درپیش منظرنامے کا احساس ضروری ہے

ملک میں امن وامان کی صورتحال خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں درپیش حالات قابل توجہ ہیں دوسری جانب وطن عزیز کو اقتصادی شعبے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اس ساری صورتحال میں قابل توجہ یہ بھی ہے کہ ملک میں عام شہری کمر توڑ مہنگائی کیساتھ متعدد دیگر سیکٹرز میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے‘ ایسے وقت میں جبکہ ضرورت قومی قیادت کے مل بیٹھ کر حکمت عملی ترتیب دینے کی ہے تو سیاست کے میدان میں تناؤ اور کشمکش کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا اس سلسلے میں ایک دوسرے کے خلاف بیانات کی بوچھاڑ جاری ہی رہتی ہے امن وامان کی صورتحال میں گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں افغانستان سے درانداز ی کی کوشش ہوئی جسے ناکام بنادیاگیا پاک فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ افغانستان کی حکومت دہشت گردوں کو روکے اور یہ کہ ہمسایہ ملک دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کرنے سے بازرکھے۔اقتصادی سیکٹر میں درپیش مشکلات کے حل کیلئے حسب سابق قرضوں پر ہی انحصار کا سلسلہ جاری ہے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے نئی قسط کیلئے مذاکرات ہو رہے ہیں اس بات چیت میں پہلے یہ کہا گیا کہ آئی ایم ایف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی درخواست پر پراپرٹی کی خریداری میں عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں 2فیصد جزوی رعایت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم پیر کے روز عالمی مالیاتی ادارے نے جائیداد کی لین دین میں ٹیکس کی شرح کم کرنے سے انکار کردیا ہے دریں اثناء بینک دولت پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر تسلی بخش سطح سے بھی نتیجے پہنچ چکے ہیں بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے8ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع اور ڈیویڈنڈر کا اخراج دوگنا سے بھی زیادہ ہوا ہے‘ زیادہ منافع کا اخراج گو کہ پابندیوں میں آسانی کی علامت ہے لیکن اس میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئی اور وہ تسلی بخش  سطح سے بھی نیچے رہے ہیں درپیش صورتحال جو مختلف سیکٹرز میں ہے اور اس سے عوام بھی متاثر ہے‘ متقاضی ہے کہ قومی قیادت کم از کم اہم معاملات پر باہمی مشاورت سے فیصلے کرے اس کیلئے سب جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔