امریکی انتخابات اور حکمت عملیاں

انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں۔ امریکہ کے صدراتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی مکمل نہ بھی ہو لیکن اگر کسی بھی اُمیدوار کو 270 الیکٹورل ووٹس مل گئے تو وہ صدر منتخب ہو جائے گا اور ’جوبائیڈن‘ اِس 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ فتح سے ہمکنار ہونے والے امیدوار کا تعین تقریباً ہو ہی چکا ہے لیکن چونکہ یہ معاملہ سولہ کروڑ ووٹوں کی گنتی کا ہے‘ اِس لئے چند ریاستوں سے نتائج کی وصولی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے ہی اپنی بے بنیاد جیت کا اعلان کرتے ہوئے حریف جماعت پر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات عائد کر دیئے ہیں لیکن اپنے اِس الزام کی تائید میں انہوں نے دستاویزی شواہد اور ثبوت فراہم نہیں کئے اور زبانی کلامی طور پر کہا ہے کہ انتخابات کے نتائج فراڈہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اُنہوں نے ایک پیغام اپنی فتح کا جاری کیا جسے ٹوئیٹر نے ڈیلیٹ کر دیا لیکن اِس کے بعد غلط معلومات اور انتخابی نتائج سے اختلاف پر مبنی اُن کے سلسلہ وار پیغامات (ٹوئٹس) موجود ہیں‘ جس میں انہوں نے حریف جماعت پر ووٹوں میں دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے اور ان ٹویٹس پر ٹوئٹر انتظامیہ نے انتباہ کے نوٹس بھی چسپاں کر رکھے ہیں کہ قارئین اعتبار کرنے سے پہلے اپنے طور پر تصدیق کر لیں! البتہ صدراتی انتخابات کا موجودہ مرحلہ اور یہ نقطہ اہم نہیں ہے کیونکہ اب بھی ڈالے گئے لاکھوں قانونی طور پر درست ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور اب جبکہ امریکی ریاست میشی گن سے موصول ہونے والے متوقع نتائج کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہاں سے جو بائیڈن جیت رہے ہیں جبکہ امریکی ذرائع ابلاغ نے امریکی ریاست وسکونسن سے بھی بائیڈن کی جیت کی پیش گوئی کی ہے۔ ایسے میں صدارتی انتحاب کی دوڑ کا مقابلہ مزید کانٹے دار ہوتا جا رہا ہے اور اس مقابلے کے فیصلے کا دارومدار محض ایریزونا‘ نیواڈا‘ جارجیا اور پنسلوینیا کی ریاستوں سے ملنے والے نتائج تک محدود ہو گیا ہے۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو ڈیموکریٹس کے امیدوار جو بائیڈن کو کئی امریکی ریاستوں میں برتری قائم رکھنی ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ امریکی صدر بننے کےلئے مقررہ 270الیکٹورل ووٹس حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے لیکن مسئلہ وہاں ہوگا جہاں دونوں اُمیدواروں میں برتری کا فرق محض چند ہزار ووٹ ہیں۔ الیکشن کے دن ڈالے گئے زیادہ تر ووٹس ریپبلکن کے حق میں پڑے جبکہ پوسٹل ووٹس پر ڈیموکریٹس کی برتری رہی۔ اب تک کے سامنے آنے والے متوقع نتائج کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بائیڈن کو امریکی صدر بننے کی راہ پر زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں ہو گا۔ جو بائیڈن ہی کی طرح ٹرمپ کو بھی صدارتی دفتر میں براجمان رہنے کےلئے اُن تمام ریاستوں میں اپنی برتری قائم رکھنی ہے جہاں وہ اکثریتی ووٹ حاصل کر چکے ہیں جیسا کہ پنسلوینیا اور جارجیا میں ان کی اکثریت واضح ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے بعد ریپبلکن کے امیدوار ٹرمپ کو کم از کم کسی ایک ایسی ریاست سے فتح حاصل کرنی ہے جہاں بائیڈن اس وقت برتری بنائے ہوئے ہیں۔ خاص نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کی وہ سبھی ریاستیں جہاں کے رہنے والے سرمایہ دار ہیں وہاں سے صدر ٹرمپ جیت رہے ہیں اور وہ سبھی ریاستیں جہاں پر متوسط اور غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے رہتے ہیں وہاں سے جوبائیڈن کی جیت ہو رہی ہے یوں یہ صدراتی مقابلہ سرمایہ دار اور غریب طبقات کے درمیان ہے۔ ایسی ریاستیں ہیں جہاں ووٹرز کا بذریعہ ڈاک ووٹ ڈالنے کی روایت رہی ہے لیکن اس سے ڈیموکریٹس کا فائدہ نہیں جیسا کہ انہوں نے دیگر ریاستوں میں حاصل کیا ہے۔ بائیڈن کو نیواڈا میں معمولی برتری کے مقابلے میں ایریزونا میں واضح برتری حاصل ہے لیکن یہاں حالات تبدیل ہونے ممکن ہیں جیسا کہ ریاست وسکونسن صدر ٹرمپ کے لئے مایوس کن ثابت ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس ریاست سے بہت اُمید باندھ رکھی تھی لیکن یہاں سے سامنے آنے والے نتائج کے مطابق یہ ریاست ان کے ہاتھ سے نکلتی دکھائی دیتی ہے۔ ٹرمپ کے امریکی صدر کے دفتر پر براجمان رہنے کا ممکنہ راستہ جارجیا اور پنسلوینیا کے ریاستوں میں اپنی واضح اکثریت قائم رکھنے سے ہو کر گزرتا ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ ان دونوں ریاستوں میں آسان مقابلہ کر رہے ہیں۔ابھی ان ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے جو ڈیموکریٹس کے حمایتی علاقوں جیسا کے اٹلانٹا کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔پنسلوینیا میں بھی ابھی دس لاکھ سے زیادہ پوسٹل ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے پاس اس اہم ریاست میں واضح برتری ہے لیکن ووٹوں کی گنتی کے دوران وہ رحجان جو وسکونسن اور مشی گن میں دیکھا گیا یہاں بھی اپنا رنگ دکھا سکتا ہے۔اگر بائیڈن پنسلوینیا سے کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ ایریزونا اور نیواڈا سے شکست برداشت کر سکتے ہیں۔ اگر بائیڈن جورجیا سے نتائج تبدیل کر لیں تو وہ کسی ان ریاستوں میں سے کسی ایک ریاست سے شکست کو برداشت کر سکتے ہیں اور ان کی صدارتی دفتر کی راہ پر یہ شکست اثر نہیں ڈالے گی۔دوسرے الفاظ میں ٹرمپ کے برعکس بائیڈن کے پاس صدارتی دفتر تک پہنچنے کےلئے مختلف آپشنز موجود ہیں‘ چاہے ان آپشنز کا ممکن ہونا بہت مشکل ہیں لیکن یہ ہو بھی سکتے ہیں۔ امریکی صدارتی انتخاب کا حتمی فیصلہ جو بھی ہو لیکن جوبائیڈن کی جیت کے دعویٰ اور ٹرمپ کے حریف جماعت پر بنا کسی ثبوت کے انتخابی دھاندلی اور الیکشن چوری کرنے کے الزامات کے باعث ایک اور خوفناک صورتحال اُبھر کر سامنے آ رہی ہے۔ یہ ایک تلخ اور لمبی قانونی لڑائی کی بات ہے جو ہارنے والی جماعت کے حمایتوں کو غصے اور دھوکے کے احساس میں ڈال دے گی۔ ٹرمپ کی ٹیم نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ وہ وسکونسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کریں گے البتہ حتمی نتائج کا اب تک علم نہیں ہے لیکن جو بات الیکشن کی رات واضح ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ ایک منقسم قوم ہی رہے گی۔ امریکی ووٹرز نے واضح طور پر ٹرمپ کو مسترد نہیں کیا نہ ہی انہوں نے انہیں وہ حمایت ظاہر کی جس کی وہ اُمید کر رہے تھے بلکہ اس کے درمیان کی صورتحال ابھر کر سامنے آئی ہے اور اس سے بالاتر کے یہ الیکشن کون جیتتا ہے مگر دونوں جماعتوں کے حمایتیوں کے درمیان یہ سیاسی جنگ جاری رہے گی۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: وسیم اصغر۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)