امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ”ڈیموکریٹک پارٹی‘ ‘کے امیدوار جو بائیڈن بظاہر کامیابی کی راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ان کے حریف صدر ڈونلڈ ٹرمپ چار ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگیوں کی شکایت کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مزید ووٹوں کی گنتی نہ کی جائے کیونکہ جیسے جیسے گنتی ہو رہی ہے جو بائیڈن کی فتح یقینی ہوتی جا رہی ہے اِس پوری صورتحال میں کیا کچھ ممکن ہے اور کون کیا کچھ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے‘ اِس سے خاصی دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی ہے جو امریکہ کی تاریخ میں اِس سے قبل کبھی بھی نہیں دیکھی گئی۔صدر ٹرمپ کی انتحابی مہم کا بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ ہے کہ فراڈ ہو رہا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پینسلوینیا‘ وسکونسن‘ جارجیا اور مشیگن (چار ریاستوں) میں ووٹوں کی گنتی جہاں ہے اور جیسا ہے کی بنیاد پر روک دی جائے۔ اِس سلسلے میں ’قانونی ماہرین‘ کہتے ہیں کہ اگر انتخاب کا نتیجہ آنے میں دیر ہوئی تو اس کا بھی ایک مطلب برآمد ہو گا؟ اس کا جواب ہاں اور ناں دونوں میں ہے۔ انتخاب کے فوراً بعد جو نتائج ملتے ہیں وہ دراصل ذرائع ابلاغ کے اداروں کی جانب سے ہوتے ہیں۔ جب ذرائع ابلاغ کے اداروں کو محسوس ہوتا ہے کہ ایک امیدوار کی برتری اتنی زیادہ ہے جسے ختم نہیں کیا جاسکتا تو وہ اسے فاتح قرار دے دیتے ہیں لیکن وہ سرکاری یا حتمی نتیجہ نہیں ہوتا جبکہ سرکاری اور حتمی نتیجہ ہمیشہ ہی دیر سے آتا ہے لیکن اس مرتبہ امریکی ووٹروں کی ایک بڑی تعداد نے پوسٹل بیلٹ کے ذریعے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا لہٰذا ابھی ان ووٹوں کی گنتی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ عمومی حالت میں جب ووٹرز کسی پولنگ سٹیشن میں جا کر ووٹ ڈالتے ہیں تو ان کے ووٹوں کی گنتی اس روز ہو جاتی ہے لیکن ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی میں زیادہ وقت لگتا ہے کیونکہ ان کے اصلی ہونے کی تصدیق کرنے میں زیادہ وقت صرف ہوتا ہے اور جب مقابلہ کانٹے دار ہو اور کوئی امیدوار اپنی شکست تسلیم کرنے پر تیار نہ ہو تو ووٹوں کی گنتی کا جاری رہنا معمول کی بات ہے۔امریکہ میں پولنگ کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی قانونی جھگڑوں کا آغاز ہو چکا تھا اور جب پولنگ شروع ہوئی تو چوالیس ریاستوں میں پوسٹل بیلٹ کے حوالے سے تین سو مقدمات دائر ہو چکے تھے۔ ان مقدمات میں پوسٹل بیلٹ کو روانہ اور موصول کرنے کی ڈیڈلائن اور ان پر گواہ کے دستخط کے حوالے سے نکات اٹھائے گئے ہیں‘ کچھ مقدمات میں ان لفافوں پر بھی اعتراض کیا گیا ہے جن میں بیلٹ پوسٹ کئے گئے ہیں۔ ایسی ریاستیں جہاں ریپبلکن پارٹی کی حکومت ہے‘ کا کہنا تھا کہ ووٹوں میں ہیرا پھیری روکنے کے لئے پابندیاں عائد کرنا ضروری تھیں جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کا مو¿قف ہے کہ لوگوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے وسکونسن میں ’بے ضابطگیوں‘ کے الزام میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کب شروع ہو گی۔ عام طور پر دوبارہ گنتی کا عمل اس وقت تک شروع نہیں ہوتا جب تک کاو¿نٹی حکام ووٹوں کا جائزہ نہ لیں۔ وسکونسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی ڈیڈلائن سترہ نومبر ہے۔ سال 2016ءمیں بھی وسکونسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوئی تھی اور تقریباً ایک سو ووٹوں کا فرق سامنے آیا تھا۔ دوبارہ گنتی کا مطالبہ ووٹ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ گنتی صحیح ہوئی ہے۔ اِسی طرح صدر ٹرمپ نے دوہزارسولہ میں مشیگن میں دس ہزار ووٹوں کی برتری سے اس ریاست کو جیت لیا تھا۔ چار نومبر کو صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے ووٹوں کی گنتی رکوانے کے لئے مقدمہ دائر کیا ہے۔ الیکشن کے حکام چھیانوے فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل کر چکے ہیں۔ ایسے حلقوں میں جہاں تاریخی طور پر ڈیموکریٹ پارٹی کی برتری رہتی ہے وہاں اب بھی ہزاروں ووٹوں کی گنتی ہونی باقی ہے اور اندازوں کے مطابق جو بائیڈن کی جیت کا امکان ہے۔ ریاست پینسلوینیا میں تنازعہ ایسے پوسٹل بیلٹس کی گنتی پر ہے جنہیں پولنگ کے دن ڈاک کے حوالے کیا گیا تھا اور وہ تین دن بعد تک انتخابی حکام تک پہنچیں گے‘ ریپبلکن پارٹی اس کے خلاف اپیل دائر کر رہی ہے۔ میتھو ویل اس بارے میں فکر مند ہیں‘ امریکی سپریم کورٹ میں یہ معاملہ پہلے بھی زیر غور رہا ہے اور عدالت اس معاملے پر منقسم تھی اور اب رپبلکن پارٹی کی طرف سے نئی جج جسٹس ایمی کونی باریٹ کی تعیناتی کے بعد یہ معاملہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔ اس بات کا امکان موجود ہے جو بیلٹ پولنگ کے روز ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ہیں اور وہ ایک خاص دن تک موصول نہیں ہوئے‘ انھیں منسوخ کر دیا جائے۔ ایسا کیا گیا تو یہ غلط نتیجہ ہو گا لیکن قانونی طور پر یہ ہی ایک ممکنہ فیصلہ ہے۔ ریاستی حکام نے پولنگ کے روز سے ایک دن پہلے ووٹروں کو پیغامات بھیجے تھے کہ وہ اپنا پوسٹل بیلٹ ڈاک کے ذریعے بھیجنے کی بجائے قریب ترین پولنگ سٹیشن میں ڈیلیور کریں اور ایسے ووٹوں کی بہت بڑی تعداد نہیں ہو گی۔ ایسے پوسٹل بیلٹ جو دیر سے موصول ہو رہے ہیں ان کی گنتی علیحدہ سے ہو رہی ہے اور اگر جو بائیڈن ان ووٹوں کے بغیر بھی جیت رہے ہیں تو انہیں کسی قانونی کاروائی یا پریشانی کی ضرورت نہیں لیکن صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم اس وقت اپنی کامیابی کا اعلان کر رہی ہے جب ابھی لاکھوں ووٹوں کی گنتی ہونی باقی ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: وجاہت شمس۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)