خلا

سائنسی اصطلاح میں خلا (ویکیوم) کسی مادے کی ایسی حالت کو کہا جاتا ہے جسے نظر نہ آنے والا فاصلہ ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ سیاست میں خلا کے مطالب مہنگائی‘ بیروزگاری اور خراب طرزحکمرانی کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کا احاطہ کرتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ مذکورہ محرکات کی وجہ سے سیاسی خلا پیدا ہوا ہے۔ سائنس کہتی ہے اور مانتی ہے کہ خلا قدرت کی ایک خاصیت ہے اور اِسے تخلیق بھی کیا جا سکتا ہے اور بالکل اِسی طرح سیاست میں بھی خلا کی گنجائش رہتی ہے اور یہ کسی نہ کسی صورت سیاست میں اپنا وجود رکھتا ہے۔ سیاسی خلا کی وضاحت یہ ہوتی ہے کہ جب کسی چیز یا عمل پر کسی کا کنٹرول نہ رہے تو ایسی صورت میں پیدا ہونے والی حالت کو خلا کہا جاتا ہے۔ اِس تمہید کو ذہن میں رکھتے ہوئے سمجھا جاتا ہے کہ جہاں کہیں سیاسی خلا پیدا ہوتا ہے یعنی کسی ملک کے سیاسی فیصلہ ساز ایک دوسرے سے اختلافات کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے وہاں اقتصادی اور معاشی مسائل سر اُٹھانے لگتے ہیں اور یہ مسائل بعدازاں بحران کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو سیاسی خلا کی ترقی یافتہ شکل یا اظہار ہوتا ہے۔خلا کی وجہ سے کسی ریاست میں حکمرانی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوتی جہاں کے طرزحکمرانی میں خلا موجود ہو۔ افسرشاہی ایسے ماحول میں کام نہیں کرسکتی جہاں خلا پایا جائے۔ حکومت اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتی اگر وہاں خلا موجود ہو اور یہ سب اور دیگر امور اِس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ خلا حکومتی حکمت عملیوں کوناکام بنا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر تحریک انصاف کے پاس پاکستان کی اقتصادی و معاشی ترقی کے لئے ایک نہایت ہی اچھا اور سوچا سمجھا منصوبہ ہو لیکن اگر اُس پر عمل نہ کیا جا سکے تو یہ بہترین منصوبہ اپنی ذات میں اہم نہیں بلکہ جب تک اِس کی عملی اشکال سامنے نہیں آئیں گی اُس وقت تک حکومت کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ سیاسی جماعتوں کی مجبوری ہوتی ہے یا اِسے سیاسی طرزحکمرانی کہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کے متفق ہوئے بغیر سیاسی خلا پُر نہیں ہوتا اور اِسی وجہ سے حکومتی کارکردگی بھی عملی شکل میں بہتری کا بیان نہیں ہوتی۔ خلا سیاسی ہو یا غیرسیاسی اِس میں استحکام نہیں ہوتا۔ خلا معاشی ہو یا اقتصادی اِس میں خرابیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں اور عوام کا ریاست اور نظام سے اعتماد اُٹھتا چلا جاتا ہے۔پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں چینی‘ بجلی اور گندم پر نجی کاروباری اداروں کی اجارہ داری ہے جو ایک دوسرے سے مل کر کام کرتے ہیں اور اِن کاروباری سوچ رکھنے والے عناصر کے لئے سب سے زیادہ موافق وہ ماحول ہوتا ہے جس میں ملک سیاسی خلا سے دوچار ہو۔ حکومت اور حزب اختلاف ایک دوسرے سے دست و گریباں رہیں تو چینی ‘بجلی اور گندم کے مافیاز کو اپنا گھناو¿نا کھیل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ عوام کو زیادہ بڑے پیمانے پر لوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہمیں ہر طرف سے مہنگائی ‘بیروزگاری اور خراب طرز حکمرانی سے متعلق آوازے سننے کو مل رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں سیاسی خلا پیدا ہو چکا ہے‘ جس سے عوام کے مفادات کا تحفظ نہیں ہو رہا اور مافیا اُنہیںلوٹ رہے ہیں۔حکومت عوام کے مسائل سے آگاہ اور انہیں حل کرنا چاہتی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا بھی دعویٰ ہے کہ وہ جو کچھ بھی کر رہی ہیں وہ درحقیقت عوام کے وسیع تر مفاد ہی کے لئے ہے لیکن اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی مخالفت اور اپنے اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کی اسیر ہیں اور انہیں قومی ترقی یا بہبود سے خاطرخواہ غرض نہیں۔ کیا حزب اختلاف کی گیارہ سیاسی جماعتیں جنہوں نے مل کر ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)‘ کی بنیاد رکھی ہے یہ بات نہیں جانتی کہ اُن کی حکومت مخالف تحریک کے باعث سیاسی خلا کی شدت میں کس قدر اضافہ ہوا ہے اور عوام اپنے مسائل (مہنگائی‘ بیروزگاری) کے خاتمے سے کتنے دور ہو چکے ہیں؟اقتصادی اصلاحات میں جب مہنگائی اور بیروزگاری میں بیک وقت اضافہ ہو اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہوں تو ایسی حالت کو ’سٹیگفلیشن (Stagflation)‘ کہا جاتا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ تین برس سے مسلسل مہنگائی و بیروزگاری ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے۔ وقت اور ضرورت ہے کہ قومی فیصلہ ساز ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہوئے سیاسی خلا کو ختم کریں تاکہ مہنگائی و بیروزگاری کا خاتمہ کیا جا سکے۔ سیاسی نکتہ¿ نظر اور اختلافات اپنی جگہ اہم لیکن عوام کے مسائل اور مشکلات کا بھی کچھ تو احساس ہونا چاہئے۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)