کیا کورونا وبا کا علاج دریافت کر لیا گیا ہے؟ اِس سلسلے میں اب تک سامنے آنے والے دعوو¿ں کی حقیقت کیا ہے اور علاج کے بارے میں شکوک و شبہات اُٹھائے جا رہے ہیں‘ جبکہ پاکستان جیسے ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے جو اپنی قومی آمدنی کا ایک بڑا حصہ کورونا ویکسین کی خریداری کے لئے مختص کر چکے ہیں لیکن کیا یہ ویکسین کارگر بھی ثابت ہوگی؟ اب تک کی اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کے خلاف ویکسین نوے فیصد کامیاب ہے۔ اب تک کورونا کے علاج میں مائیکرو چپ جسم کے اندر نصب کرنے اور جینیاتی کوڈ (ڈی این اے) کی دوبارہ انجینئرنگ اور حفاظت کے متعلق گمراہ کن دعوے سامنے آئے ہیں۔ ان افواہوں میں سے ایک لوگوں میں مائیکرو چپ نصب کرنے سے متعلق ہے۔ یہ ہمارے جنیاتی کوڈ میں تبدیلی اور حفاظت پر ایک سوال ہے۔ امریکہ کے معروف ادارے مائیکروسافٹ کے بانی ارب پتی بل گیٹس سے متعلق یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں میں چپ نصب کرنا چاہتے ہیں اور یہ سب سے زیادہ شئیر کئے جانے والا دعوی رہا جو رواں برس سال کے آغاز میں بھی سامنے آیا تھا کہ کورونا وائرس کے بہانے انسانی جسم کے اندر ایسی مائیکرو چپ نصب کی جا رہی ہے جس سے ان کی حرکات و سکنات کا پتا چلایا جا سکے گا اور یہ سازش کے پیچھے مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس ہیں جبکہ بل اور میلنڈا گیٹس فاو¿نڈیشن کے مطابق یہ گمراہ کن‘ بے بنیاد اور جھوٹا دعوی ہے‘ جس کا کسی کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ ڈی این اے میں تبدیلی سے متعلق خدشہ باقاعدگی سے فیس بک پوسٹس کی صورت میں بھی شئیر کیا جاتا رہا ہے۔ اس سے متعلق آزاد ذہن رکھنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین ڈی این اے تبدیلی کا مو¿جب نہیں بنے گی۔ ایسا لگتا ہے کہ ایسے دعوو¿ں کی ترویج کرنے والے جینیاتی خلیوں سے متعلق غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ویکسین میں وائرس سے متعلق جینیاتی مواد یا آر این اے موجود ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق کسی بھی شخص کے اندر آر این اے لگانے سے انسانی خلیوں کے ڈی این اے میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ فائزر کے ترجمان اینڈریو وڈگر کا کہنا ہے کہ کمپنی کی ویکسین انسانی جسم کے ڈی این اے میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں پیدا کرتی بلکہ ویکسین سے جسم کی قوت مدافعت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ ہم ڈی این اے میں تبدیلی سے متعلق ایسے دعوو¿ں کو پرکھ رہے ہیں۔ ہم نے اس حوالے سے مئی میں ایک ایسی ہی ویڈیو پر بھی تحقیق کی تھی۔ یہ تیار کی جانے ویکسین کی قسم سے متعلق ویسی ہی غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ فائزر ویکسین پیغام رسانی کے لئے آر این اے یا ایم آر این اے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے۔ یہ انسانی جسم کو پروٹین پیدا کرنے سے متعلق ہدایات دیتا ہے جو کورونا وائرس کی سطح پر موجود ہوتی ہیں۔ روبنسن کی ٹویٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ایم آر این اے ٹیکنالوجی ’آج سے پہلے کبھی بھی آزمائی یا منظور نہیں کی گئی۔‘ یہ سچ ہے کہ اس سے قبل کسی ایم آر این اے ویکسین کی منظوری نہیں دی گئی لیکن اس حوالے سے گذشتہ چند سالوں میں متعدد ریسرچز سامنے آ چکی ہیں۔ فائزر اور بائیو این ٹیک کے اشتراک سے بنی ویکسین ایسی پہلی ویکسین جو اتنی مو¿ثر ثابت ہوئی کہ اسے لائسنسنگ کے مرحلے تک بھیجا گیا ہے۔ صرف اس لئے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی ہے ’اس سے ہرگز یہ مطلب اخذ نہیں ہونا چاہئے کہ اس سے ڈرنا ضروری ہے۔‘ پہلے اور دوسرے آزمائشی مرحلے میں ویکسینز کو چھوٹے پیمانے پر رضاکاروں پر آزمایا جاتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ محفوظ بھی ہے اور اس کی صحیح مقدار کیا ہو سکتی ہے۔ تیسرے مرحلے میں اسے ہزاروں افراد پر آزمایا جاتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ کتنی مو¿ثر ہے۔ماہرین کے مطابق تمام ویکسینز کی طرح کورونا کے خلاف بنائی جانے والی ویکسین کے بھی کم دورانیہ کے لئے منفی اثرات ہو سکتے ہیں جیسے بخار‘ انجیکشن کی جگہ پر درد یا پٹھوں میں درد‘ سر درد اور تھکاوٹ۔‘ اس طرح کے منفی اثرات کا سامنا عام طور پر سالانہ نزلے کی ویکسینیشن کروانے والے متعدد افراد کو بھی ہوتا ہے اور یہ علامات کچھ ہی روز میں ختم ہو جاتی ہیں اور ان میں آئیبوپروفن یا پیراسٹامول کے ذریعے کمی لائی جا سکتی ہے۔ تازہ ترین آزمائشی مراحل میں سامنے آنے والے منفی اثرات کے مکمل اعداد و شمار دستیاب نہیں لیکن فائزر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اب تک کوئی شدید منفی اثرات نہیں دیکھے۔ کورونا ویکسین کے بارے میں افواہیں اور خدشات اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے یہی دنیا کی اُمیدوں کا مرکز بھی ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر رفیق اظہر۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)