امریکہ میں صدراتی انتخابات (تین نومبر کی پولنگ) کے بعد ایک اور امتحان درپیش ہونے کا خدشہ ہے اور وہ ہے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کا کیونکہ صدارتی اُمیدوار پہلے ہی انتخابات پر سوال اُٹھا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ بار بار انتخابات میں دھاندلی کے خدشات کا ذکر کر رہے ہیں جس پر امریکی ذرائع ابلاغ بھی عوام کو پہلے سے ذہنی طور پر تیار کر رہے ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے بذریعہ ڈاک ووٹوں پر سوال اُٹھائے ہیں۔ گنتی میں تاخیر کا بھی امکان ظاہر کیا ہے اور اس تاخیر اور بعدازاں دوبارہ گنتی کے مطالبات اور ان کی آڑ میں دھاندلی کا ڈر ظاہر کیا ہے ۔ صدر ٹرمپ سے بار بار پوچھا گیا کہ کیا وہ انتخابی نتائج تسلیم کریں گے اور ہر بار اُنہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا بلکہ وہ اِس سوال کو ٹال جاتے ہیں۔امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لئے ووٹنگ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اختتام ہفتہ تک تیس لاکھ سے زیادہ ووٹ ڈالے جا چکے تھے۔ ووٹروں کی مزید بڑی تعداد کورونا وبا کے ڈر سے بذریعہ ڈاک ووٹنگ یا قبل از وقت ووٹنگ کا سوچ رہی ہے اور تین نومبر سے پہلے بڑی تعداد میں ووٹ کاسٹ ہوجائیں گے۔ امریکہ کے انتخابی مبصرین کو سب سے بڑا سوال جو درپیش ہے‘ وہ یہ ہے کہ کیا ٹرمپ نتائج تسلیم کرلیں گے؟ اگر انہوں نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا تو کون ان سے تسلیم کروائے گا؟ اس کا حل کیا ہوگا؟ اس بارے میں سوچتے ہوئے مبصرین بھی بے چین ہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد ووٹوں کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کیا جا سکتا ہے‘ امریکیوں کا اقتصادی اعتماد مارچ کی کم ترین سطح کے بعد بہتر ہوا ہے لیکن بیروزگاری کی شرح 1948ءکے صدارتی انتخابات سے پہلے کی سطح سے بھی بلند ہے۔ اِس پورے انتخابی منظرنامے کا سب سے کمزور ترین پہلو کورونا وبا سے نمٹنے کی حکمت عملی ہے۔ امریکہ کورونا وبا سے متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کورونا وائرس کو سب سے بڑا مسئلہ بنائے ہوئے ہیں۔ جو بائیڈن کی انتخابی مہم کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ وہ اس وبا سے ٹرمپ کی نسبت بہتر انداز میں نمٹیں گے۔ بائیڈن کی انتخابی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ تین نومبر تک اسی نکتے پر مہم چلائی جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ انتخابات دو طرح کی قیادت کے درمیان ہورہے ہیں۔ بائیڈن نے وبا آنے کے بعد مثال بن کر قوم کی رہنمائی کی۔ انہوں نے ماسک استعمال کیا‘ سماجی فاصلے کے اصول کی پاسداری کی اور ایک ذمہ دار رہنما ہونے کا مظاہرہ کیا۔امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لئے پولنگ سے قریب ایک ماہ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کا اعلان کیا اور پھر انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ صدر ٹرمپ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے پانچویں دن ہسپتال سے واپس وائٹ ہاو¿س پہنچ گئے ¾صدر ٹرمپ کی جانب سے جب کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کا اعلان ہوا تو ووٹروں اور سیاسی مبصرین نے صدارتی محل سے آنے والی اطلاعات کی بنیاد پر حالات کا تجزیہ کیا اور کئی طرح کی قیاس آرائیاں ہونا شروع ہوگئیں۔ والٹر ریڈ ہسپتال سے وائٹ ہاو¿س واپس پہنچنے سے پہلے ہی ٹرمپ نے ٹویٹر پر بریکنگ نیوز کے طور پر لکھ دیا تھا کہ دوسرے صدارتی مباحثے سے پہلے وہ ہسپتال سے واپس آجائیں گے اور اس کے بعد ویڈیو پیغام بھی منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’وہ نہ صرف ٹھیک ہیں بلکہ خود کو بیس سال پہلے سے بھی زیادہ اچھا محسوس کر رہے ہیں‘۔مسولینی کی قیادت میں فاشٹ دو متضاد باتوں کو اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ پہلی اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ یہ لوگ سوشلزم اور کمیونزم کے دشمن تھے۔ اس بنیاد پر وہ آجر طبقہ کی ہمدردیاں رکھتے تھے لیکن مسولینی خود بہت پرانا سوشلسٹ احتجاجی اور انقلابی تھا۔ وہ سرمایہ داری کے خلاف مقبول نعرے لگایا کرتا تھا جو غریب طبقات بہت پسند کرتے تھے۔ اس نے احتجاج کے مختلف طریقے بھی کمیونسٹوں سے سیکھ رکھے تھے۔ فاشزم ایک عجیب و غریب ملغوبہ بن گیا جس کی تعبیر مختلف انداز میں کی جاسکتی تھی۔ یہ ایک ایسی سرمایہ دارانہ تحریک تھی جس کے نعرے بذاتِ خود سرمایہ داری کے لئے خطرناک تھے جبکہ متوسط طبقے کے بے روزگار اس تحریک کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔ صاحبِ ثروت فاشسٹ سمجھتے تھے کہ مسولینی ان کی املاک کو تحفظ دے گا۔ ان کا خیال تھا کہ مسولینی کی سرمایہ داروں کے خلاف تقریریں اور نعرے بازی محض ڈھونگ اور سادہ لوح عوام کو فریب دینے کے لئے ہے۔ غریب فاشسٹ کا خیال تھا کہ فاشزم کی روح سرمایہ داری کی مخالفت ہے اور باقی سب کچھ امیر لوگوں کو خوش کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے چنانچہ مسولینی نے ان طبقات کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔ وہ ایک دن امیروں کے حق میں بولتا تو دوسرے دن غریبوں کی ہمدردی میں بیان دیتا لیکن اصل میں وہ سرمایہ دار اور آجروں کے مفاد کا نگران تھا ¾ یہ لوگ محنت کشوں اور سوشلزم کی قوت کو ختم کرنا چاہتے تھے ۔ ۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر وقار ستی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)