عوامی جمہوریہ چین کا طرز سیاست و حکمرانی اگرچہ خوبیوں کا مجموعہ نہیں اور بہت سی باتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اگر چین کے طرز سیاست و حکمرانی کو پاکستان کی نظر سے دیکھا جائے تو اِس کے درپردہ کارفرما تین اصول توجہ طلب ہیں‘ چین کی سب سے بڑی اور سرفہرست خوبی یہ ہے کہ وہاں سیاسی استحکام پایا جاتا ہے‘ دوسرا وہاں اہلیت (میرٹ) کو ترجیح دی جاتی ہے اور تیسرا وہاں اچھی طرزحکمرانی (گڈ گورننس) رائج ہے۔ جب ہم اہلیت کی بات کرتے ہیں تو اِس سے مراد سیاسی اہلیت ہوتی ہے جو مغربی طرز جمہوریت کے مقابلے مختلف تصور ہے کہ اِس میں صرف عوام کے ووٹوں سے قیادت کا انتخاب نہیں ہوتا بلکہ اِس کےلئے قیادت کو اپنی اہلیت بھی ثابت کرنا ہوتی ہے اور اِسی اہلیت کی بنیاد پر سیاسی عمل کے مدارج طے کئے جاتے ہیں۔ اِس سیاسی اہلیت کی چین کے نظام میں بڑی اہمیت ہے اور اِس کی تاریخ ڈھائی ہزار سال پرانی ہے یعنی چین اپنے ہاں کے سیاسی نظام کی حفاظت ڈھائی ہزار سال سے کر رہا ہے اور اِس عرصے میں طرز حکمرانی کا یہ نظام بہتر سے بہتر بنایا گیا ہے لیکن اِسے چھوڑا نہیں گیا‘ جب ہم سیاسی اہلیت کی بات کرتے ہیں تو اِس سے مراد یہ بھی ہوتی ہے کہ کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ملک کی قیادت کا انتخاب کرنے کےلئے بہترین سے بہترین افراد کا انتخاب کیا جائے اور اِس طرز انتخاب و حکمرانی کے 4 اصول ہیں‘ سب سے پہلے تعلیمی قابلیت کو دیکھا جاتا ہے۔ دوسرا امتحان لیا جاتا ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ مختلف صورتوں میں فیصلہ سازی کی قوت کس قدر ہے‘ تیسرا تعلیمی قابلیت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عہدے کےلئے نامزد کیا جاتا ہے اور چوتھا اُس کے سیاسی تجربے کو دیکھا جاتا ہے‘ اگر ہم لغت کے اعتبار سے دیکھیں تو سیاسی اہلیت ایک ایسا نظام ہے جس میں ریاستی عہدوں کے ایسے افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے جو صرف عوام کے ووٹ ہی نہیں بلکہ ایک خاص اہلیت کے بھی حامل ہوں‘چین کی سیاست اور طرز حکمرانی میں کارکردگی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جبکہ مغربی طرزحکمرانی میں ایسا نہیں ہوتا‘ پاکستان کی مثال موجود ہے جہاں جمہوری حکمرانوں کی کارکردگی سے زیادہ جمہوری عمل یعنی انتخابات کے مقررہ وقت پر انعقاد کو زیادہ اہم و ضروری سمجھا جاتا ہے اور سارے کا سارا زور اِس بات پرہوتا ہے کہ جمہوریت کا تسلسل یعنی انتخابات کا انعقاد ایک خاص مدت کے دوران ہوتا رہے کہ بس یہی جمہوریت ہے‘چین میں صرف حکومت ہی نہیں ملک کے ہر فرد کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دی جاتی ہے اور ایک خصوصیت اُن کے ہاں صنعتی و معاشی انقلاب کا باعث بنی ہے۔ چین نے دنیا کو ایک ایسا انقلاب دیا ہے جسے نہ تو اِس سے قبل کبھی دیکھا گیا اور نہ ہی سوچا گیا کہ ایک انسانی معاشرہ تخلیق کیا گیا جس میں ہر کوئی دوسرے کی مضبوطی اور قومی ترقی کےلئے کام کرتا ہے۔ افرادی قوت سے شاید ہی دنیا کے کسی ملک نے اِس طرح استفادہ کیا ہو‘ یہی وجہ ہے کہ 1981ءسے 2013ءکے درمیان چین کی حکومت نے 85 کروڑ (850ملین) لوگوں کو غربت سے نکالا اور انہیں معاشی طور پر اپنے پاو¿ں پر کھڑا کر دیا۔ تصور کریں کہ ایک وقت وہ تھا جب چین میں 88 فیصد انتہائی غریب رہتے تھے لیکن اب چین میں 1.85فیصد لوگ انتہائی غربت کے زمرے میں آتے ہیں اور انسانی تاریخ نے اِس سے قبل کبھی بھی ایسی طرزحکمرانی اور حکومتی کارکردگی نہیں دیکھی کہ اُس نے ملک کے ننانوے فیصد غریبوں کی قسمت بدل دی ہو‘جب ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو اِس کی پیمائش کے دو طریقے ہیں‘ پہلے طریقے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ جمہوریت سے حاصل ہونے والے ٹھوس نتائج کیا ہیں اور دوسرے میں دیکھا جاتا ہے کہ جمہوریت کے ذریعے حکومتی کارکردگی یعنی (procedural) طور طریقے کیا ہیں۔ چین کے طرزسیاست و حکمرانی نے ملک کو ہر شعبے میں استحکام دیا اور چین کو دنیا کی بڑی معیشت بنایا ہے جس کا اندازہ اُن کی معاشی شرح نمو سے لگایا جا سکتا ہے جس میں ہر 8 برس بعد دوگنا اضافہ ہو رہا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ چین اِس وقت امریکہ کو قرض دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے‘ پاکستان کےلئے لمحہ¿ فکریہ ہے کہ جن تین چیزوں نے چین کو استحکام اور معاشی ترقی دی اُن میں سے پاکستان میں کتنی خوبیاں پائی جاتی ہیں؟ اگر پاکستان کے رہنما اور فیصلہ ساز چاہیں تو وہ چین کی طرزسیاست و حکمرانی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)