وزیراعظم شہبازشریف کی ایڈوائس پر سپیکر قومی اسمبلی نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے یہ اجلاس تادم تحریر جاری شیڈول کے مطابق آج ہوگا اس ضمن میں جاری اعلامیے کے مندرجات میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس ان کیمرہ ہوگا جس میں سکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی وطن عزیز میں امن وامان کی صورتحال پریشان کن صورت اختیار کئے ہوئے ہے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز افسوسناک واقعات کا سلسلہ جاری ہے اس پریشان کن منظرنامے میں ضرورت ایک متفقہ حکمت عملی کی ہے کہ جس کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی اہمیت کا حامل ہے اہمیت کی حامل بات یہ بھی ہے کہ اس وقت میں جب ملک کو امن و امان کے ساتھ معیشت کے شعبے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے قومی قیادت مل بیٹھ کر پائیدار حکمت عملی ترتیب دے اس ضمن میں گزشتہ دنوں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی بات بھی ہوئی تھی وزیراعظم کی جانب سے اس ضمن میں آنے والے عندیے سے یہ اطمینان دیکھا گیا کہ کم از کم اہم امور پر مل بیٹھ کر فیصلے ہونگے‘ وطن عزیز میں سیاسی گرماگرمی کے ساتھ اہم قومی معاملات پر اے پی سی یا پھر ماضی کی گول میز کانفرنسوں کا انعقاد معمول کاحصہ رہا ہے‘ اس وقت مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ درپیش حالات میں امن وامان کی صورتحال میں بھی عوام پریشان ہے جبکہ اکانومی کے سیکٹر میں سخت مشکلات کا نتیجہ بھی عوام ہی کو کمر توڑ مہنگائی کی صورت برداشت کرنا پڑ رہاہے اس وقت عام شہری کیلئے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا دشوار ہے‘ مارکیٹ کنٹرول کا موثرانتظام نہ ہونے کے باعث مصنوعی مہنگائی نے بھی اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں بنیادی شہری سہولیات کا فقدان ہے جبکہ خدمات کے معیار سے عام شہری کم ہی مطمئن دکھائی دیتا ہے توانائی کا بحران اپنی جگہ ہے جبکہ انڈس ریورسسٹم اتھارٹی نے پانی کی کمی سے متعلق بھی خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ملک میں آبی ذخائر کی ضرورت کا احساس اب بھی نہ کیا گیا تو نہ صرف توانائی بحران شدت اختیار کرے گا اور سستی پن بجلی کا حصول متاثر ہوگا بلکہ وسیع بنجر اراضی کو سیراب کرنے کا انتظام بھی نہیں ہو پائے گا‘ قابل توجہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کے پاس نہری نظام بڑے نیٹ ورک کی صورت موجود ہے اس کے باوجود ہمارے درآمدی بل میں ایک بڑا حصہ زرعی اجناس کا بھی ہے حالانکہ چاہئے تو یہ کہ ہم یہ اجناس خود ایکسپورٹ کریں بجائے اس کے کہ ہمارا زرمبادلہ اس امپورٹ پر خرچ ہو درپیش اہم چیلنج متقاضی ہیں اس بات کے کہ قومی قیادت مختلف فورمز پر مل بیٹھ کر حکمت عملی ترتیب دے۔
