لائق توجہ ہے کہ تحریک انصاف دورِ حکومت میں دوسری مرتبہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال بھی جب اسی قسم کی صورتحال درپیش تھی تو حکومت نے اس معاملے پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ رواں سال اپریل کے مہینے میں بہت شور شرابے کے ساتھ گندم اور چینی کے حوالے سے دو تحقیقاتی رپورٹس منظر عام پر آئیں تھیں۔ ان رپورٹوں کے منظر عام پر آنے کے بعد تلخ بیانات کا تبادلہ بھی ہوا‘وزیرِاعظم عمران خان کے ٹویٹ کے الفاظ لفظ بہ لفظ لائق توجہ ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ ”گندم اور چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹس وعدے کے مطابق فوراً اور کسی ترمیم کے بغیر جاری کردی گئی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ذاتی مفادات اور سمجھوتوں نے ماضی کی سیاسی قیادت کو اس اخلاقی جرا¿ت سے محروم رکھا جس کی بنیاد پر وہ ایسی رپورٹ کے اجرا کی ہمت کر پاتیں۔ میں کسی بھی کاروائی سے پہلے اعلیٰ سطح کے کمیشن کی جانب سے مفصل فرانزک آڈٹ کے نتائج کا منتظر ہوں‘ جو پچیس اپریل تک مرتب کر لئے جائیں گے۔ ان شاءاللہ‘ ان نتائج کے سامنے آنے کے بعد کوئی بھی طاقتور گروہ عوامی مفادات کا خون کرکے منافع سمیٹنے کے قابل نہیں رہے گا۔“ پھر آنے والے دنوں میں پریس کانفرنسوں‘ ٹی وی پروگرامات اور پارٹی رہنماو¿ں کے بیانات میں یہی نکات بار بار دہرائے گئے کہ حکومت نے یہ تحقیقاتی رپورٹ جاری کرکے ایک بے نظیر کام کیا ہے۔ ان کی حکومت فرانزک رپورٹ جاری ہونے کے بعد تمام ذمے داروں کے خلاف کاروائی کرے گی جس کے بعد‘ کوئی بھی گروہ عوامی مفادات کا خون کرکے منافع نہیں سمیٹ سکے گا اور آج چھ ماہ بعد یوں لگ رہا ہے جیسے وقت خود کو دہرا رہا ہے۔ گزشتہ سال بھی انہی دنوں میں مہنگائی میں اضافے کا آغاز ہوا تھا۔رواں برس اپریل میں جاری ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں گندم کی قیمتیں بڑھنے کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ دوہزاراُنیس کی گرمیوں میں حکومت نے گندم کی خریداری کا ہدف پورا نہیں کیا تھا۔ مذکورہ رپورٹ اپریل میں جاری ہوئی اور جولائی کے مہینے سے ہمیں مسلسل ہونے والے حکومتی اجلاسوں کی ویسی ہی خبریں موصول ہونا شروع ہوگئیں جیسی گزشتہ سال موصول ہو رہی تھیں لیکن جولائی میں جب وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک بار پھر گندم کی خریداری کا ہدف پورا نہ کرسکیں تو صورت حال پر نظر رکھنے والوں نے آنے والے حالات کا اندازہ لگا لیا تھا۔ پھر گندم کی درآمدات کے لئے بھی جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ ایسا تھا جس سے چند بڑے درآمد کنندگان فائدہ اٹھا سکیں۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے جب ملک میں گندم کی خریداری کم ہونے کی وجہ سے گندم کی فراہمی برقرار رکھنے کےلئے درآمدات کھولنے کا فیصلہ کیا تو یہ شرط لگا دی گئی کہ کم سے کم پانچ لاکھ ٹن گندم کی کھیپ منگوائی جاسکتی ہے حالانکہ اس ضمن میں کوئی پابندی نہیں لگانی چاہئے تھی تاکہ جو چاہے وہ گندم درآمد کرسکے۔ پانچ لاکھ ٹن کی شرط نے چھوٹے درآمد کنندگان کو اس دوڑ سے باہر کردیا اور بڑے درآمد کنندگان کے لئے میدان صاف ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت مشیرِ خزانہ حفیظ شیخ نے اس فیصلے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا اور انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا انہیں تسلی بخش جواب مل سکا یا نہیں۔ اس وقت مہنگائی کا جو طوفان عوام کو پریشان کئے ہوئے ہے وہ اس وجہ سے کہ اشیائے خوردنوش کی موجودگی اور ان کی ترسیل کانظام موثر نہیں جس پر توجہ دے کر ان مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے جس کا اس وقت عوام کو سامنا ہے۔ دیکھا جائے تو عوام کو اس سے کوئی غرض نہیںکہ کون حکومت میں ہے اور کون حزب اختلاف میں اسے تو اپنی ضروریات زندگی سے سروکار ہے کہ وہ آسانی سے دستیاب ہوں اور عوام کی رسائی اشیائے خورد نوش تک سہولت کے ساتھ ہو۔ یہی کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے ۔
(بشکریہ: ڈان۔ تحریر: خرم حسین ترجمہ: ابوالحسن امام)