امریکہ کے صدراتی انتخابات اور امریکہ کی خارجہ پالیسی دو الگ الگ موضوعات نہیں لیکن خاص بات یہ ہے کہ ماضی قریب میں امریکیوں نے ایسا کوئی صدارتی انتخاب نہیں دیکھا جیسا کہ انہوں نے حالیہ انتخاب یعنی 2020ءمیں دیکھا ہے۔ اسی طرح پوری دنیا نے بھی کبھی اس فکرمندی کے ساتھ امریکہ میں جاری سیاسی کشیدگی‘ تلخ بیانات کے تبادلے اور قانونی جنگوں پر توجہ دی تھی جو اس بار دیکھنے کو ملی ہے اور جس نے ان انتخابات کو ہنگامہ آرائی کا شکار کئے رکھا۔ میدانِ جنگ سمجھی جانے والی ریاستوں میں دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان موجود ووٹوں کے معمولی فرق کی وجہ سے انتخاب کے چند دن بعد بھی لوگ تناو¿ کا شکار رہے۔امریکی عوام نے ایک ایسے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کو صدر منتخب کیا ہے جسے اس کی اہمیت کی وجہ سے امریکیوں کی ’زندگی کا اہم ترین انتخاب‘ قرار دیا جارہا تھا اور جس کے نتیجے کو ’آئندہ دہائی پر اثر انداز ہونے والا‘ نتیجہ کہا جارہا تھا۔ جو بائیڈن کا انتخاب امریکہ اور اس کے باہر بھی لوگوں کےلئے راحت کا باعث ہے۔ بین الاقوامی برادری کے لئے اس وقت بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وائٹ ہاو¿س کا یہ نیا مکین امریکی خارجہ پالیسی کو دوبارہ ٹرمپ سے پہلے کے دور میں لے جائے گا؟ آغاز میں تو جو بائیڈن کو مقامی مسائل سے نبردآزما ہونا پڑے گا۔ امریکہ میں اس وقت بھی کورونا نے سنگین صورت اختیار کی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی تقسیم اور نسلی تعصب کو بھی دور کرنے کی ضرورت ہے۔ جو بائیڈن کا پہلا کام تو انتشار کے شکار امریکہ کو متحد کرنا ہوگا۔ نو منتخب امریکی صدر نے انتخابات کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بطور صدر اپنے فرائض انجام دوں گا۔ یہاں کوئی نیلی یا سرخ ریاستیں نہیں ہوں گی۔ صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہوگی۔‘ امریکی کانگریس کے انتخابات کا نتیجہ بھی چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ سینیٹ میں ابھی سے ری پبلکن جماعت کی اکثریت نظر آ رہی ہے۔ جو بائیڈن کو ایک حکومت مخالف سینیٹ کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ یہ صورتحال منقسم قوم کو متحد کرنے جیسے بائیڈن کے عزم کی راہ میں بھی رکاوٹ بنے گی۔ نیویارک ٹائمز کے ایک مضمون میں کہا گیا تھا کہ یہ انتخابات امریکہ میں موجود معاشرتی بحران‘ سیاسی ثقافت کے زوال اور الگ تھلگ ہوجانے کے احساس جیسے ’سنجیدہ مسائل‘ کو حل نہیں کرسکیں گے۔ ٹرمپ کو 2016ءکے مقابلے زیادہ ووٹ ملنا اس بات کی علامت ہے کہ ٹرمپ اِزم کی حمایت اب بھی برقرار ہے۔ اگر ٹرمپ مستقبل میں بھی متحرک سیاسی کردار ادا کرتے رہے تو یہ بائیڈن کے لئے ایک اور مشکل ہوگی۔ اس وجہ سے داخلی معاملات بائیڈن کی مستقل توجہ کے متقاضی ہوں گے لیکن دنیا کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی سمت کو درست کرنا بھی ضروری ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں خارجہ پالیسی ایک ایسی چیز ہے جہاں بائیڈن نسبتاً آزادی سے کام کرسکتے ہیں۔ تو آخر بائیڈن انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟ اس سوال کے جواب کےلئے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ بائیڈن کی امورِ خارجہ کی ٹیم میں کون لوگ شامل ہوں گے کیونکہ افراد کے انتخاب سے خارجہ پالیسی کی سمت کا تعین ہوسکے گا۔ جو بائیڈن کو خارجہ امور کا وسیع تجربہ ہے۔ وہ طویل عرصے تک سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بارک اوباما کےساتھ نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وجہ سے امید کی جارہی ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ کو نقصان پہنچانے والی ٹرمپ کی پالیسیوں کے برخلاف بائیڈن خارجہ پالیسی کےلئے روایتی راستہ اختیار کرینگے۔ ٹرمپ کی ’سب سے پہلے امریکہ‘ کی یک طرفہ پالیسی کے برخلاف بائیڈن لبرل سیاستدان ہیں جو امریکہ کی کثیر الجہتی شناخت کو واپس لانا چاہتے ہیں۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی ’سب سے پہلے امریکہ‘ کی پالیسی ’تنہا امریکہ‘ کے نتیجے میں سامنے آئی ہے اور وہ امریکہ کی قائدانہ حیثیت کو بحال کرنےکی کوشش کرینگے۔ بائیڈن کی ایک اہم ترجیح امریکہ کی تباہ شدہ بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنانا ہوگی جس کا ثبوت کئی جائزوں میں ملتا ہے۔ پیو ریسرچ کے حالیہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ کی عالمی ساکھ تاریخ میں کم ترین سطح پر ہے۔ یہ سروے بتاتا ہے کہ واشنگٹن کے اتحادی ممالک میں سے متعدد امریکہ اور خاص طور پر ٹرمپ کے حوالے سے منفی سوچ رکھتے ہیں۔ واضح طور پر ٹرمپ کی تباہ کن پالیسیوں کے چار سالہ دور نے دنیا اور عالمی نظام پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس کی وجہ سے امریکہ کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور اس کا اثر و رسوخ کم ہوگیا ہے جبکہ اس کی سافٹ پاور میں بھی کمی آئی ہے۔ جو بائیڈن یقینا اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کرینگے۔ (مضمون نگار امریکہ‘ برطانیہ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر کی رہ چکی ہیں۔ بشکریہ: ڈان۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)