انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی درخواست پر وطن عزیز میں پراپرٹی کی خریداری پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں 2فیصد کی جزوی رعایت دینے پر اصولی رضا مندی ظاہر کردی ہے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق پراپرٹی کے لین دین میں فروخت کنندہ کیلئے ٹیکس کی شرح برقرار رہے گی آئی ایم ایف حکام کے ساتھ ورچوئل مذاکرات سے متعلق رپورٹس میں یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے نے ٹیکس کے ہدف میں بھی60 ارب روپے کمی پر اتفاق کرلیا ہے جبکہ بتایا یہ بھی جارہا ہے کہ پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کیلئے بینکوں سے1257 ارب روپے لینے کی اجازت بھی مل رہی ہے اس سب کیساتھ پاکستان کو نئی کڑی شرائط کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے اس ضمن میں بتایا جارہا ہے کہ پاکستان کو نئے مالیاتی اہداف ملنے کا خدشہ ہے وطن عزیز کی معیشت ایک عرصے سے قرضوں پر بڑا انحصار کئے ہوئے ہے ایک کے بعد دوسری برسراقتدار آنے والی حکومت اپنی ساری کوششیں قرضوں کے حصول پرہی صرف کرتی دکھائی دیتی ہیں معیشت کی اس حالت کاذمہ دار بھی ایک دوسرے کو ٹھہرایا جاتا ہے ذمہ دار سرکاری دفاتر اپنی ساری صلاحیتیں قرضوں کیلئے مذاکرات اور ان مذاکرات میں سامنے آنے والی شرائط پر عملدرآمد کیلئے ہی وقف کئے ہوئے ہیں ہر نئے قرضے کیلئے عائد ہونے والی شرائط کا لوڈ عوام پر ہی ڈالا جاتا ہے اس سارے منظرنامے میں غریب عوام کو کمر توڑ مہنگائی کا سامنا کرنا پڑرہاہے غریب صارف بجلی اور گیس کے بل بھی قرضے دینے والوں کی کڑی شرائط کے تحت ادا کرنے کے پابند ہیں وقت کا تقاضہ ہے کہ اب سارے وسائل اور صلاحیتیں قرضوں کے حصول کیلئے جاری کوششوں کی بجائے قرضوں پر سے انحصار ختم کرنے پر صرف ہوں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ برسوں کا بگاڑ سنوارنے میں وقت لگتا ہے تاہم اگر اصلاح احوال کے عمل کو درست ٹریک پر ڈال دیا جائے تو آنے والے وقتوں میں بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں خودوزیراعظم شہبازشریف بھی گزشتہ روز ایف بی آر میں اصلاحات سے متعلق کہہ چکے ہیں کہ دہائیوں کی خرابیوں کو مل بیٹھ کر ٹھیک کرنا ہوگا اسی طرح ضرورت ہے کہ اکانومی کے حوالے سے بھی مل بیٹھ کر حکمت عملی ترتیب دی جائے تاکہ حکومتی کوششیں ثمر آور نتائج کی جانب بڑھ سکیں۔
