کوہ پیما نائلہ کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں مائونٹین اور ایڈوینچر ٹورازم کا انفراسٹریکچر نہیں ہے، جبکہ نیپال جیسے چھوٹے سے ملک میں کافی بہترین سہولیات ملتی ہیں، وہاں کا ویزا 15منٹ میں مل جاتا ہے۔
نائلہ کیانی نے وہ پہلے سے کھلاڑی تھیں اور پہلے میں سوچتی تھی کہ لوگ پہاڑ پر چڑھتے ہیں، انھیں کیا ملتا ہے جو اپنی جان رسک پر لیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میری کافی عیدیں گھر سے باہر گزری ہیں، تاہم اس عید پر میں اپنی فیملی کے ساتھ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کے 8 ہزار میٹر کے بلند پہاڑ کو سر کیا تھا، یہ رسک تھا لیکن بعد میں ریکارڈ بنتے گئے، میں چاہتی ہوں کی اپنی کہانی کے ذریعے باقی لڑکیوں کو متاثر کروں کہ جو بھی ہم کرنا چاہتے ہیں ہم کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کوہ پیمائی کے دوران آکسیجن کے علاوہ بھی بہت زیادہ رسک ہوتے ہیں، راک فال ہو سکتی ہے، موسم اور کلامئٹ کی وجہ سے ایک پہاڑ پر3 ہفتوں سے 2 ماہ بھی لگ جاتے ہیں اور یہ خطر ناک کام ہے۔
کوہ پیما نے کہا کہ مجھے بھی دوسری خواتین کھلاڑیوں کی طرح مسائل درپیش آئے، لوگوں کے طعنے ملتے ہیں، تاہم اب میں لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کر دیتی ہوں۔ اور ان کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتی ہوں۔