مالی سال2025-26ء کا قومی میزانیہ تیاری کے مراحل میں ہے‘ بجٹ ایک ایسے وقت میں تیار ہو رہا ہے جبکہ ملک کو اقتصادی شعبے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے بیرونی قرضوں کیلئے کڑی شرائط پر عملدرآمد مجبوری کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے ان شرائط پر عملدرآمد کا بوجھ غریب عوام ہی کو برداشت کرنا پڑرہاہے گرانی نے غریب شہریوں کی کمر توڑ رکھی ہے اس سارے منظرنامے میں آنے والے بجٹ سے پہلے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں کوئی اضافہ زیر غور ہی نہیں وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ الاؤنسز اور پے سکیل پر نظرثانی کا بھی کوئی امکان نہیں جبکہ ہائرنگ‘سیلنگ بڑھانے کا جائزہ لیا جارہاہے وزارت خزانہ اس بیان کے مندرجات سے متعلق یہ کہہ رہی ہے کہ وزیر خزانہ نے اس طرح کا کوئی بیان دیا ہی نہیں یہ درست ہے کہ ملک کی اقتصادی صورتحال سے متعلق اعدادوشمار انتہائی تشویشناک ہیں ذمہ دار دفاتر کا کہنا ہے کہ صرف غیر ملکی قرضے کا والیوم126ارب14کروڑ ڈالر ہے یہ اعدادوشمار جون2023ء تک کے بتائے جارہے ہیں‘ ان اعدادوشمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ قرضہ مجموعی قومی پیداوار کا43.03 فیصد ہے جہاں تک قرضوں کی اقساط واپس کرنے کا معاملہ ہے تو اس ضمن میں 2024ء کے اعدادوشمار دیکھے جائیں تو پاکستان نے11ہزار475 ملین ڈالر کا غیر ملکی قرضہ واپس کیا ہے قرضوں کا چیپٹر یہاں ختم نہیں ہو رہا وقت کیساتھ ان کا والیوم مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے ذمہ دار دفاتر کی ساری توجہ قرضوں کے حصول کیلئے مذاکرات اور ان میں قرض دینے والوں کی شرائط پر عملدرآمد یقینی بنانے پر ہی رہتی ہے ان شرائط کا بوجھ غریب عوام پر ہی پڑتا ہے بیرونی قرضوں کیساتھ اندرونی اور گردشی قرضے اپنی جگہ ہیں جن کے حجم میں بھی وقت کیساتھ مسلسل اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے‘ درپیش حالات میں ماضی قریب کے متعدد ادارے جو کہ ملکی آمدنی میں بڑا حصہ ڈالتے رہے ہیں آج تنخواہوں کی ادائیگی تک نہیں کر پا رہے معیشت کیلئے بوجھ کی صورت اختیار کرنے والے اداروں پر برائے فروخت کے بورڈ لگائے گئے ہیں‘ اس ساری صورتحال کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرنے کی بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ اب بعدازخرابی بسیار سہی اصلاح احوال کی جانب بڑھا جائے وزیراعظم شہبازشریف اصلاح احوال کیلئے اقدامات کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتے ہیں ضرورت اس سارے عمل میں وسیع مشاورت کی ہے کہ جس میں پوری قومی قیادت کو بھی شریک کیا جائے تاکہ پائیدار حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔
