بعدازٹرمپ تعلقات

پاک امریکہ تعلقات کے لئے جوبائیڈن کا دورِ صدارت کیسا رہے گا‘ اس کا انحصار کئی عوامل پر ہے۔ ان میں کچھ عوامل معلوم ہیں اور کچھ نامعلوم۔ نامعلوم عوامل میں سب سے اہم ٹرمپ کی تباہ شدہ خارجہ پالیسی میں سے اُبھرنے والی نئی خارجہ پالیسی ہوگی۔ پاکستان کو سب سے زیادہ خدشات چین سے متعلق امریکہ کی پالیسی پر ہوں گے۔ چین سے متعلق پالیسی کے ممکنات جاننے کے لئے سب سے پہلے تو ہمیں قدیم یونان کے کسی تاریخ دان کے اس نظریہ کو ایک طرف رکھ دینا چاہئے کہ جب ایک نئی طاقت سر اٹھاتی ہے تو پہلی طاقت اس پر حملہ کردیتی ہے۔ تاریخ کی تمثیل عموماً نصف سچائی پر مبنی ہوتی ہیں اور ہم اکثر دوسرے نصف کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور چین کے تعلقات بہت زیادہ پیچیدہ اور کثیر الجہتی ہیں۔ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے سیاسی و جغرافیائی حریف ہیں اور چین اب امریکہ کی مقامی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔امریکہ میں چین کو اس کی ٹیکنالوجیکل برتری کے لئے خطرہ اور نوکر پیشہ طبقے کی نوکریاں ختم کرنے کا ذمے دار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی ان دونوں ممالک کی معیشت ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہے اور عالمی معاملات کے حل کے لئے ان دونوں ممالک کی شراکت اہم ہوتی ہے۔ یہاں جغرافیائی سیاست‘ سیاست اور معاشی قوم پرستی کا مقابلہ جغرافیائی معیشت اور عالمی برتری سے تھا۔ ٹرمپ نے چین کو صرف ایک سیاسی مخالف کے طور پر ہی پیش کرنا مناسب سمجھا لیکن اس نظریئے کو اب تبدیل ہونا چاہئے جو لوگ اس بارے میں فکر مند ہیں کہ امریکہ ہمیں یعنی پاکستان کو اس کے یا چین کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنے کا کہے گا تو ایسے افراد کو اس حوالے سے مزید گہرائی سے سوچنا چاہئے۔ جوبائیڈن چین کو ایک دشمن کے بجائے مدِمقابل کے طور پر دیکھیں گے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے دوبدو لڑنے کے بجائے کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے گا۔ حال ہی میں امریکی ٹیلی ویژن کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ چین کو ایک خطرے کے طور پر نہیں دیکھتے لیکن روس کے حوالے سے بائیڈن ایک سخت پالیسی اختیار کریں گے۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے روایتی خیالات رکھنے والے جوبائیڈن روس اور چین سے کشیدہ تعلقات نہیں رکھ سکتے۔ کورونا کے بعد کی مخدوش معاشی حالات کی وجہ سے انہیں چین کے ساتھ اچھی معاشی شراکت داری کی ضرورت ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ کہ اس وقت عالمی نمو میں چین ایک اہم ملک ہے اور آنے والے وقتوں میں بھی رہے گا۔ جو بائیڈن کی توجہ کا مرکز داخلی صورتحال ہوگی اور اسی سے ان کی خارجہ پالیسی کی راہ متعین ہوگی۔ پاکستان سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ امریکہ یا چین میں سے کسی ایک کا تعین کرے‘ اسے چین کے مزید قریب ہی کرے گا۔ امریکہ نے اپنے قریب ترین اتحادیوں کو بھی کبھی ایسے انتخاب سے دوچار نہیں کیا۔ امریکہ اور چین دونوں ہی مشرق وسطیٰ اور ایشیا ءپر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں یہ دونوں ممالک آمنے سامنے آتے ہیں۔پاکستان مکمل طور پر چین پر منحصر نہیں رہ سکتا اور حقیقت یہ ہے امریکہ اور بھارت کے تعلقات کسی بھی طور پر نہ ہی پاک امریکہ تعلقات کی وضاحت کرتے ہیں اور نہ ہی خطے میں امریکہ کو درپیش چیلنجز کی۔ شاید امریکہ پاکستان کو چین کا ایک کمزور اتحادی دیکھنا چاہتا ہو لیکن ساتھ وہ پاکستان کو اتنا مضبوط بھی دیکھنا چاہتا ہے کہ یہ امریکی مفادات کے لئے معاون ثابت ہو۔یہاں پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کا ایک حوالہ دینا مناسب ہوگا۔ تاریخی طور پر ان تعلقات کا دو میں سے کوئی ایک نتیجہ نکلا ہے یا تو کسی معاملے پر اتفاق ہونے پر امریکہ نے پاکستان کو کوئی انعام دیا ہے یا کسی معاملے پر اتفاق نہ کرنے پر اسے سزا دی ہے اور یہ سب تب ہوا ہے جب پاکستان سے اس کے ذمہ کا کام لے لیا گیا ہو لیکن نائن الیون کے بعد ان تعلقات میں موجود خامیاں واضح ہوتی گئیں۔ مسائل کی کثرت‘ طویل عرصے تک مل کر کام کرنے اور اس حقیقت کی وجہ سے کہ اتفاق اور عدم اتفاق سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں ہے‘ نہ ہی انعامات کو مو¿خر کیا جاسکتا تھا اور نہ ہی سزا کو۔ یہ تعلقات ایک ہی وقت میں شراکت اور تضاد کا شکار تھے کیونکہ پاکستان امریکی مفادات کا سہولت کار بھی تھا اور ان میں رخنہ انداز بھی اور پھر افغانستان میں امریکی پالیسیوں کی ناکامی کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈالا جاتا تھالیکن اب نہ ہی وہ تاریک وقت واپس آئے گا اور نہ ہی تعلقات کا وہ پرانا ماڈل دہرایا جائے گا۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلائ‘ بھارت میں جاری داخلی معاملات‘ بھارت کی چین کے ساتھ جھڑپیں‘ پاکستان کے ساتھ اس کے جارحانہ رویئے اور دیگر عالمی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اب نئی حقیقتیں وجود میں آچکی ہیں۔یقینی طور پر امریکہ کو افغانستان کے معاملے میں پاکستان کی مدد کی ضرورت رہے گی۔ وہ مسئلہ کشمیر میں بھی دلچسپی رکھتا ہے مگر اس کے حل کے لئے کچھ نہیں کرے گا۔ امریکہ کو اِس مسئلے سے تو کوئی سروکار نہیں لیکن اس سے پیدا ہونے والے بحران کے بارے میں ضرور تشویش رہتی ہے۔ جو بائیڈن انسانی حقوق کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کرسکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جو بائیڈن کیری لوگر بِل کے اصل خالق تھے۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ مذکورہ معاملات پر کام کرنے کے لئے شراکت داری کا ایک ایسا فریم ورک تیار کرنا ہوگا جس میں دونوں ممالک کے مفادات کا تحفظ ہو تاکہ طویل مدتی تعلقات قائم رہ سکیں۔ امداد کے ذریعے تعلقات بنانے کا دور اب چلا گیا ہے تاہم پاکستان کی معیشت کو دیکھتے ہوئے معاشی شراکت داری کا امکان موجود ہے۔ دو طرفہ تعلقات کے مستقبل کا جتنا انحصار پاکستان پر ہے اتنا ہی امریکہ پر بھی ہے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: توقیر حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام