پاک افغان تعلقات: نیا دور

 پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی نہ بھی آئے لیکن اُنیس نومبر کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورے سے بہتری ضرور آئے گی اور اگر اِسے پاک افغان تعلقات کا ”نیا دور“ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ وزیراعظم پاکستان کے دورہ¿ افغانستان میں اُنہوں نے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے درمیان جن امور پر اتفاق ہوا‘ اُن میں دہشت گردی و جرائم کے خلاف خفیہ معلومات کا تبادلہ اور تجارتی‘ سفارتی و ثقافتی قریبی تعاون بڑھانے کے لئے مشترکہ کوششیں تیز کرنا شامل ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ’افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے لئے فوری اقدامات کے سلسلہ میں اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔‘ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے ہمسایہ ملک افغانستان کے دورے سے متعلق مبصرین کا کہنا ہے کہ دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور اختلافات کے خاتمے میں وقت درکار ہوگا لیکن یہ باہمی تعلقات کی بہتری کے لئے اہم ہے۔ خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک کے سربراہوں نے باہمی تعاون کے فروغ کی ضرورت کو محسوس کیا ہے۔ اِس سلسلے میں سرکاری طور پر بیانات جاری ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ تھا جس میں بنیادی طور پر اُن سبھی موضوعات پر بات چیت ہوئی جو دوطرفہ تعلقات‘ بین الافغان امن اور علاقائی اقتصادی ترقی سے متعلق تھے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان ہی کی کوششوں سے امریکہ اور طالبان کے درمیاں دوحا (قطر) میں ’مذاکرات‘ کامیاب ہوئے اُور اِن کامیاب مذاکرات کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ طالبان نے امن معاہدے پر دستخط کئے‘ جو ایک وقت صرف دشوار ہی نہیں بلکہ ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔ بغور دیکھا جائے تو پاکستان شروع دن سے ہی افغانستان میں عدم تشدد کا حامی ہے اور وزیر اعظم کے افغانستان کے دورے سے طالبان کو یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ تشدد کا راستہ ترک کردیں ‘پاکستان نے گزشتہ چند روز کے دوران پاک افغان بارڈر پر پھنسے ہوئے ہزار کنٹینرز کو کلیئر کروایا ہے۔ پاکستانی حکومت نے افغان باشندوں کے لئے چھ ماہ کے ملٹی پل ویزے کا اجرا کیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے معاہدے کے لئے اب تک سات نشستیں ہوچکی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کا خاتمہ اور اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔ اِسی جانب وزیراعظم عمران خان نے بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ”ہم اعتماد سازی کے لئے افغان حکومت کی توقعات کو پورا کرنے میں مدد دیں گے۔“ افغان صدر اشرف غنی نے عمران خان کے دورے کا خیر مقدم کیا اور ان کے دورے کو ’اعتماد اور تعاون میں اضافہ کے لئے اہم‘ قرار دیا۔ یہ خاصی خوش آئند پیشرفت ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہت سے معاملات میں اختلافات تو ہیں جنہیں ختم کرنے کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے لیکن جب تک یہ سب ختم نہیں ہوں گے اُس وقت تک تعلقات میں بہتری نہیں آئے گی۔ اس سے قبل پاکستان بھارت پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں شدت پسندی کی وارداتوں کے لئے افغان سرزمین استعمال کرتا ہے۔ افغان حکومت سے بھی کہا گیا کہ وہ بھارت کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکے تاہم بھارت اور افغانستان دونوں ایسے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کا دورہ کیا لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کا ایک دوسرے پر اعتماد بحال نہیں ہوسکا۔ امریکہ اگلے سال فروری تک اپنے دو ہزار فوجی افغانستان سے نکال لے گا اور ایسے حالات میں دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: افتخار طاہر برلاس۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)