تنازعات سے بالاتر فکروعمل

 بحیثیت قوم ہم ایک تنازعہ اور ایک کے بعد ایک سازش کا شکار ہیں۔ ابھی حال ہی میں‘ کراچی کی ساحل پٹی کے قریب دو چھوٹے جزیروں کا مستقبل زیربحث و زیرغور ہے جہاں فشرفورکس فورم اور ان کی حمایت کرنے والے سراپا احتجاج ہیں۔ مذکورہ جزیرے کے دو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر جدید تجارتی شہر بنانے کا تصور سال 2006ءمیں اُس وقت کے حکمران صدر پرویز مشرف کی حکومت نے پیش کیا تھا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ جبکہ ہماری وفاقی حکومت‘ کسی غیر ملکی ادارے کو ترقی کے لئے اراضی کے حوالے کرنے اور سرمایہ داروں کے لئے پرآسائش گھر تعمیر کرنا چاہتی ہے جب کہ حکومتی اراکین کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ جزیرے کو ”نیا دبئی (ترقی یافتہ شہر)“ میں تبدیل کیا جائے گا لیکن ایک ایسی حکومت جو عام پاکستانیوں کے لئے رہائش کی خاطرخواہ سہولیات فراہم کرنے کے لئے تیار نہیں لیکن اُسے سرمایہ داروں کی فکر کھائے جا رہی ہے‘ جو ساحلی پٹی اور جزیروں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ یہ صورتحال مقامی ماہی گیروں کے لئے ناقابل قبول ہے جن کی تین سو برادریاں ہیں اور یہ کراچی کے ساحل پر آباد ہیں اور اِن کی روزی روٹی کا دارومدار اِنہی جزیروں کے استعمال پر ہے۔ یہ لوگ انتہائی کمزور مالی حالت اور ایک مایوس کن زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کی جھونپڑیاں اکثر طوفانوں اور سمندری طوفانوں کی وجہ سے تباہ ہو جاتی ہیں۔ کیا حکومت کا یہ بنیادی فرض نہیں بنتا کہ وہ ایسے ماہی گیروں کے معیار زندگی کو بہتر بنائے اور انہیں روزگار کا تحفظ فراہم کرے؟ حکومتی جماعت کو سمجھنا چاہئے کہ تنازعات اور انتشار پیدا کر کے اُن کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ حکومت غیر ملکی کرنسی کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگانے کے بارے میں سوچ رہی ہے اور ایسی اطلاعات ہیں جلد اِس سلسلے میں اقدامات کئے جائیں گے لیکن اس معاملے میں جلدبازی کی بجائے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان سے غیرملکی کرنسی کی صورت لوگ اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں اور پاکستان کو معاشی و اقتصادی طور پر غیرمحفوظ سمجھ رہے ہیں؟ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کیوں کمزور ہے اور اِس رشتے کی کمزوری کے باعث پیدا ہونے والی خلیج ہر دن کیوں وسیع ہو رہی ہے؟تحریک انصاف کے لئے کرنے کے بہت سارے کام ہیں جیسا کہ مہنگائی میں کمی۔ چینی کی کنٹرول ریٹ پر دستیابی یقینی بنانا اور ایک عام آدمی کی مشکل کو سمجھنا کہ جسے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پریشان کن صورتحال سے واسطہ ہے۔ اِسی طرح چند ادویات کی قیمتوں میں 200 اور 500 فیصد تک اضافہ بھی عام آدمی کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں ادویات کی کمی نہیں بلکہ ادویہ ساز اداروں نے قیمتیں بڑھانے کے لئے ادویہ سازی کے عمل کو محدود کر دیا ہے جس کے باعث مصنوعی قلت پیدا ہو گئی ہے اور اِس مصنوعی قلت کی وجہ سے جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اب حکومت خود کو مجبور سمجھ رہی ہے کہ وہ ادویہ ساز اداروں کو اجازت دے کہ وہ ادویات کی قیمتوں میں ایک خاص حد تک اضافہ کر کے قیمتوں کو اعتدال پر لے آئے تاکہ عام آدمی جو ادویات کی مصنوعی قلت سے پریشان ہو رہا ہے اُسے کچھ راحت کا احساس ہو۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: کمالیہ حیات۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)