وجہ تسمیہ؟

عراق پر حملہ کرنے کیلئے امریکہ نے کئی ممالک کو ساتھ ملایا لیکن ایک امریکہ کے چکر میں نہیں آیا اور اُس نے امریکہ کی قیادت میں کسی بھی عالمی جنگ میں شمولیت سے صاف انکار کردیا‘ا س ملک کاخیال تھا کہ فوجی مداخلت عراق کے مسئلے کا بہتر حل نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی بھی بپھرے ہوئے اور بندق تھامے امریکی کے لئے یہ غداری قابلِ قبول نہیں تھی‘ پھر یہ غداری ایک ایسے ملک کی طرف سے جسے کچھ عشرے پہلے امریکی افواج نے ہی آزاد کروایا ہو۔ اب ان ناشکرے ملک کے ساتھ کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔ پس اس کا نزلہ اس ملک سے تعلق رکھنے والی مصنوعات پر گرا اور اس کے نام تبدیل کئے گئے۔ پہلی جنگِ عظیم میں اتحادیوں کو معلوم ہوا کہ ان کے پسندیدہ کتے دراصل جرمن نسل کے ہیں۔ ایک طویل بحث کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ان کتوں کا نام الزاس کے نام پر السیشن رکھ دیا جائے۔ اس وقت الزاس (موجودہ) فرانس کا ایک صوبہ تھا جو جنگ کا مرکز بنا ہوا تھا اور کئی صدیوں سے فرانس اور جرمنی اسے اپنی ملکیت شمار کرتے تھے۔ چلیں یہاں اتحادیوں نے تو تھوڑے سوچ بچار اور تخلیقیت سے کام لیا لیکن جب امریکہ جنگ میں کودا تو اس نے ہر چیز کا نام تبدیل کردیا جس کا جرمنی سے کوئی دور کا بھی تعلق تھا۔ مثال کے طور پر ’ساور کراو¿ٹ‘ کو ’فریڈم کیبیج‘ کا نام دے دیا گیا۔ اسی طرح ’ہیم برگرز‘ کا نام محض اس لئے ”آزادی برگرز“ رکھ دیا گیا کیونکہ اس کا تعلق جرمن شہر ہیمبرگ سے جڑ رہا تھا۔ سب سے بُرا تو جرمن میزلس (خسرہ) کے ساتھ ہوا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بیماری کا نام کیوں تبدیل کیا جائے‘ یہ تو ویسے ہی ایک منفی چیز کا نام ہے لیکن نہیں اس بیماری کا نام بھی تبدیل کرکے فریڈم میزلس کردیا گیا۔ یہ سننے میں جیسا بھی لگے لیکن آپ کو یہ بات ماننی پڑے گی کہ امریکی آزادی کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ نظریہ آپ کو بہت سی عجیب و غریب چیزیں کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ انقلاب کے بعد قائم ہونے والی فرانس کی ریاست سے زیادہ نظریاتی ریاست شاید ہی کوئی ہو۔ اس سیکولر ریاست نے گریگیرین کلینڈر کو ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا‘ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر شروع ہوتا ہے لیکن انہوں نے اسے ختم کرکے ایک نیا سال شروع کیا جسے ’ائرون‘ یا پہلے سال کا نام دیا گیا۔ انہوں نے تو مہینوں اور دنوں کے نام بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی تاکہ مذہب کا کوئی شبہ بھی باقی نہ رہے۔ معاملہ یہیں پر نہیں رکا بلکہ ایک ایسی قوم جس نے اپنے بادشاہوں اور ملکاو¿ں کو قتل کردیا تھا وہ تاش کے پتوں پر ان کی تصویر کیسے رہنے دے سکتی تھی۔ اس وجہ سے فرانسیسیوں نے تاش کے پتوں کو بھی تبدیل کردیا لیکن جس طرح فرنچ فرائز فرنچ ہی رہے اور جرمن میزلس بھی جرمن ہی رہی‘ اسی طرح تاش کے پتوں پر بادشاہ اور ملکہ کی تشبیہات بھی برقرار رہیں۔ عالمی سطح پر حمایت اور اختلافات کے اِس سلسلے کی کئی جہتیں اور کئی ایسے پہلو بھی ہیں جنہیں غیرمہذب ہونے کی وجہ سے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اہل مشرق کو دیکھنا چاہئے اور مطالعہ کرنا چاہئے کہ اہل مغرب اپنی دوستی اور دشمنی میں کس قدر شدت پسند ہیں! (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: ضرار کھوڑو۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)