اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’یونائٹیڈ نیشن ہائی کمیشن فار ریفویوجیز (یو این ایچ سی آر) کے مطابق دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد 7 کروڑ سے زیادہ ہے جنہیں مختلف محرکات کی وجہ سے زبردستی یا مجبوراً اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑنا پڑنا ہے اور وہ مہاجرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ڈھائی کروڑ سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے ہی ملک میں مہاجرت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور 35 لاکھ لوگوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں پناہ لے رکھا ہے۔ دنیا بھر کے مہاجروں میں 15 فیصد کا تعلق شام‘ افغانستان اور جنوبی سوڈان سے ہے اور اِن میں سے 80فیصد مہاجرین نے اپنے ہمسایہ ممالک کا رخ کیا ہے۔ اِن اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال یا کسی دوسری آفت کے سبب اگر لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑتی ہے تو ایک بڑی تعداد اپنے ہی ملک کے نسبتاً محفوظ حصے کا رخ نہیں کرتی بلکہ اکثریت ہمسایہ ممالک کا رخ کرتی ہے جہاں اِن مہاجرین کے لئے فوری سہولیات اور ضروریات کا بندوبست نہیں ہوتا اور اِس سے ایک نئی قسم کا بحران جنم لیتا ہے۔ ایسے ہی بحرانوں سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ’یو این ایچ سی آر‘ قائم کیا گیا جو دنیا بھر میں مہاجرین کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے اور اُن کی مدد کے لئے اپنے محدود وسائل اور ممکنہ اثرورسوخ کا استعمال کرتا ہے۔دنیا ہر دن پہلے سے زیادہ غیرمحفوظ ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی تنازعات بڑھ رہے ہیں جبکہ مختلف ممالک کے اندرونی تنازعات بھی اِس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ سبھی لوگ جو کسی تنازعے کے فریق بننا نہیں چاہتے یا کمزور طبقات جیسا کہ خواتین بچوں اور معمر افراد کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا مگر یہ کہ وہ اپنے آبائی علاقوں سے کسمپرسی کی حالت میں نقل مکانی کر لیں‘ نقل مکانی اور مہاجرت اختیار کرنے والوں کے پاس وسائل کی کمی ہوتی ہے۔ وہ صرف اُتنا ہی بوجھ اُٹھائے ہوتے ہیں جتنا اُن کی سکت ہوتی ہے اور جتنا اُن کی ایک وقت کی ضرورت کے لئے کافی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کے لئے مہاجرین اور نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کرنا آسان نہیں کہ کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کو ضروریات زندگی کی ہر چیز مہیا کی جائے جبکہ وہ خراب صحت اور خوراک کی کمی کے باعث بیماریوں کا شکار یا بیماریوں کا آسان شکار ہو سکتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے حل پر زیادہ زور دیتی ہے کہ عالمی یا مقامی تنازعات کی شدت میں اِس حد تک اِضافہ نہیں ہونا چاہئے کہ مقامی افراد کےلئے داخلی نقل مکانی یا مہاجرت اختیار کرنے کی نوبت آئے‘پاکستان بھی مہاجروں کے مسئلے سے پریشان ہے کیونکہ پاکستان میں مہاجرت اختیار کرنے والے یہاں کے سیاسی و سماجی زندگی پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور اِن کی وجہ سے معاشی و اقتصادی مسائل بھی ہیں۔ یہ صورتحال اِس لحاظ سے بھی خطرناک ہے کہ عموماً افغان مہاجرین کو پاکستان کے مسائل کے لئے ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور اِس سلسلے میں ذرائع ابلاغ ایک تاثر قائم کئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہر خاص و عام کی انگلیاں صرف افغان مہاجرین ہی کی طرف اُٹھتی ہیں لیکن صرف افغان مہاجرین ہی پاکستان کے لئے درد سر نہیں۔ طے شدہ امر یہ ہے کہ افغانستان میں پائیدار قیام امن ہی پاکستان سے افغان مہاجروں کی واپسی کی راہ ہموار کر سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنی پوری کوشش کر رہا ہے کہ افغان قیام امن کے لئے کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں۔پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغان مہاجرین کو اُن کی خیمہ بستیوں میں تعلیم و صحت کی حتیٰ الوسع سہولیات دے رہا ہے تاکہ جب یہ لوگ اپنے وطن کو واپس جائیں تو وہاں کی تعمیروترقی اور معاشرے کی بہتری میں ایک فعال کردار ادا کر سکیں۔ پاکستان میں قیام پذیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل کوویڈ-19 کے لاک ڈاو¿ن کے خاتمے کے بعد یکم ستمبر سے دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔اب تک ملک بھر سے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے 150 خاندان سمیت 600 افراد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔کسی ملک کے ساتھ اِس سے زیادہ خیرسگالی ¾نیکی اور کیا ہو سکتی ہے کہ مشکل کی گھڑی میں اُس کے باشندوں کی نہ صرف حفاظت کی جائے بلکہ اُن کی ضروریات پوری کرتے ہوئے اُنہیں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بھی تیار کیا جائے‘اُمید کی جا سکتی ہے کہ مہاجرین اپنی مشکلات اور پریشانیوں میں کمی پر شکرگزار ہوں گے اور سمجھیں کہ کس طرح عالمی برادری اور پاکستان اُن کی مدد کرنے میں پیش پیش ہے اور خلوص نیت سے حتی الوسع کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دنیا کو رہنے کے لئے ایک بہتر جگہ بنانا ہر کس و ناکس کی ذمہ داری ہے بالخصوص اُن لوگوں کی جو تنازعات سے متاثر ہیں اور اِن تنازعات کو ختم کرنے کے لئے اپنے ممالک اور عالمی طاقتوں پر دباو¿ ڈال سکتے ہیں کہ کس طرح اُن کی غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے انسانی حقوق پائمال ہو رہے ہیں اور اِنسانوں کے ہاتھوں انسانوں کی زندگیاں متاثر ہیں! (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عامر حسین ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)