پاک چین تعلقات: نئے امکانات

امریکہ افغانستان میں تو ’پولیس‘ کا کردار اَدا نہیں کرنا چاہتا لیکن وہ خطے میں بھارت کو بالادست بنانے کے علاوہ پاک چین دوستی میں دراڑیں پیدا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اِس سلسلے میں بھارت جو کہ پاکستان کی سلامتی کے شروع دن سے ہی درپے رہا ہے نے چین کے علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے‘ جسے یقینا امریکی آشیرباد حاصل ہے۔ کشمیر پر تسلط جمانے کی سازش کے تحت 1962ءمیں بھی ایک کوشش کی گئی تھی جسے پیپلز لبریشن آرمی (چین کی افواج) نے ناکام بنا دیا تھا تاہم بھارتی توسیع پسندانہ عزائم میں کوئی کمی نہ آئی جن کے تحت بھارت کی مودی سرکار نے گزشتہ سال (دوہزاراُنیس) پندرہ اگست کو مقبوضہ وادی کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے لداخ اور جموں کو الگ الگ طریقے سے بھارتی سٹیٹ یونین کا حصہ بنایا تو پاکستان کے ساتھ چین کی سالمیت کے خلاف بھی اس کے توسیع پسندانہ عزائم کھل کر سامنے آگئے جب چین کی سرحد سے ملحقہ لداخ کی سرحد پر بھارتی فوجوں کی نقل و حمل بڑھائی گئی اور جدید جنگی آلات نصب کئے گئے۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی ان بھارتی سازشوں پر پہلے ہی چوکنا تھی چنانچہ جیسے ہی بھارتی فوجوں نے لداخ سے چین کی جانب پیش قدمی کی تو چینی فوج نے انہیں ناکوں چنے چبوا دیئے جو ہزیمتیں اٹھاتی واپس پلٹ آئی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد بھارتی فوج نے لداخ کی سرحد پر دوبارہ شرانگیزی کا سلسلہ شروع کیا تو چین نے حسب توقع کرارہ جواب دیا۔ امریکہ چین کا راستہ روکنے اور اُس کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے پریشان ہے جبکہ سی پیک نے اچھے اچھوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کے نتیجے میں سی پیک کے خلاف ریشہ دوانیاں کھل کر سامنے آ چکی ہیں۔ کشمیر کے متنازعہ علاقہ ہونے کے ناطے سی پیک کو بھی متنازعہ بنانے اور اسی بنیاد پر چین کو اس منصوبہ سے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی جس میں دونوں کو ناکامی ہوئی اور چین نے دوٹوک انداز میں باور کرادیا کہ سی پیک چین اور پاکستان دونوں کا مشترکہ منصوبہ ہے جس سے کسی دوسرے ملک کا کوئی لینا دینا نہیں۔ اس ہزیمت کے بعد بھارت نے افغانستان کو ساتھ ملا کر ایران کو چاہ بہار پورٹ کی تکمیل کا چکمہ دیا اور اسے سی پیک سے ہٹانے کی کوشش کی مگر ایران آخری وقت میں بھانپ گیا اور اس نے بھارت کو چاہ بہار بندرگاہ سے زاہدان تک ریلوے لائن کی تعمیر کے منصوبے سے الگ کر دیا جبکہ چین جوہری مسئلہ پر ایران کی حمایت میں کھل کر سامنے آگیا اور جے سی پی او اے کے ساتھ وابستہ رہنے کا دوٹوک اعلان کردیا۔ اس سے جہاں اس خطے میں امریکی مفادات پر زد پڑی ہے وہیں بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو بھی لگام ڈالنے میں مدد ملے گی اور چین‘ پاکستان‘ ایران اس خطے کا ایک مضبوط بلاک بن کر علاقے کی اقتصادی ترقی کی ضمانت بنیں گے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف ایک دوسرے کی سلامتی کے دفاع کی مشترکہ حکمت عملی بھی طے کر سکیں گے۔ بیشک پاک چین پائیدار دوستی ہی دنیا میں طاقت کے توازن کی علامت ہے۔ پاکستان کو چین اور چین کو پاکستان کی دوستی پر فخر ہے جس میں دراڑیں ڈالنے کی امریکہ بھارت گٹھ جوڑ سازش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔رواں ہفتے عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ نے وزیراعظم عمران خان کو اُن کی سالگرہ کے موقع پر تہنیتی مراسلہ میں اس عزم کا اظہار کیا کہ دنیا کے حالات جیسے بھی ہوں‘ پاک چین دوستی بہرحال اور بہرصورت قائم و دائم رہے گی۔ انہوں نے پاک چین دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ہماری پاکستان کے ساتھ دوستی مثالی ہے اور ایسی کئی مثالیں موجود ہے جن میں پاک چین تعلقات مشکل اور ہر آزمائش پر پورے اُترے‘ کورونا کے دوران دونوں ممالک کے مابین مثالی تعاون بھی دیکھنے کو ملا۔ صدر شی جن پنگ کے بقول چین اور پاکستان کی دوستی آئے روز مضبوط ہو رہی ہے اور اِس دوستی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دونوں ممالک امن اور ترقی کےلئے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان اور چین نے سمجھ لیا ہے کہ اگر خطے میں امن و ترقی کا دور دورہ کرنا ہے تو اُس کےلئے دونوں ممالک کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینا ہوں گے۔ یہ تصور پاکستان کی جانب سے دیا گیا کہ ترقی کسی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے اندر ہونے والی سرگرمیوں کا نام نہیں بلکہ اِس سے مراد خطہ ہوتا ہے اور چین نے پاکستان کی تائید کی کہ قومیں ایک دوسرے کی بہتری چاہتی ہیں‘ سی پیک کا خطے کی ترقی میں اہم کردار ہے۔ چینی صدر نے وزیراعظم عمران خان کی سالگرہ پر نیک خواہشات کا اظہار خوش آئند اور خیرسگالی کا اظہار ہے۔ چین کے بے مثل قائد ماﺅزے تنگ کی قیادت میں لانگ مارچ کی صورت میں ایک طویل اور کٹھن جدوجہد کے نتیجہ میں عوامی جمہوریہ چین کی شکل میں یکم اکتوبر 1949ءکو ایک آزاد مملکت دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی تو پاکستان پہلا ملک تھا جس نے چین کو آزاد و خودمختار مملکت کے طور پر تسلیم کیا تھا اور پھر چین کی اقوام متحدہ کی رکنیت کے لئے بھی پاکستان نے نمایاں کردار ادا کیا اور یہی پاکستان چین پائیدار دوستی کی بنیاد بنی جو گہری ہوتے ہوتے دوطرفہ تعلقات کے ناطے دنیا میں ضرب المثل بن گئی۔ دنیا بجا طور پر پاکستان چین دوستی کو سمندروں سے گہری‘ ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی دوستی قرار دیتی ہے کیونکہ اس بے لوث دوستی نے جہاں توسیع پسندانہ عزائم کی بنیاد پر ہونیوالے امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کے مقابل خود کو ایک دوسرے کا دفاعی حصار بنایا ہے وہیں خطے کے امن و سلامتی کی ضمانت بھی فراہم کی ہے۔ اب پاکستان چین مشترکہ اقتصادی راہداری منصوبہ اس خطے میں گیم چینجر کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کے مکمل فعال ہونے سے پاکستان اور چین کے لئے اقتصادی ترقی و خوشحالی کے دروازے کھلنے کے ساتھ عالمی منڈیوں تک بھی خطے کے ممالک کو آسان رسائی حاصل ہو جائے گی۔ اس ناطے سے ’سی پیک‘ نے پاکستان اور چین کے مابین دوستی کا بندھن مزید مستحکم کر دیا ہے اور دونوں ممالک کی سلامتی ایک ہو چکی ہے اور یہ دونوں الگ الگ نہیں بلکہ اِن کی سلامتی و مفادات بھی ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عظمت فرید بیگ۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)