سیاست اور معاشیات لازم و ملزوم ہیں‘ معاشیات اور قومی داخلی سلامتی (نیشنل سکیورٹی) لازم و ملزوم ہیں اور یہ صرف پاکستان کا تناظر نہیں بلکہ پوری دنیا میں معاشیات ہی کی بنیاد پر سیاست ہوتی ہے اور اِس کی بہتری و اصلاح کے وعدوں پر سیاسی لائحہ عمل تشکیل دیئے جاتے ہیں۔ جمہوری ممالک میں عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ایوان (پارلیمان) اور حکومت ایک دوسرے کے مو¿قف کو احترام کی نظر سے دیکھتی ہے اور اِس احترام سے وجود پانے والے تعلق کی بنیاد پر اصلاحات کا عمل اتفاق رائے سے آگے بڑھتا ہے۔ دنیا بھر میں حزب اختلاف کا طرزعمل یہی ہوتا ہے کہ وہ حکومت کی خامیوں اور کمزوریوں کی تلاش میں رہتی ہے اور کسی نہ کسی حکومتی فیصلے یا اقدام پر تنقید کرتے ہوئے حکومتی کارکردگی کا احتساب کرتی ہے۔ حکومت پر تنقید کرنا حزب اختلاف کا وطیرہ ہوتا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں ہوتا کہ حکومت اور حزب اختلاف دونوں ایک دوسرے کی ہر معاملے میں غیرمشروط تائید و حمایت کریں۔ اِس لئے پہلی بات تو اِس بات کو سمجھنے کی ہے کہ حزب اختلاف کا کام تنقید جبکہ حکومت کا کام اِس تنقید کی روشنی میں اپنی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اُس کمی بیشی پر نظر رکھنا ہوتی ہے‘ جس کوبہتر اور جامع بنایا جا سکتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست ایک ایسا کھیل بن چکی ہے‘ جس میں سراسر نقصان اور خسارہ صرف اور صرف ’22 کروڑ‘ عوام کا ہو رہا ہے!سردست پاکستان کی 64فیصد آبادی کی عمریں 30 سال یا اِس سے کم ہیں اور جوانوں کی یہ تعداد کبھی بھی اِس قدر نہیں رہی اور پاکستان دنیا کا ایسا ملک ہے جس کی سب سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کے پاس کوئلے کے ذخائر 175 ارب ٹن ہیں۔ گیس کے ذخائر 885 ارب کیوبک میٹر ہیں۔ پن بجلی پیدا کرنے کے امکانات 60 ہزار میگاواٹ ہیں جس میں سے صرف ساڑھے سات ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے‘ پاکستان کے پاس دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر کئی سبزیوں کی پیداوار میں بھی نمایاں ہے۔ کپاس کا چوتھا بڑا پروڈیوسر ہے۔ گنے کی پیداوار کے لحاظ سے بھی پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان پانچواں بڑا ملک ہے‘ کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔ لوہا‘ تانبا‘ سونا‘ چونا پتھر اور نمک کے ذخائر کے لحاظ سے پاکستان جنوبی ایشیا‘ مشرق وسطیٰ اور سنٹرل ایشیا کا بڑا ملک ہے‘ پاکستان کے پاس 814 کلومیٹر طویل سمندری ساحلی پٹی ہے‘پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں لیکن سیاسی عدم استحکام ہونے کی وجہ سے اِن وسائل سے خاطرخواہ استفادہ نہیں ہو پا رہا اور نہ ہی ایسی ترقیاتی حکمت عملیاں تشکیل دی جا سکی ہیں‘ جن سے قومی وسائل سے خاطرخواہ استفادہ ممکن ہو سکے۔ اِس پوری صورتحال کا ایک محرک یہ بھی ہے کہ بدعنوانی کی عالمی فہرست جس میں دنیا کے 180 ممالک کا ذکر ملتا ہے میں پاکستان کا شمار 120ویں نمبر پر ہے۔ اِسی طرح سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے کاروباری مشکلات کے حوالے سے عالمی فہرست میں 188 ممالک میں پاکستان 108ویں نمبر پر ہے۔ آزادی¿ صحافت کے لحاظ سے جب 201 ممالک کی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے تو پاکستان 141ویں نمبر پر ملتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ”سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔“ پاکستان کے پاس افرادی قوت کی کمی نہیں اور نہ ہی قدرت کی طرف سے عطا کردہ وسائل (نعمتوں) کا شمار ممکن ہے لیکن اگر سیاسی استحکام کی فضا پیدا ہو تو بہت سارے مسائل اور بحران حل ہو سکتے ہیں۔ (بشکریہ: دِی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)