پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ اور افغانستان میں قیام امن ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں‘ جس کے حصول کے لئے دونوں ممالک کو کسی عالمی دباو¿ یا مطالبے پر نہیں اپنے اپنے داخلی و خارجی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحات طے کرنی چاہیئں۔ خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے خفیہ معلومات کے تبادلے اور قریبی تعاون بڑھانے کے لئے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے لیکن اندیشہ ہے کہ افغانستان اِس سلسلے میں ماضی کی طرح تعاون نہیں کرے گا۔ افغانستان میں امن کا پاکستان سے زیادہ اور کون خواہش مند ہو سکتا ہے کہ اس نے افغانستان کی بدامنی کے مضمرات کو گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک اپنی سرزمین پر بھگتا ہے اور اب بھی پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے سوتے افغان دھرتی سے ہی پھوٹتے ہیں۔ تاہم بدقسمتی سے افغان حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ شروع دن سے دوستی سے ہٹ کر رویہ اپنا گیا۔ کابل انتظامیہ درحقیقت کبھی واشنگٹن اور کبھی ماسکو کے زیر اثر رہتے ہوئے ان کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہی۔ حالانکہ مسلم قومیت کی بنیاد پر اس خطے میں پاکستان‘ ایران‘ افغانستان‘ ترکی اور سوویت یونین کی مسلم ریاستوں پر مشتمل ایک مضبوط بلاک تشکیل پا سکتا تھا جس سے اس خطے میں امریکہ اور بھارت پر مشتمل الحادی قوتوں کے توسیع پسندانہ اور مسلم کش عزائم کا سدباب ہو جاتا مگر کابل انتظامیہ کو امریکہ اور دیگر ممالک نے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا۔پاکستان بیشک اس جنگ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی تھا مگر درحقیقت وہ اس کردار کے ردعمل میں خود بدترین دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا جس سے بھارت کو بھی افغانستان کے راستے سے پاکستان میں اپنے تربیت یافتہ دہشت گرد داخل کرنے کا آسان موقع ملتا رہا۔ امریکی اور نیٹو فورسز نے مسلسل بارہ سال تک افغان دھرتی کو میدان جنگ بنائے رکھا اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر وہاں شہری آبادیوں تک پر کارپٹ بمباری اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرکے افغانستان کا تورابورا بنادیا گیا جس کے ردعمل میں پاکستان کی دھرتی بھی خودکش حملوں اور دہشت گردی کی بدترین وارداتوں کی بھینٹ چڑھتی رہی جس سے اسی ہزار سے زائد شہریوں بشمول سکیورٹی فورسز کے ارکان و افسران کا جانی اور ملک کی معیشت کو کھربوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا جبکہ پاکستان میں پیدا ہونیوالی عدم استحکام کی اس فضا سے ہمارے ازلی دشمن بھارت کو بھی پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی سازشیں پروان چڑھانے کا نادر موقع ملتا رہا ۔ امریکہ تو اپنے مفادات کے تابع اب افغانستان سے اپنی تمام فوجوں کے انخلا¿ کے لئے بے تاب ہے جس کے لئے اس نے پاکستان کی معاونت سے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا ڈول ڈالا۔ یہ مذاکرات نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جن کی کامیابی کےلئے امریکہ پاکستان کے کردار کا آج بھی معترف ہے اور گزشتہ روز امریکی ناظم الامور انجیلا ایگیلر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران افغان امن عمل اور خطہ میں کشیدگی کم کرانے کے لئے پاکستان کے کردار کی تعریف بھی کی ہے مگر افغان امن عمل کی متوقع کامیابی پر بھارت کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں جس نے اب تک پاکستان مخالف سازشوں میں کابل انتظامیہ کو اپنا ہمنوا بنائے رکھا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے تیار کردہ دو دستاویزی ثبوتوں کا مجموعہ (ڈوسیئرز) افغان دھرتی کے راستے سے پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کی بھارتی سازشوں اور کاروائیوں کے ٹھوس شواہد ہیں جو پوری دنیا کے سامنے رکھے جا چکے ہیں۔ انہی بھارتی سازشوں کے تحت پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کا سلسلہ تاحال جاری ہے جبکہ افغانستان کے اندر سے پاکستان کی چوکیوں اور شہری آبادیوں پر حملے اور گولہ باری بھی ہوتی رہتی ہے۔ رواں ہفتے جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ایک فوجی چوکی پر حملے سے دو جوان شہید اور ایک زخمی ہوا ہے۔ دہشت گردی کی اس واردات میں بھی افغانستان کے راستے سے آئے بھارتی دہشت گردوں کے ملوث ہونے کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورتحال میں وزیراعظم عمران خان کے دورہ¿ کابل سے پاک افغان تعلقات میں بہتری آئے اور افغان دھرتی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے کا سلسلہ رک جائے تو اس سے پاکستان اور افغانستان ہی نہیں‘ پورے خطہ میں امن و سلامتی کی بحالی کی ضمانت مل سکتی ہے۔ علاقائی امن و سلامتی یقینی بنانے کے لئے یقینا پاک افغان تعاون کی ضرورت ہے جسے بڑھانے اور برقرار رکھنے کے لئے کابل انتظامیہ کا بیرونی اثرات سے آزاد ہونا ضروری ہے۔ بصورت دیگر پاک افغان اعلیٰ سطح کے مذاکرات اور تبادلہ خیالات محض نشستند‘ گفتتند‘ برخاستند ہی بنے رہیں گے اور اِس کی نتیجہ خیزی عملی طور پر ظاہر نہیں ہوگی۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: ڈاکٹر دیامیر اشرف۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)