کا عمل جاری رہے گا اس ثقافتی تبدیلی کا سفر بھی جاری رہے گا۔ اس تمام بحث سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ معاشرے تبدیلی کے عمل سے گزرتے ہیں اور اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جن میں معاشی حالات اہم کردار ادا کرتے ہیں اگر معیشت مضبوط ہو اور معاشرے میں خوشحالی ہو تو یقینا اس کے اثرات انسانوں کے رویئے میں بھی نظر آنے لگتے ہیں جس کا عملی مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آرہا ہے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: عمیرجاوید۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)