اے پی سی بلانے کا فیصلہ

وزیراعظم شہبازشریف نے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کردیا ہے‘ کوئٹہ میں گزشتہ روز ہونے والے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف سب کو حصہ ڈالنا ہوگا‘ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بھی بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کے سانحہ پر اے پی سی بلانے کا مطالبہ کیا ہے‘ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ ہمیں ماضی کو بھول کر آگے بڑھنا ہوگا ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک اس وقت دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے بیرسٹر گوہر امید ظاہر کر رہے ہیں کہ ساری جماعتیں اکٹھی ہوں گی‘ پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس کیلئے سابق وزیراعظم عمران خان کو بھی پے رول پر رہا کیا جائے شبلی فراز کا کہنا ہے کہ عمران خان قومی لیڈر ہیں اور یہ کہ انہیں کانفرنس میں شریک ہونا چاہئے وطن عزیز کا سیاسی منظرنامہ ایک طویل عرصے سے تناؤ اور کشمکش کا شکار چلا آرہا ہے سیاسی ماحول میں ایک دوسرے کیخلاف گرما گرم بیانات کا سلسلہ جاری ہے الفاظ کی جنگ کیساتھ بڑے بڑے پاور شوز بھی ہوتے رہے ہیں اس سب کے باوجود اس ضرورت کا احساس موجود ہے کہ کم از کم اہم قومی معاملات پر ایک دوسرے کا موقف سنتے ہوئے حکمت عملی ترتیب دینا ضروری ہی ہوتا ہے ماضی میں بھی اہم معاملات پر مل بیٹھنے کی روایت رہی ہے بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کا سانحہ ایک ایسا قومی معاملہ ہے کہ جس پر جمعرات کو قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور ہوئی اگلے مرحلے میں اگر اے پی سی منعقد ہوتی ہے اور اس میں قومی قیادت مل بیٹھ کر ایسی حکمت عملی ترتیب دیتی کہ جو مستقبل میں حکومتیں تبدیل ہونے سے متاثر نہ ہو تو اصلاح احوال کی جانب بڑھا جا سکتا ہے یہ اسی صورت ممکن ہے جب ایک دوسرے کا مؤقف سنا جائے اور فیصلے باہمی مشاورت سے وسیع تر قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کئے جائیں پیش نظر رکھنا ہوگا کہ ملک کو اقتصادی شعبے میں بھی شدید دشواریوں کا سامنا ہے ان دشواریوں کے اثرات عوام کیلئے بھی پریشان کن ہیں اصلاح احوال کیلئے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ سرمایہ کاری بھی ناگزیر ہے اس سب کیلئے امن اور سیاسی استحکام کی ضرورت پڑتی ہے اے پی سی اور اس طرح کے مختلف معاملات پر مل بیٹھ کر بات کرنا اس پورے منظرنامے میں پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔