حزب اختلاف کی سیاست اور قیادت میں تبدیلیاں نمایاں ہیں۔ خوف اور غم و غصہ ہمارا قومی مزاج بن گیا ہے لیکن اس غصے کا رخ شاید غلط ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سیاست میں دفاعی امور میں بات چیت بھی ہوسکتی ہے اور ان پر تنقید بھی کی جاسکتی ہے۔ اس کےلئے آپ امریکی سیاست کی ہی مثال لے لیں۔ امریکہ میں صدارتی مہم کے موضوعات میں سیکورٹی موضوعات بھی شامل ہوتے ہیں اور صدارتی امیدواروں کو سیکورٹی امور پر ان کی گرفت کے حوالے سے پرکھا جاتا ہے اگرچہ انتخابات قومی مسائل پر ہی لڑے جاتے ہیں لیکن کوئی امیدوار بھی عالمی سطح پر کمزور نظر نہیں آنا چاہتا۔ اسی طرح صدر جمی کارٹر کے دورِ صدارت کی کوئی بات بھی ایرانی مغویوں کے معاملے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ہمارے ملک میں خارجہ پالیسی پر اس طرح سے گفتگو نہیں ہوتی جیسا کہ ہونی چاہئے۔ ملک میں سیاسی جماعتو ں کی توجہ بہت کم ہی اس طرف جاتی ہے کہ خارجہ معاملات پر بحث کریں اور اس ضمن کوئی نئی پالیسی پیش کریں۔ اس طرح خارجہ پالیسی پر ہونے والی بحث ایک دوسرے پرالزامات لگانے تک محدود ہوجاتی ہے۔ اس طرح بامقصد بحث کا مقصد ہی ختم ہوجاتا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ کچھ سالوں کی مثال لے لیجئے۔ اس عرصے میں ایک تو خارجہ پالیسی پر بات بہت ہی کم ہورہی ہے اور جو ہورہی ہے ان کا مقصد صرف یہ جاننا ہوتا تھا کہ کون چین‘ امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات رکھتے ہوئے پڑوسیوں کے ساتھ کیسے تعلقات رکھتا ہے ۔ ماضی میں سیاسی جماعتوںکے مابین تلخیاں بڑھنے کے بعد مفاہمت کے نتیجے میں ہی میثاق جمہوریت کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ اس میثاق کے ذریعے سیاست کے کھیل میں ایک دوسرے کے کردار کو تسلیم کیا گیا۔ اس میثاق کا نکتہ نمبر اکیس ہے کہ ’ہم اس نمائندہ حکومت کے انتخابی مینڈیٹ کو تسلیم کریں گے جو حزبِ اختلاف کے کردار کو تسلیم کرے گی اور دونوں میں سے کوئی بھی غیر آئینی طریقے سے دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘ سال 2008ءکے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کو سیاسی نظام میں ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہوئے دیکھا بھی گیا اور 2013ءمیں بننے والی نواز لیگ کی حکومت کے نصف حصے تک اس پر عمل جاری رہا لیکن اس دو طرفہ معاہدے میں پی ٹی آئی شامل نہیں تھی اسلئے اب حالات پیچیدہ ہوتے جار ہے ہیں اور ضرورت ہے کہ ایک اور میثاق جمہوریت ہو جس میں بشمول تحریک انصاف بڑی سیاسی جماعتیں شامل ہوں۔ اس بات میں کوئی تعجب نہیں کہ ایک دوسرے پر الزامات لگانا اور لفظوں کے تیر برسانا 1990ءکی دہائی کی یاد دلاتا ہے اس وقت سندھ اور وفاق کے تعلقات ویسے ہی ہیں جیسے تعلقات نواز شریف کی پنجاب حکومت کے بے نظیر بھٹو کی وفاقی حکومت کے ساتھ تھے۔ 1990ءمیں بقائے باہمی کی صورتحال ایسی ہی تھی جیسی اب ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ بھی ویسا ہی کوئی حل نکل سکتا ہے جیسا کہ پہلے نکالا گیا تھا؟ جس میں طرفین (تمام سیاسی جماعتیں) ایک دوسرے کے حقِ سیاست کو تسلیم کرلیں؟ یقینا اس کا جواب ہاں میں ہے۔ سیاست نام ہی اسی کا ہے کہ ایک دوسرے کیلئے ہمیشہ نرم گوشہ رکھا جائے اور اس مقام پر نہ پہنچا جائے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔ اس لئے موجودہ حالات ایک اور میثاق جمہوریت کا تقاضا کرتے ہیں جس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: عارفہ نور۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)
اشتہار
مقبول خبریں
مصنوعی ذہانت: کارہائے نمایاں
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
عالمی طاقتیں اور ایشیا
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
امریکی امداد کی بندش
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
کھیل کود کی اہمیت
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
بلاول بھٹو کی پیشکش
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
ٹرمپ، مسک اور نظام کی خرابی
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
مصنوعی ذہانت کی طاقت
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
موسمیاتی تبدیلی اسباب
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
پانی کی معدودی
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام
صنفی مساوات: تیزرفتار عمل درآمد
ابوالحسن امام
ابوالحسن امام