اس وقت وطن عزیز کو کئی طرح کے مسائل درپیش ہےں اور اِس سے متاثر کچھ لوگ (مظاہرین) کسی بڑے شہر کے مشہور چوک پر جمع ہو کر نعرے بازی کرتے ہیں۔ راستہ بند کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ان میں لاتعلقی اور حقارت کا احساس پیدا ہو کوئی سرکاری عہدے دار وہاں پہنچ جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مظاہرین کو کچھ راتیں فٹ پاتھ پر بسر کرنی پڑیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پولیس ڈرامائی حالات پیدا کرنے اور سرکاری مداخلت دکھانے کے لئے لاٹھیوں اور آنسو گیس کا بھی استعمال کرے۔ یقینا اس پورے عمل میں لوگ زخمی ہوں گے اور عزتِ نفس بھی مجروح ہوگی۔ لیکن یہ اس معاملے کا وہ پہلو ہے جو زیادہ پریشان کن نہیں۔اصل مسئلہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب بتایا جاتا ہے کہ مذاکرات ’کامیاب‘ ہوگئے ہیں اور مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ کچھ دن پہلے اس وقت بھی ایسی ہی صورتحال دیکھنے کو ملی جب وفاقی دارالحکومت میں کئی دنوں سے دھرنے پر بیٹھی لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ مذاکرات کا عمل کامیابی سے مکمل ہوا اور بتایا گیا کہ معاملات حل ہوگئے ہیں۔ تاہم بعد ازاں حقیقت کھلتی ہے کہ معاملات بخوبی طے ہونے کے بارے میں جو دعوے کئے جاتے ہیں وہ سچ ثابت نہیں ہوتے۔اسلئے تو مسائل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں ۔ کئی مسائل ایسے ہوتے ہیں جنہیں کامیاب مذاکراتی عمل کے ذریعے ختم کیا جاسکتاہے اور ہر جگہ یہی ہوتا ہے ۔ ایسا شخص مشکلات کے مارے ان پاکستانیوں کے لئے کسی مسیحا سے کم نہیں ہوگا جو لوگوں کی تسلی و تشفی کرلیں جو مشکلات سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ ماضی قریب میں طریقہ کار یہ رہا ہے کہ کسی اہم شخصیت کو مذاکرات کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے اور اس کے بعد کسی معاہدے کا اعلان بھی کردیا جاتا ہے لیکن تھوڑی ہی دیر میں مظاہرین کی طرف سے کسی بھی معاہدے کی تردید کردی جاتی ہے۔ یہی صورتحال لیڈی ہیلتھ ورکرز کے احتجاجی کیمپ کے بعد بھی پیش آئی۔ ہم پنجاب حکومت اور کبھی نہ خوش ہونے والے ینگ ڈاکٹروں کے درمیان مذاکرات میں بھی اس صورتحال کا متعدد مرتبہ مشاہدہ کرچکے ہیں۔ رواں ہفتے کسانوں نے گندم کی بہتر قیمت ملنے کے لئے لاہور میں احتجاج کیا۔ شہروں میں رہنے والوں کو ان کسانوں سے شفقت اور سرپرستی کا اظہار کرنا چاہئے۔ ہماری بنیادی ضرورت پوری کرنے والوں کو اس طرح احتجاج کرتے ہوئے دیکھنا شرمندگی کا سبب ہے کہ کھیت کھلیان چھوڑ کر یہ افراد ایک درخواست لئے بنجر شہر تک آنے پر مجبور ہوئے۔ ایک کسان ہمارے کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کی ضروریات کو پورا کرتا ہے‘ اس وجہ سے وہ خاص عزت و احترام کا حق دار ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ اپنے روزمرہ مسائل کے حل کے لئے بھی لاری سے شہر جاتا ہے اور متعلقہ ’بابو‘ کو تلاش کرتا ہے لیکن جیسا کہ بڑے شہروں میں ہوتا آیا ہے‘ اسے بھی اپنے مطالبات کے حل کے لئے اسی عمل سے گزرنا ہوگا جس سے سب گزرتے ہیں۔ کسانوں کی نسبتاً زیادہ تعداد اور بھڑکتے ہوئے جذبات کو دیکھ کر لاہور پولیس نے واٹر کینن کے استعمال اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ اس عمل کے بعد ان غریب اور بے یار و مددگار کسانوں کی تصاویر گردش کرنے لگیں۔ ان تصاویر میں وہ لاٹھی چارج کا شکار دکھائی دے رہے تھے۔ تصاویر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد وہی پرانا طریقہ اختیار کیا گیا جس میں مذاکرات کرکے کسانوں سے معاہدہ ہوجانے کا اعلان کردیا لیکن اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی کسانوں نے کسی بھی معاہدے کی تردید کردی۔حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے مسائل بات چیت سے ہی حل ہو سکتے ہیں ،طویل ہڑتال یا دھرنے دینا اس کا ہر گز حل نہیں تاہم اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جو بھی شخصیت یا ثالث اس عمل میں کردار ادا کرے تو پھر اس کو تقویت ملے ۔ اول تو یہ ہونا چاہئے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کے مسائل پیدا ہ نہ ہوں اور ایسا انتظامی ڈھانچہ ہو کہ جہاں پر مسائل پیدا ہونے کا احتمال ہوتو وہیںپراس کا قلع قمع کیا جائے۔ اور اگر بصورت دیگر مسائل اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ متاثرین کو ہڑتال اور سڑکوں پر آنے مجبور ہونا پڑتا ہے تو پھرایسے میں مذاکرات کو کامیاب ہونے کے بعد ناکام ہونا اور متاثرین کا غیر مطمئن ہونے کے واقعات سمجھ سے بالاتر ہے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: اشعرالرحمن۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)